بدھ , 15 اگست 2018

فلسطینیوں کا قتل عام کرنیوالے اسرائیل کے ہاتھ کون روکے گا؟

ٹرمپ انتظامیہ نے اسرائیل کیلئے اپنا سفارتخانہ مسلمانوں کے قبلۂ اول بیت المقدس منتقل کرنے کے اپنے 6؍ دسمبر 2017ء کے فیصلہ پر عملدرآمد کرتے ہوئے پیر کے روز امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کردیا جبکہ اس موقع پر اسرائیلی فورسز نے غزہ کی سرحد پر پرامن مظاہرہ کرنیوالے نہتے فلسطینیوں پر بے دریغ فائر کھول دیئے جس کے باعث 62 فلسطینی شہید اور تین ہزار کے قریب زخمی ہوگئے۔ شہید ہونیوالوں میں 16 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ 35 ہزار فلسطینی حفاظتی باڑ پر پرتشدد مظاہروں میں شریک تھے‘ ان میں سے سینکڑوں مظاہرین غزہ پٹی پر خاردار تار کاٹ کر اسرائیل کے اندر داخل ہوگئے جنہیں روکنے کیلئے فائرنگ کی گئی۔ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ آج جشن کا موقع ہے‘ دوسرے ممالک بھی امریکہ کی پیروی کریں اور اپنے سفارتخانے بیت المقدس منتقل کردیں کیونکہ یہ درست عمل ہے اور اس سے امن قائم ہوگا۔ دوسری جانب فلسطین کے صدر محمود عباس نے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے فیصلہ کو صدی کا سب سے بڑا تھپڑ قرار دیا اور کہا کہ امریکہ نے امن عمل میں اپنا کردار منسوخ کردیا ہے۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے فلسطینی عوام اور عرب دنیا کی اجتماعی بے عزتی ہوئی ہے۔ اسی طرح یورپی یونین نے بھی امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے پر سخت اعتراض اٹھایا ہے جبکہ ترکی اور جنوبی افریقہ نے اس امریکی اقدام کیخلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفیر واپس بلالئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی کے دن کو اسرائیل کیلئے بڑا دن قرار دیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی کے حوالے سے منعقد ہونیوالی افتتاحی تقریب میں غیرملکی سفیروں نے عدم دلچسپی کا اظہار کیا۔ اسرائیل نے 86 ممالک کے سفیروں کو اس تقریب میں مدعو کیا تھا جن میں سے صرف 33 ممالک کے سفیروں نے شرکت کی اور 53 سفیر شریک نہیں ہوئے۔ ٹرمپ کی بیٹی ایوانکا اس تقریب میں مہمان خصوصی تھیں جبکہ ٹرمپ کے داماد اور انکے مشیر جیرڈ کوشنر کے علاوہ امریکی وزیر خزانہ اور نائب وزیر خارجہ نے بھی اس تقریب میں شرکت کی اور ٹرمپ نے ویڈیو لنک کے ذریعے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مشرقِ وسطیٰ میں امن کے عزم پر قائم ہیں۔ ترجمان وائٹ ہائوس کے مطابق اسرائیل کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ علاوہ ازیں کویت نے امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی کے اقدام پر یواین سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا تقاضا کیا ہے جبکہ برطانوی وزیراعظم تھریسامے نے غزہ میں تشدد اور اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں پر فائرنگ کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

