بدھ , 15 اگست 2018

مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر امن قائم نہیں ہو سکتا

(ریاض چوہدری)
مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ جس کے ساتھ برصغیر کا امن جڑا ہوا ہے۔ جب تک اس مسئلہ کو حل نہ کیا جائے تب تک برصغیر میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔تمام کشمیری امید کرتے ہیں کہ نئے دن کا سورج ان کی آزادی کا پیغام بر ہوگا۔ جب نئے دن کا سورج اس پیغام کے ساتھ طلوع نہیں ہوتا تو سندھ، دریائے جہلم اور دریائے پونچھ کے پانیوں میں کشمیریوں کالہو بدستور شامل ہوتا رہے گا۔ ہر کشمیری اپنی جگہ متحرک ہے۔ کشمیریوں کے لہو کو ارزاں سمجھنے والے ہمارے دشمن ہیں۔ آرمی چیف کا کہنا ہے کہ پاکستان دوسرے ممالک میں پراکسی وار لڑنے کے خلاف ہے اور کسی کو پاکستان میں پراکسی وار لڑنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ’ہمارے دشمن ملک میں دہشت گردوں کی حمایت کر کے مسلح تصادم کو ہوا دے رہے ہیں اور ملک کو غیر مستحکم کرنا چاہتا ہے لیکن دشمن کے مذموم عزائم کو شکست دینے کے لیے ہمارا عزم پختہ ہے۔‘ کشمیر تقسیم ہند کا نامکمل ایجنڈا ہے پاکستان اور کشمیر کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا ۔ ’اگرچہ ہم خطے میں امن اور استحکام چاہتے ہیں، لیکن ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کا حل چاہتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر حل کئے بغیر خطے میں امن قائم نہیں ہو سکتا ۔ امن کی خواہش کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔

بھارتی وزارت خارجہ نے جموں و کشمیر کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دیا تو جواب میں پاکستان نے کہا کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل صرف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق قابل قبول ہے۔ پائیدار امن کے لئے مسئلے کا حل کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا۔ آج پاکستانی آرمی چیف نے بھی وہی موقف دہرایا ہے جس پر پاکستانی قوم انہیں خراج تحسین پیش کرتی ہے۔ مظلوم کشمیری ڈیڑھ لاکھ سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود الحاق پاکستان کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور آٹھ لاکھ بھارتی فوج کی موجودگی میں پاکستانی پرچم لہرا رہے ہیں۔ہمارے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع علاقہ ہے لیکن اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بھارت اس علاقہ کو اپنا حصہ قرار دیتا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان کا یہ بیان کہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان بھارت کا اٹوٹ انگ ہے، صرف لغو بیان ہے۔ بھارت کی طرف سے گلگت بلتستان کے انتخابات پر تنقید پاکستان کے داخلی معاملات میں مداخلت ہے جس کا مقصد کشمیر پر اسکے ناجائز قبضہ سے توجہ ہٹانا ہے۔ یہ بھارت ہی ہے جس نے جموں و کشمیر پر ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے اور ناجائز قبضہ برقرار رکھنے کیلئے بھارت نے 7 لاکھ فوجی تعینات کر رکھے ہیں جو کشمیریوں کی آواز دبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت وہاں جعلی انتخابات کا ڈھونگ رچاتا ہے۔ کشمیر عالمی سطح پر ایک تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے جس کے عوام کی تقدیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں متعین کیا جانا ابھی باقی ہے۔ بھارت کی طرف سے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد سے انکار کے باعث اس تنازعہ نے طول پکڑا۔

