اتوار , 19 اگست 2018

سعودی ولی عہد خودکشی پر آمادہ؟

(مالک اشتر ، دہلی)
ایسا کرتے ہیں، تھوڑی دیر کو مان لیتے ہیں کہ جو کچھ کہا گیا وہی صحیح ہے۔ اس رات سعودی عرب کی راجدھانی ریاض میں شاہی محل کے آس پاس ایک چھوٹا سا ڈرون ہی پرواز کر رہا تھا جس کو مار گرانے کے لئے توپ خانے میں ہلچل مچی۔ پھر بھی وہ رات سعودی عرب کے مستقبل کے حوالے سے بہت سے سوالات کھڑےکرکے رخصت ہوئی۔ وہاں واقعی کوئی ڈرون پرواز کر رہا تھا یا پھر کوئی اور ہی داستان لکھے جانے کو تھی یہ ہم شاید کبھی نہ جان سکیں۔

حالات پر میرے جیسی سطحی نظر رکھنے والابھی جانتا ہے کہ سعودی عرب سے کوئی بھی خبر اسی انداز میں دنیا تک پہنچتی ہے جیسے وہاں کی حکومت چاہتی ہے۔ ہم لاکھ شک کے گھوڑے دوڑائیں لیکن ہمارے پاس یہ قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں کہ سوشل میڈیا پر ریاض کے شاہی محل کے آس پاس زبردست گولی باری کی جو ویڈیو شیئر کی گئیں وہ فائرنگ ایک کھلونے ڈرون کو مار گرانے کے لئے ہی ہو رہی تھی۔ وہ معاملہ تو ختم ہو گیا لیکن سعودی عرب میں برپا اتھل پتھل تھم جائے گی اس کا امکان کم ہے۔ سعودی عرب جس راستے پر چل پڑا ہے اس پر کسی بھی واردات کا ہونا تعجب کی بات نہیں۔ آئیے ذرا ٹھہر کر جائزہ لیں کہ سعودی عرب میں یہ خاموش ہلچل کیوں مچی ہوئی ہے؟

ولی عہد محمد بن سلمان چاہتے ہیں کہ ملک کے جسم کی ہی پلاسٹک سرجری نہیں کی جائے بلکہ روح بھی تبدیل کر دی جائے۔ دنیا بھر میں پیوندکاری کی تاریخ پڑھ لیجئیے، مصنوعی اعضاء لگائے جا سکتے ہیں، کالی رنگت کو گورا کیا جا سکتا ہے، چربی گھٹائی جا سکتی ہے حتیٰ کہ پلاسٹک سرجری کرکے پوری شکل تبدیل کی جا سکتی ہے لیکن روح تبدیل کرنا اب تک ممکن نہیں ہو سکا۔ کیا ولی عہد محمد بن سلمان یہ ناممکن کام کر سکیں گے؟ وقت بتائے گا۔ میری کیا حیثیت کہ اتنی بڑی مملکت کے ولی عہد کو مشورہ دوں لیکن اگر موقع ملے تو انہیں بالی ووڈ فلم کا ایک ڈائیلاگ سنانا چاہوں گا۔ فلم ونس اپون اے ٹائم ان ممبئی میں کنگنا راناوت نے کس ادا سے کیا خوبصورت بات کہی تھی کہ جلد باز آدمی منہ بھی جلا لیتا ہے اور کھانے کا ذائقہ بھی نہیں لے پاتا۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے جب سعودی معیشت کا انحصار تیل پر کم کرنے کی بات کہی اس وقت کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ وہ ملک میں جس تبدیلی کی بات کر رہے ہیں وہ محض اقتصادی نہیں بلکہ فکری نوعیت کی بھی ہوں گی۔ تبدیلی کے اس عمل میں کئی ایسے مراحل آئے ہیں جنہوں نے سعودی عرب کو اس کی تاریخ کے نازک ترین موڑ تک پہنچا دیا ہے۔ ان میں کلیدی مرحلہ خود محمد بن سلمان کو اقتدار تک پہنچانے کی زور آزمائی تھا۔ جس طرح پہلے انہیں نائب ولی عہد اور پھر ولی عہد بنایا گیا اسے تاج کے دعویدار آسانی سے قبول کر لیں، یہ مشکل ہی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے ملک میں جہاں ولی عہد کو بادشاہ بننے کے لئے پچاس ساٹھ برس انتظار کرنا پڑتا ہو، ایسے میں ایک نوجوان شہزادے کا ایک ڈگ بھر کر تاج تک جا پہنچناسینکڑوں شہزادوں پر کیسا شاق گزرا ہوگا اس کا بس اندازہ ہی لگایا جا سکتا ہے۔

رہی سہی کسر خود ولی عہد کے جوشیلے بیانات پوری کر دیتے ہیں، مثلا گذشتہ دنوں ان کے حوالے سے یہ بیان پڑھا گیا کہ اب بس موت ہی ان کو بادشاہ بننے سے روک سکتی ہے۔ آپ اور ہم کہنے والوں کی کہاں تک زبان پکڑ سکتے ہیں، کہا تو یہ تک گیا کہ بدعنوانی کے خلاف مہم کے نام پر شہزادوں کی گرفتاری اور ان کو اپنی دولت کا بڑا حصہ بطور جرمانہ ادا کرنے پر مجبور کرنا یہ سب دراصل بادشاہت کے دعویدار شہزادوں کے ہاتھ کاٹنے کی مہم کا حصہ تھا۔ ذرا تصور کیجئے کہ ولید بن طلال جیسا دنیا کا امیر ترین شہزادہ گرفتار ہوا، حراست کے دوران کئی راتیں زمین پر سلایا گیا، ولید بن طلال اور دیگر شہزادوں کی زمین پر سوتے ہوئے تصاویر شائع ہوئیں اور پھر ولید بن طلال کو اپنی دولت کا بڑا حصہ جرمانہ کے طور پر دینے پر راضی ہونا پڑا، گویا ولید بن طلال نے بے ایمانی کا اقبال جرم کر لیا۔ اس واقعہ کے بعد شاہی محل کے نزدیک رات کے اندھیرے میں گھمسان کی فائرنگ سنی جائے تو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔

بہار عرب کے بعد دنیا کی کئی آمریتیں ہل گئیں لیکن سعودی عرب بچ نکلا۔ صاحبان نظر بتاتے ہیں کہ سعودی حکومت اور مذہبی قیادت کے درمیان غیر معمولی ہم آہنگی اس کا سبب ہے۔ سعودی بادشاہت نے پہلے دن سے خیال رکھا ہے کہ اس کے کسی بھی عمل سے سلفی مکتب فکر کی مذہبی قیادت کی پیشانی پر بل نہ پڑیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں پھیلے اہل حدیث یا سلفی مسلک کے علماء سعودی عرب کی پالیسیوں کا جم کر دفاع کرتے آئے ہیں۔ سعودی کی خاطر جھگڑے مول لینے والے ان سلفی یا اہل حدیث افراد کو جب ولی عہد کا یہ بیان سننے کو ملا ہوگا کہ سعودی عرب معتدل اسلام کی طرف واپس لوٹے گا تو ان پر کیا اثر پڑا ہوگا؟بشکریہ مشرق نیوز

یہ بھی دیکھیں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں

وزیراعظم عمران خان کی حلف برداری کی تصویری جھلکیاں