امریکہ نے اگرچہ اسرائیل کو 70 سال قبل ایک آزاد اور خودمختار ملک کے طور پر تسلیم کیا تھا مگر اسکے کسی حکمران کو اسرائیل کیلئے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا کبھی اعلان کرنے کی بھی جرأت نہیں ہوسکی تھی جبکہ امریکہ سمیت تمام ممالک کے سفارتخانے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب ہی میں قائم رہے۔ یہ کریڈٹ یا ڈس کریڈٹ امریکی ری پبلکنز ڈونلڈ ٹرمپ کو ہی حاصل ہوا ہے کہ انہوں نے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کا محض اعلان ہی نہیں کیا‘ اس پر گزشتہ روز عمل بھی کردکھایا جبکہ انکی آشیرباد سے اسرائیلی فوج نے غزہ پٹی کو فلسطینیوں کیلئے مقتل گاہ بنا دیا۔ اس پر مسلم دنیا بالخصوص عرب دنیا کی جانب سے کوئی بڑا ردعمل نہ آنا امریکی سفارتخانہ کی بیت المقدس منتقلی سے بھی بڑا سانحہ ہے۔ گزشتہ روز سعودی وزیر خارجہ نے اسرائیلی فوج کے ہاتھوں فلسطینیوں کی شہادتوں پر تو افسوس کا اظہار کیا مگر اسرائیل کیلئے امریکی سفارتخانہ کی مسلمانوں کے قبلۂ اول منتقلی کے اقدام پر مکمل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ اگر مسلم دنیا میں سے کسی کا ٹھوس ردعمل سامنے آیا ہے تو وہ صرف فلسطین‘ کویت‘ ایران اور ترکی ہیں۔ فلسطینی صدر نے مسلم امہ کو درپیش آنیوالے اس سانحہ پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے ٹرمپ کے اس اقدام کو فلسطین کو دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل بنانے کے مترادف قرار دیا ہے اور دنیا کو باور کرایا ہے کہ ماہ مارچ سے اب تک فلسطین میں 91 بے گناہ افراد اسرائیلی فائرنگ سے شہید ہوچکے ہیں۔ ترک صدر اردوان نے متذکرہ امریکی اقدام پر اپنا سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں ثالث کا کردار کھو دیا ہے۔

دفتر خارجہ پاکستان کی طرف سے امریکی سفارتخانہ کی تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے اقدام پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے صریحاً منافی قرار دیا اور اس امر کا تقاضا کیا کہ دو ریاستی حل کے تحت آزاد فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔ گزشتہ روز قومی اسمبلی میں بھی امریکی سفارتخانہ کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی اور نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد کیخلاف مذمتی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی جو وزیر مملکت برائے خزانہ رانا محمود افضل خاں نے پیش کی۔ بدقسمتی سے مسلم دنیا کو یہ سیاہ دن اپنی بے عملی کے باعث ہی دیکھنا پڑا ہے جبکہ اپنے مفادات کے اسیر مسلم دنیا کے اکثر حکمران مسلم دنیا کیلئے ہزیمتوں کا باعث بننے والے امریکی اقدامات اور فیصلوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگر محض رسمی مذمتوں اور اظہار تاسف سے مسلم دنیا کو کمزور کرنے کی اسلام دشمن طاغوتی طاقتوں کی سازشوں کا تدارک ہو سکتا تو اپنی آزادی کی لگن میں غاصب فوجوں کے آگے سینے تان کر کھڑے ہونیوالے فلسطینی اور کشمیری عوام کے 70 سال سے جاری قتل عام کی نوبت کیوں آتی اور روہنگیا مسلمانوں کیلئے میانمار (برما) کی دھرتی مقتل میں کیوں تبدیل ہوتی۔ امریکی صدر ٹرمپ نے تو اس حوالے سے مسلم دنیا کے انتشار سے خوب فائدہ اٹھایا ہے اور بھارت اور اسرائیل کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے مشرق وسطیٰ اور برصغیر کے مسلم ممالک کو راندۂ درگاہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ ٹرمپ جو کہتے ہیں‘ اس پر عمل کر دکھانے کیلئے انہیں تقویت بھی مسلم دنیا سے حاصل ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ اپنی انتہاء پسندانہ سوچ اور پالیسیوں کے باوجود ایک مدبر عالمی قائد کے طور پر ابھر رہے ہیں جو بھارت کا حوصلہ بڑھاتے ہیں‘ اسرائیل کی پشت پناہی کرتے ہیں اور اس حوالے سے علاقائی اور عالمی امن کیلئے لاحق ہونیوالے خطرات پر مغربی‘ یورپی دنیا کی تشویش کو بھی درخوراعتناء نہیں سمجھتے جبکہ اسی ماحول میں وہ ہائیڈروجن بم سے بھی آگے کی ایٹمی ٹیکنالوجی حاصل کرنیوالے شمالی کوریا کے صدر کو انکے ملک کیلئے کسی بڑے سنگین خطرے کی دھمکی دے کر رام کرلیتے ہیں اور انہیں اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرنے کے اعلان پر مجبور کردیتے ہیں۔ ہمارے خطے میں وہ ایران اور پاکستان کو آنکھیں دکھانے میں کسی تردد کا بھی مظاہرہ نہیں کرتے کیونکہ ہمارے اپنوں کی سازشوں نے ہمیں اتنا بے بس و مجبور کردیا ہے کہ اپنی سلامتی و خودمختاری کے منافی امریکی اقدامات اور فیصلے قبول کرنا بھی ہماری مجبوری بن چکا ہے جبکہ ایران پر اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کی صورت میں اس کیلئے چاہ بہار پورٹ کی تکمیل بھی ناممکن ہوجاتی ہے تو اقوام عالم میں تنہائی کو اپنا مقدر بنتے دیکھ کر اسکے ہوش بھی ٹرمپ کی حکمت عملی کے عین مطابق ٹھکانے پر آسکتے ہیں۔