وزیر دفاع اور وزیر داخلہ نے بالکل ٹھیک کہا کہ پاکستان بھارتی بیانات سے گھبرانے والا نہیں ۔ بھارت امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔ بھارت مایوسی اور پریشانی میں پاکستان مخالف بیانات دے رہا ہے۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے۔ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، کشمیر بنے گا پاکستان۔ اس میں کوئی شک نہیں کشمیر بنیادی مسئلہ ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف نے جنرل اسمبلی کے اجلاس میں واشگاف الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ موجودہ حکومت نے کشمیر کے مسئلے کے حل کیلئے کوششیں تیز کردی ہیں۔ بھارتی افواج کشمیریوں کے ساتھ ظلم کرتی ہیں، کشمیر میں پاکستان کا قومی پرچم لہرایا جانا اور قومی ترانہ پڑھایا جانا کشمیریوں کی پاکستان سے وابستگی کا اظہار ہے۔کشمیری اپنی جدوجہد پھر سے دنیا کے سامنے لا رہے ہیں۔ایمنسٹی نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ کالا قانون بھارتی فوجیوں کو لوگوں کو قتل اور انہیں گرفتار کرنے سمیت بے انتہا اختیارات دیتا ہے۔ کالے قانون کے باعث مقبوضہ کشمیر میں ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدیوں، خواتین سے زیادتیوں سمیت انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ بھارتی حکومت کو ہر ایک کے حقوق کا احترام کرنا چاہئے اور اس قانون کو مکمل طور ختم کر دینا چاہئے۔ حریت کانفرنس کے چیئرمین ڈاکٹر میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں پرامن احتجاج کے دوران بھارتی فوج کے پرتشدد واقعات لرزہ خیز ہیں جس سے انسانیت چیخنے لگتی ہے۔ جمہوریت کا دعویدار بھارت انسانی حقوق سے بے بہرہ ہے، اس کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی قدر نہیں ۔حصول حق خودارادیت‘ کشمیر کی آزادی کیلئے ہماری پرامن جدوجہد جاری رہے گی۔ دنیا کو چاہئے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے عوام کی بات پر، ان کے مسئلہ پر کان دھرے اور ان کا مسئلہ حل کرے۔ کشمیری ظلم و ستم برداشت کر رہے ہیں اور ابھی تک اپنی جدوجہد آزادی برقرار رکھے ہوئے ہیں، ان کے حوصلے بلند ہیں۔

ریاست جموں و کشمیر کوئی بڑا علاقہ نہیں ، گنجان آباد بھی نہیں ، بظاہر آزادی کیلئے ہتھیار اٹھانے والوں کی تعداد بھی زیادہ نہیں مگر ان کے مقابل بھارت کی آٹھ لاکھ فوج ہیچ ثابت ہوئی ہے۔جب تک کشمیر کی سر زمین پر بھارت کا ایک سپاہی بھی موجود ہے، کشمیری آزاد نہیں ہو سکتے۔ اس لیے بھارتی فوج کو ہیچ ثابت کرنا صرف ایک محاذ پر کامیابی ہے اور اس مقام پر کھڑے ہو کر ہمیں یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ بھارت نے کشمیر میں بڑے مضبوط پنجے گاڑ رکھے ہیں۔ وہ ایک طاقتور ملک ہے اس کے پنجے اکھاڑنے، اس کی طاقت کا گھمنڈ توڑنے کیلئے کشمیریوں کو ابھی کئی صحراؤں سے گزرنا ہے۔کشمیری عوام خوش قسمت ہیں کہ انہیں پاکستان کی حمایت حاصل ہے۔ انہیں ایک ایٹمی طاقت کا سہارا ہے اور پاکستان کے ساتھ نے کشمیریوں کو حیدرآباد دکن اور جونا گڑھ کی طرح بے نام نہیں ہونے دیا۔ پاکستان نے ان کی خاطر بھارت سے دشمنی مول لی، آزاد کشمیر کو بچائے رکھا اور 1965ء اور 1971ء کی جنگوں میں کشمیریوں کی خاطر جسم و جاں کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کے ایک حصے کی قربانی بھی دی۔کشمیری جانتے ہیں کہ سفارتی محاذ پر تمام تر جدوجہد پاکستان نے کی ہے اور کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کے عالمی اداروں کا فرض ہے کہ وہ یہاں اپنا رول نبھائیں اور اقوام عالم کے اداروں میں بھارت کو ننگا کریں۔ ہزاروں بے گناہ کشمیری ہندوستان کی مختلف جیلوں میں شدید بیماریوں کا شکار برسوں سے بند پڑے ہیں، جو انسانی حقوق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔ کشمیری قوم نے آج تک ایک لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ یہ قربانیاں کنٹرول لائن کو بین الاقوامی سرحد میں تبدیل کرنے کیلئے نہیں دی گئیں بلکہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی پاس شدہ اور تسلیم شدہ قراردادوں کے تحت حل کرنے کیلئے دی گئیں۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کا سامنا کرنے کے لئے عرب نیٹو کا قیام یا عرب خزانے لوٹنے کا منصوبہ

امریکی حکام نے حال ہی میں ایک سے زيادہ مرتبہ کہا ہے کہ ان کے ...