اتوار , 27 مئی 2018

جوہری معاہدے سے دستبرداری ،ٹرمپ کے 5جھوٹ

(تسنیم خیالی)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ن 8مئی کو اپنے ایک خاص خطاب کے دوران جوہری معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلا ن کیا تھا اس اعلان کے بعد ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امریکی صدر نے اپنے خطاب کے دوران ایران کے حوالے سے 10جھوٹ بولے اور آج خود امریکہ میں ہی شائع ہونے والے مشہور اخبار ’’نیویارک ٹائمز‘‘ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے خطاب میں ایران کے حوالے سے 5جھوٹ بولے، اس حوالے سے اخبار کی رپورٹ میں کہا ہے کہ ٹرمپ نے دنیا کو دھوکہ دینے کےلئے جوہری معاہدے سے دستبرداری کی تقریر میں ایران کے متعلق 5جھوٹ بولےتھے۔
پہلا جھوٹ:
ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنے دفاعی بجٹ میں جوہری معاہدے کی منظوری کے بعد 40 فیصد اضافہ کیا ہے اور یہ جھوٹ ٹرمپ نے 2مرتبہ بولا ایک اپنی تقریر کے دوران جس میں معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری کا اعلان کیا گیا اور دوسرا گزشتہ ہفتے کے روز ، اخبار کے مطابق ’’سٹاکہولم انسٹیٹیوٹ فار پیس‘‘ کے اعداد وشمار کے مطابق ایران نے گزشتہ 3سالوں (یعنی 2015ء میں معاہدے کی منظوری سے اب تک) میں اپنے دفاعی بجٹ میں 30فیصد اضافہ کیا ہے جبکہ ٹرمپ دعویٰ 40 فیصد کا کررہے ہیں جو کہ واضح جھوٹ ہے۔
دوسرا جھوٹ:
ٹرمپ کا ایران کے حوالے سے دوسرا جھوٹ یہ تھا کہ جوہری معاہدہ ایران کو یورینیم کی افزائش بڑے پیمانے پر کرنے کی اجازت دیتا ہے جس سے ایران جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے جوہری معاہدہ ایران کی طرف سے یورینیم کی افزائش پر کڑی پابندیاں عائد کرتے ہوئے اسے محدود کردیتا ہے ، اس بات کا اندازہ آپ یوں لگا سکتے ہیں کہ معاہدے کی منظوری کے 15 سال بعد بھی ایران کے پاس جوہری ہتھیاروں میں استعمال ہونے والے یورینیم کی مقدار اتنی بھی نہیں ہو گی جس سے وہ ایک میزائل بھی تیار کرسکے۔
تیسرا جھوٹ:
ٹرمپ کا تیسرا جھوٹ یہ تھا کہ ایران نے معاہدے پر دستخط کرنے کے بعد بیرون ملک اپنے منجمد اثاثوں کی مد میں 150ارب ڈالر حاصل کیے تھے جو کہ بالکل جھوٹا دعویٰ ہے اور یہ جھوٹ ٹرمپ نے گزشتہ مہینوں میں بیسویں مرتبہ دہرایا ، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ایران کو صرف 100 ارب ڈالر واپس لینے کی اجازت دی گئی تھی جوکہ بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا ہی حصہ تھا اور ایران نے اب تک اس رقم کا آدھا حصہ خرچ کیا ہے اور یہ پیسہ ایران کی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا حصہ ہے ناکہ امریکی ٹیکس کا جس طرح ٹرمپ دعویٰ کررہے ہیں ۔
چوتھا جھوٹ:
ٹرمپ کا چوتھا جھوٹ یہ ہے کہ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ایران اگر جوہری معاہدے پر پوری طرح سے عمل بھی کرلے تب بھی وہ بہت ہی کم وقت میں جوہری ہتھیار تیار کرسکتا ہے، ٹرمپ کا یہ دعویٰ اس طرح جھوٹا ہے کہ اگر ایران جوہری معاہدے پر دستخط نہ کرتا تو ایران ہر تین ماہ میں ایک جوہری میزائل تیار کرنے کے قابل ہوتا مگر معاہدے پر دستخط کرکے بعد ایران ہرایک سال میں ایک جوہری میزائل تیار کرسکے گا۔
پانچواں جھوٹ:
ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران عسکری جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرنے کے درپے ہے اور اس جھوٹ کو ثابت کرنے کےلئے ٹرمپ نے اپنی ہی طرح کے ایک جھوٹےکا سہارا لیا، ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی طرف سے پچھلے ہفتے پیش کی جانے والی دستاویزات کا سہارا لیا جو بقول نیتن یاہو کے ایران سے انٹیلی جنس آپریشن کے ذریعے حاصل کی گئ ،قابل غور بات یہ ہے کہ یہی دستاویزات ایران نے کافی عرصہ قبل ’’عالمی ادارہ برائے نیوکلیائی توانائی‘‘ کو پیش کی تھی جن تک کسی کو بھی با آسانی رسائی حاصل ہے ،ٹرمپ کا یہ دعویٰ اس لئے جھوٹا ہے کہ نتین یاہو اپنے ان الزامات کو ثابت نہیں کر پائے اور امریکی انٹیلی جنس ادارے (cia) نے بھی 2007ء میں تیار کی گئی اپنی ایک رپورٹ میں واضح طور پر کہا کہ ایران جوہری ہتھیار بنانے کی تمام سرگرمیاں بند کرچکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ نیتن یاہو جھوٹا ڈرامہ کررہے تھے تاکہ ٹرمپ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوجائے۔

یہ بھی دیکھیں

ڈیوڈ فریڈ مین سفیرکی شکل میں صہیونی پروگرام کا ایجنٹ!

اسرائیل کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایک متنازع تصویر گردش کررہی ہے جس میں ...