عرب دنیا کی اکثریت تو ویسے ہی اپنے سارے مفادات امریکہ کے ساتھ منسلک کرچکی ہے۔ اس صورتحال میں ری پبلکن ٹرمپ کی جانب سے امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کرنے کے معاملہ میں ’’ٹرمپ جو کہتا ہے‘ کرکے دکھاتا ہے‘‘ کا دعویٰ کرنے کی سہولت ملتی ہے تو یہ بالخصوص مسلم دنیاکی قیادتوں کیلئے لمحۂ فکریہ ہے کہ کہیں ٹرمپ کی ساری ہمت انہی کی فراہم کردہ تو نہیں۔ اگر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے 6؍ دسمبر 2017ء کے اعلان پر ہی مسلم دنیا کے قائدین محض رسمی مذمتوں سے باہر نکل کر عملیت پسندی کے راستے پر آجاتے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے احیاء کیلئے کچھ تردد کرتے اور اسی طرح اقوام متحدہ سمیت تمام عالمی اور علاقائی نمائندہ اداروں پر یکسو ہو کر آواز اٹھاتے تو یقیناً آج انہیں امریکی سفارتخانہ اپنے قبلۂ اول مقبوضہ بیت المقدس میں باضابطہ طور پر منتقل کئے جانے کا سیاہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔ اگر آج فلسطینی عوام غاصب اسرائیلی فوجوں کے ہاتھوں گاجر مولی کی طرح کٹ رہے ہیں اور اس کیخلاف عرب دنیا میں کسی قسم کا ارتعاش بھی نظر نہیں آرہا تو ان پر توڑے جانیوالے ایسے مظالم کا ذمہ دار کس کو گردانا جائے۔ ظالم نے تو بہرحال اپنی سرشت کیمطابق ظلم کرنا ہے مگر اس کا ہاتھ روکنے کی طاقت و صلاحیت رکھنے والوں کو بھی اسکی توفیق نہیں ہوگی تو پھر اپنی بے بسی کا ماتم بھی کس کیخلاف کیا جائے۔ یہ طرفہ تماشا ہے کہ ڈیڑھ ماہ قبل 31؍ مارچ کو بیت المقدس پر صہیونی قبضہ کے 70 سال مکمل ہونے پر احتجاج کرنیوالے 30 ہزار نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی غاصب فوج نے بے دریغ سیدھا فائر کھولا جس سے 20 فلسطینی شہید اور 15 سو سے زائد زخمی ہوئے جبکہ گزشتہ روز امریکی سفارتخانہ کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کیخلاف مظاہرہ کرنیوالے نہتے فلسطینیوں کو بھی اسرائیلی فوجوں نے گولیوں سے بھون دیا مگر مسلم دنیا میں مگرمچھ کے آنسو بہانے کی بھی نوبت نہیں آئی۔ اگر اس معاملہ میں ٹرمپ کو محض مطعون کرنے سے دل کی تسلی ہو سکتی ہے تو مسلم دنیا یہ شوق بھی پورا کرلے مگر اس سے ظالم کے ہاتھ تو نہیں روکے جاسکتے۔بشکریہ نوائے وقت

یہ بھی دیکھیں

ایران کا سامنا کرنے کے لئے عرب نیٹو کا قیام یا عرب خزانے لوٹنے کا منصوبہ

امریکی حکام نے حال ہی میں ایک سے زيادہ مرتبہ کہا ہے کہ ان کے ...