بدھ , 17 اکتوبر 2018

70سال بعدایک اور مصیبت

(تسنیم خیالی)
آج سے 70سال قبل یعنی 15 مئی 1948ء میں فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکال کران زمینوں پر قبضہ کرلیا گیا، یہ سب کچھ یہودیوں نے دنیا بھر کی نگاہوں کے سامنے کیا اور کسی کو بھی جرأت نہیں ہوئی کہ وہ کم ازکم اعتراض ہی کرے، اس روز کو فلسطینی ’’یوم النکبہ‘‘ کہتے ہیں یعنی مصیبت کا دن اس روز فلسطینی اپنی سرزمین پر پر دیسی ہوگئے ان کے گھر ، مال غرض ہر چیز پر یہودی قابض ہوگئے اور فلسطینی پناہ گزیں بن گئے، اس مصیبت کو 70سال گزر گئے اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ 70سال بعد 15مئی کو ہی ایک اور دن فلسطینیو ں کےلئے مصیبت کا دن بن جائے گا یوم النکبہ کے موقع پر اسرائیلیوں اور امریکیوں نے فلسطین اور امت مسلمہ کی پیٹھ پر وار کیا اس امت کی آبرو خاک میں ملا دی یہ سب کچھ اس لئے ہوا کیونکہ ہمارے درمیان موجود کچھ حکمرانوں نے اپنوں کے ساتھ غداری اور دشمنوں کے ساتھ وفاداری نبھائی، اس گھنائونی حرکت میں سعودی عرب، امارات اور مصر نے کلیدی کردار ادا کیا اور آل سعود، آل نہیان اور سیسی کی امت کے ساتھ غداری تا ابدیاد رہے گی اور انہیں اس غداری کا حساب آج نہیں تو کل دینا ہوگا ،جہاں ان غدار ممالک کا اس سارے معاملے میں کلیدی کردار رہا وہیں دیگر اسلامی ممالک نے مذمت اور بڑی بڑی باتیں کرکے خود کو مسلمانوں کی نگاہ میں اچھا پیش کرنے کی کوشش کی جیسا کہ ترکی، ترک صدر رجب طیب اردگان نے اسرائیل اور امریکہ کے خلاف ’’دنبگ‘‘ اسٹائل میں ڈائیلاگ مارے، حالانکہ ان کی ریاست کے اسرائیل کے ساتھ گہرے اور قریبی تعلقات ہیں اور ترکی ان تعلقات کو ختم کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ ترک دفتر خارجہ کے مطابق یہ مشترکہ مفادات ہیں جنہیں ختم نہیں کیا جائے گا۔

امریکہ سفارت خانہ بیت المقدس منتقل کرکےعرب اسرائیل تنازعے میںاپنا ظاہری ثالثی کرداربھی کھو بیٹھا ہے، امریکہ باقاعدہ طور پر اس تنازعے میں صہیونیوں کا طرفدار بن چکا ہے جو صہیونیت کے مفادات کی خاطر تمام حدیں پار کرسکتا ہے، امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی ایک شرمناک واقعہ ہے، ہمیں امریکہ، یورپ یا اسرائیل سے کوئی شکوہ نہیں ہونا چاہیے، وہ تو ہمارے دشمن ہیں، البتہ شرمندگی اور افسوس مسلم ممالک کے حکمرانوں سے ہورہی ہے جو 70سال قبل بھی خاموش تھے اور آج بھی خاموش، اس وقت اگر مسلم حکمران حرکت میں آتے تو فلسطین ہاتھ سے نہ جاتا اور اگر آج حرکت میں آتے تو بیت المقدس نہ جاتا اور مستقبل میں اگر یہ خاموشی جاری رہے گی تو ہم سب کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس خاموشی کے نتیجے میں ہم قبلۂ دوم بھی کھو بیٹھیں گے۔

یہ بھی دیکھیں

’انتفاضہ الاقصیٰ‘ کے 18 سال، انقلاب کا سفر جاری!

فلسطین میں سنہ 2000ء میں غاصب صہیونی ریاست کے ناجائز تسلط کے خلاف فلسطینی عوام ...