ہفتہ , 20 اکتوبر 2018

ایرانی جوہری معاہدے کی منسوخی

(مرزا روحیل بیگ) 
تین سال قبل امریکا سمیت یورپی یونین اور اسلامی کونسل کے دیگر مستقل ممبران، جن میں برطانیہ، فرانس، روس اور چین شامل ہیں، نے طویل مذاکرات کے بعد ایران کے ساتھ جو جوہری معاہدہ کیا تھا، امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسے یکطرفہ طور پر ختم کر دیا ہے۔یہ جوہری معاہدہ 2015 ءمیں طے پایا۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ بہت اہم معاہدہ تھا۔ اس کا مقصد یہ نہیں تھا کہ ایران اور امریکا کے درمیان دشمنی ختم کی جائے جو 1979 ءکے اسلامی انقلاب سے ہی جاری تھی، لیکن اس معاہدے کے باعث خطرناک حالات کم ہو گئے۔ اس معاہدے نے اس صدی کے دوسرے چوتھائی حصے پر ایران کے جوہری پروگرام کے گرد حصار باندھ دیا۔ ایران نے اپنے سینٹری فیوج کی تعداد میں کمی کر دی۔ اپنے پلوٹینم کے ذخیرے کو ختم کر دیا، افزودگی کو بھی کم کر دیا۔ اس نے جوہری معائنہ کاروں کو اپنی تنصیبات کی نگرانی کرنے کی اجازت دے دی۔ 2015 ءمیں جب یہ معاہدہ ہوا تو اس کے بعد ایران کی تیل کی صنعت، ایئر کرافٹ، برآمدات، بیش قیمت دھاتوں کی تجارت اور کرنسی کے شعبوں پر عائد پابندیاں ہٹالی گئیں۔ سن 2015 ءمیں اس جوہری معاہدے پر دستخط ہونے کے ساتھ ہی ایران پر عائد پابندیوں پر نرمی کی بعد یورپی یونین اور ایران کی تجارتی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی اور کئی تجارتی معاہدے ہوئے۔ پابندیوں کی نرمی کے ساتھ ہی ایران نے فرانسیسی طیارہ ساز کمپنی ائیر بس کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا، جس کے تحت اسے 80 طیارے فراہم کیے جانے ہیں۔ اس دوران ائیر بس کمپنی پہلا مسافر بردار طیارہ ایران کے حوالے بھی کر چکی ہے۔ اس کے علاوہ سن 2016 ءمیں جرمنی نے ایران کے ساتھ اربوں یورو کے تجارتی معاہدے کیے۔ سن 2016 ءکی پہلی ششماہی میں ایران کو جانے والی جرمن برآمدات میں پندرہ فیصد اضافہ ہوا تھا۔ اور اس پورے سال یہ حجم 4 ارب یورو تھا۔

موجودہ حالات میں ایران میں کام کرنے والی جرمن کمپنیاں شدید مشکلات کا شکار ہو گئیں ہیں۔ امریکی مشیر قومی سلامتی جان بولٹن نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والی یورپی کمپنیوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ آئندہ چھ ماہ کے اندر ایران سے کاروباری رابطے ختم کر دیں ورنہ امریکا ان پر بھی پابندیاں لگا سکتا ہے۔ یورپی یونین نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے پر کاربند رہے۔ اس یورپی موقف کی ایک سے زائد وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ ہے کہ یورپی یونین اس معاہدے کو 12 سالہ سفارت کاری کا نچوڑ قرار دیتی ہے۔ یورپی یونین کا موقف ہے کہ اس جوہری معاہدے کے بعد دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔ اس طرح ایران کی جوہری سرگرمیوں پر نظر رکھنا اور بھی آسان ہو گیا ہے۔ تاہم اس کی ایک وجہ اور بھی ہے اور وہ ہے اقتصادی مفادات۔ ایران کا ایٹمی پروگرام کئی عشروں تک امریکا اور مغربی طاقتوں کے لیے تشویش کا باعث رہا ہے۔ ایران میں اسلامی انقلاب کے حامیوں کی حکومت کے باعث اسرائیل کو خدشہ تھا کہ ایران خود کو ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کی طرف لے جا رہا ہے اور ایٹمی معاہدہ دراصل عالمی برادری کو الجھا کر اپنے لیے مہلت حاصل کرنے کی کوشش ہے۔ جولائی 2015ءمیں ایران کے پاس 20 ہزار سنٹری فیوجز تھیں۔ معاہدے میں ایران نے تسلیم کیا کہ وہ نئی سنٹری فیوجز نصب نہیں کرے گا۔ جنوری 2016 ءمیں ایران نے معاہدے پر عملدرآمد کرتے ہوئے نصب شدہ سنٹری فیوجز کی تعداد میں کمی کی اور ٹنوں کے حساب سے کم افزودہ یورینئم جہازوں میں بھر کر روس بھیجا۔ معاہدے کے بعد انٹرنیشنل اٹامک انرجی کے معائنہ کاروں نے مسلسل ایرانی تنصیبات کا معائنہ کیا۔ ان معائنہ کاروں نے اپنی رپورٹس میں اس بات کی گواہی دی کہ ایران نے ایٹم بم کی تیاری کے لیے کسی نوع کا مواد خفیہ طور پر کسی جگہ منتقل نہیں کیا، لیکن امریکا نے اس کے باوجود ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کر دیا۔

ٹرمپ کے اقدام کا سب سے پہلا نتیجہ امریکا اور یورپ کے درمیان کشیدگی کی صورت میں ظاہر ہو گا۔ امریکا اور یورپی ممالک کے درمیان اختلافات کی خلیج مزید وسیع ہو جائے گی۔ ٹرمپ کے اس اقدام سے مشرق وسطی میں کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ معاہدے سے الگ ہونے کے بعد ٹرمپ ایران کو مشتعل کرنے کی کوشش کرے گا اور ایران کو کسی مقامی جنگ میں الجھانے کے کوشش کرے گا۔ اس لیے ٹرمپ کے فیصلے کے بعد ایران پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ امریکا کے بچھائے ہوئے جال میں نہ آئے۔ لیکن اس وقت یہ معلوم ہوتا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک اور جنگ کی بنیاد رکھ رہے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے سے باہر نکل کر علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے تقاضوں کی نفی کی ہے۔ جس سے امن و سلامتی کو لاحق خطرات مزید گھمبیرہو سکتے ہیں، کیونکہ اب اپنی اپنی بقا و سلامتی کے لیے اقوام عالم میں ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونا فطری عمل ہو گا۔ امریکی نیٹو اتحادیوں نے اسی تناظر میں ٹرمپ کے اعلان پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور اقوام متحدہ نے بھی دیگر ممالک پر ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ برقرار رکھنے پر ہی زور دیا ہے۔ ایرانی جوہری معاہدے کی منسوخی کے ذریعے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرق وسطی میں ایک نیا محاذ کھول دیا ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ ٹرمپ کو قائل کرے کہ وہ اس محاذ کو بند کر دیں۔ امریکا کا فیصلہ مشرق وسطی اور مسلم دنیا کے انتشار کو بڑھانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے اور صدر ٹرمپ کا تعصب کھل کر سامنے آ رہا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کلین اینڈ گرین پاکستان

(جاوید چوہدری) لندن کی آبادی 1750ء سے 1810ء کے درمیان 15 لاکھ تک پہنچ چکی ...