بدھ , 17 اکتوبر 2018

عراقی انتخابات کے نتائج پر ایک نظر

(تسنیم خیالی)
شیعہ مکتب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور مذہبی رہنما مقتدی الصدر عراقی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی سے ہم کنار ہوتے ہوئے نظر آرہے ہیں ان کے زیر قیادت سیاسی اتحاد ’’سائرون نحوالاصلاح‘‘ (جو صدر کی جماعت اور سوشلسٹ پارٹی پر مشتمل ہے) فاتح قرار پایا جارہا ہے، اس بات کا مطلب یہ ہے کہ مقتد ی الصدر کا نئی عراقی حکومت کی تشکیل میں اہم کردار ہوگا، ویسے تو غیر سرکاری نتائج کا اعلان کردیا گیا ہے اور سرکاری نتائج کا اعلان فوجی اہلکار، مریض افراد اور بیرون ملک مقیم عراقیوں کے ووٹوں کے شمار کے بعد کردیا جائے گا، گوکہ موجودہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی اس بار انتخابات میں پیچھے رہے البتہ انہیں دوسری مرتبہ حکومت کرنے کا شاندار موقع مل رہا ہے، صورتحال کچھ یوں ہے کہ جس جماعت نے (خواہ وہ کوئی بھی ہو) سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں اسے حکومت بنانےکےلیے کسی دیگر جماعت کے ساتھ اتحاد کرنا ہوگا تاکہ اسے پارلیمنٹ میں اپنی حکومت کےلئے واضح اکثریت کی تائید حاصل ہو، سرکاری نتائج کے اعلان کے بعد 90 دن کے اندر حکومتی کابینہ کی تشکیل ہوجانی چاہئے اور زیادہ امکان یہی ہے کہ مقتدی الصدراور حیدر العبادی کے درمیان حکومت تشکیل دینے کے لئے اتحاد قائم ہوجائے جس کے وزیراعظم ایک بار پھر حیدر العبادی بنیں گےویسے بھی مقتدی الصدرکی سیاسی توجہات اور ایجنڈے حیدر العبادی کے توجہات اور ایجنڈے سے کافی حد تک ملتے جلتے ہیں ،عام طور پر دیکھا جائے تو حکومت کی تشکیل دوصورتوں میں ہوسکتی ہے ایک تویہ کہ مقتدی الصدر اور حیدر العبادی اتحاد کرلیں اور اس اتحاد میں ’’ایاد علاوی‘‘ اور انکی مخالفت بھی شامل ہو (اس اتحاد کے امکانات زیادہ ہیں)

دوسرا یہ کہ ہادی العامری اور انکی سیاسی جماعت (قائمۃ الفتح)، نورالمالکی اور انکی جماعت (دولت القانون) اور سید عمار الحکیم اور انکی جماعت ’’تیار الحکمۃ‘‘ دیگر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اتحاد کرکے حکومت تشکیل دیں (جس کے امکانات کم ہیں) عراق میں اس وقت امریکی نمائندہ برائے عراق ’’بریٹ میک گورک‘‘ اور عراق میں متعین امریکی سفیر ’’ڈاگلا سلیمان‘‘ کافی متحرک دکھائی دے رہے ہیں اور ملک کے مختلف علاقوں میں عراقی سیاسی رہنمائوں سے ملاقاتیں کررہے ہیں، اور واضح رہے کہ انکا مقصد حکومت کی تشکیل پر متاثر ہونا اور اپنے مفادات کے مطابق عراق جماعتوں کے سیاسی اتحاد میں دخل دینا ہے۔

ایران کی بات کی جائے تو وہ تمام معاملات کا باغور جائزہ لے رہا ہے البتہ کسی بھی ایرانی عہدیدار نے انتخابات کے بعد اب تک کسی بھی عراقی سیاستدان سے ملاقات نہیں کی اور ناہی کسی ایرانی عہدیدار کی طرف سے عراقی انتخابات کے نتائج پر کسی بھی قسم کا تجزیہ پیش کیا جارہا ہے کہ انتخابات کے نتائج ایران کے لیے کوئی خاص سودمند نہیں، اور امریکہ کی مقتدی الصدرکے ساتھ کشیدہ تعلقات کے باوجود کوشش یہی رہے گی کہ عراق میں ایرانیوں کے راہ میں رکاوٹیں حائل کرے، سعودی عرب ان نتائج سے کافی خوش دکھائی دے رہا ہے، اس ضمن میں عراق میں متعین سابق سعودی سفیر ’’تامرالسبہان‘‘ ٹویٹ کرتے ہوئے عراقیوں کو مبارک باد بھی پیش کی ہے، السبہان کے اس موقف سے اندازہ لگایا جاسکتاہے کہ عراق میں حکومت کی تشکیل پر متعدد اطراف کے درمیان رسہ کشی ہونے جارہی ہے، کردستان کی صورتحال کی بات کی جائے تو وہاں کی دونوں بڑی جماعتوں نے علیحدہ علیحدہ راہیں اختیار کرلی ہیں، دونوں جماعتیں متحدہوکر وفاقی پارلیمنٹ کا حصہ نہیں بنیں گی بلکہ ہر جماعت نے اپنے مفادات کے تحت کسی اتحاد میں شامل ہونا ہے جو کہ پہلے کبھی نہیں ہوا، انتخابات کے بعد اس عراق میں کافی گہماگہمی ہے اور آنے والے دنوں میں کیا ہونے جارہاہے واضح نہیں البتہ بہت جلد حکومت کے خدوخال نظر آنا شروع ہو جا ئیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

’انتفاضہ الاقصیٰ‘ کے 18 سال، انقلاب کا سفر جاری!

فلسطین میں سنہ 2000ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے خلاف فلسطینی عوام ...