بدھ , 15 اگست 2018

مصری صحافی کا سعودیوں کو موزوں جواب

(تسنیم خیالی)

سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرلیتا ہے تو سعودی عرب بھی بہت جلد حاصل کرلےگا، بن سلمان کے بعد سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے بھی متعدد مرتبہ بن سلمان کی بات دہرائی اور ’’بہت جلد‘‘ ایٹمی پاور بننے کی دھمکی دی ،ویسے تو عقلمند اور سمجھدار لوگوں کو سعودی عہدیداروں پر ہنسی ضرور آتی ہوگی مگر ایک مصری صحافی اور تجزیہ نگار نےسعودیوں کو انتہائی موزوںاور منطقی جواب دیا ہے ،سامح عسکرنامی صحافی اور تجزیہ نگار نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’جوہری ہتھیار خواتین کےلیے نہیں مردوں،

کےلئے ہے، غلام کےلئے نہیں آزاد کےلئے ہے، علم رکھنے والوں کےلئے ہے، جاہلوں کےلئے نہیں، بنانے والوں کےلئے ہے استعمال کرنے والوں کےلیے نہیں، سیاسی حکمت رکھنے والوں کےلئے ہے سیاسی احمقوں کےلئے نہیں ‘‘ عسکر نے اپنے اس ٹویٹ میں سعودی حکام کا اصل چہرہ فاش کرکے واضح طور پر بتا دیا ہے کہ سعودی عرب کیوں آج تک جوہری ہتھیار نہیں بن سکا۔عسکر نے سعودی حکام کو خواتین قرار دیا اور حقیقت میں بھی بات کچھ یوں ہی ہے، سعودی حکام کا مشرق وسطی میں کردار محلے کی اس خاتون کی طرح ہے جو لوگوں کے گھرتباہ کرنے کےلئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتی ہیں اور اسی،

طرح سعودی عرب نے علاقے میں موجود دیگر متعدد ممالک کو تباہ کردیا اور جب کوئی سعودی عرب کے خلاف اُٹھ کھڑا ہوتا ہے تو سعودی حکام چیختے چلاتے ہوئے امریکہ سے مدد مانگتے ہیں ، غلام اور آزاد سے مراد بات کی جائے تو سعودی عرب اب تک مغرب کی غلامی سے نہیں نکل پایا ،وہ آج بھی اپنے مغربی آقاؤں کے حکم کے منتظر رہتے ہیں، واقعی جوہری ہتھیار علم رکھنے والوں کےلیے ہے اور سعودی حکام جاہلوں کا ایک ٹولہ جس کے پاس جوہری ہتھیار موجود ہونے سےدنیا بھر کو خطرہ حاصل ہوسکتا ہے بنانے اور استعمال کرنے والوں سے مراد یہ ہے کہ سعودی عرب کے لوگ انتہائی سست اور نالائق ہوتے ہیں جو،

کھانے پینے کے علاوہ اور کچھ نہیں جانتے اور ان کا سائنس اور علم سے دور دور کا واسطہ نہیں اور بنانے والے کےلئے علم کی ضرورت ہوتی ہے، خیر عسکر نے تو اپنے اس ٹویٹ میں سعودی حکمرانوں کی خوب دھلائی کی، اس کے بعد عسکر نے ایک ٹویٹ میں کہا ’’جوہری ہتھیار قانونی اور اخلاقی طور پر ممنوع ہے اور اسے حاصل کرنے کےلئے تین شرائط کو پورا کرنا ضروری ہے پہلی شرط یہ ہے کہ آپ نے عالمی برادری کو چیلنج کرتے ہوئے اپنے زور اور بل بوتے پر اسے حاصل کرنا ہے اور آل سعودی کمزور ہیں اور ایسا کبھی نہیںکر پائیں گے ، دوسری شرط یہ ہے کہ جوہری ہتھیار بنانے والا ملک ٹیکنالوجی اور سائنسی،

انفراسٹریکچر میں آگے ہونا چاہیے اور سعودی عرب میں یہ بات نہیں یہ جاہل ملک ہے، اور تیسری شرط یہ ہے کہ سعودی عرب کو یہ ضمانت دینی ہوگی کہ اس کا جوہری ہتھیار اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہوگا، یہ شرط بظاہر تو سعودی عرب پوری کرسکتا ہے البتہ مسئلہ یہ ہے کہ سعودی عرب اندرونی طور پر غیر مستحکم ہے اور کس بھی وقت حکومت بدل سکتی ہے، عسکر نے سعودی عرب اور آل سعود کے بارے میں جو کچھ کہا وہ صحیح ہے ،سعودی عرب اس قابل ہی نہیں کہ وہ ایٹمی پاور بن سکے، لہٰذا سعودی حکام ایسے بیانات دینے سے باز رہیں جو اس کی بے عزتی کا باعث بنے۔

یہ بھی دیکھیں

بے دخلی کی سیاست، مرابطین کو قبلہ اول سے محروم کرنے کی سازش!

قابض صہیونی مسجد اقصیٰ کا ہرطرف سے گھیراؤ کرنے اور مقدس مقام کو اہالیان فلسطین ...