اتوار , 27 مئی 2018

ٹرمپ پالیسیاں: اسلاموفوبیا کا مظہر

(ریاض احمد احسان)
حکومت پاکستان کے ایک اعلامیہ کے مطابق پاکستانی ایئرپورٹ پر امریکی سفارتکاروں کا آنے والا سامان ویانا کنونشن برائے سفارتی تعلقات کے آرٹیکل 27 کے تحت سخت نگرانی سے گزرے گا کیونکہ اس آرٹیکل کے تحت سامان کو سکیننگ کے عمل سے استثنیٰ حاصل نہیں ہے ، اس سے قبل حکومت پاکستان نے غیر ملکی سفارتکاروں کو 27 اپریل2018ء کوایک مراسلہ جاری کیا تھااس پر سختی سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ یہ مراسلہ پاکستانی شہری پر ایک امریکی سفارتکار کی گاڑی کے چڑھ جانے کے بعد جاری کیا گیا جس پر وہ جاں بحق ہوگیا۔وزارت خارجہ کے مراسلے کے مطابق امریکی سفارتکار کرائے پر دی گئی ٹرانسپورٹ پر سیاہ شیشے استعمال نہیں کرسکیں گے سفارتخانوں کی گاڑیوں پر غیر سفارتی نمبر پلیٹ کا استعمال نہیں ہوگا۔ کرائے کی گاڑیوں یا سفارتخانے سے غیر منسوب گاڑیاں سفارتی نمبر پلیٹ استعمال نہیں کرسکیں گی اور موبائل فون سمیں بائیو میٹرک نظام کے ذریعے ہی حاصل کی جاسکیں گی۔غیر تصدیق اور غیر رجسٹرڈ سم استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔امریکی سفارتخانہ بغیر اجازت کے کوئی مکان کرائے پر نہیں لے سکے گا اور نہ ہی اپنے موجودہ کسی گھر کو کسی اور سفارتکار کو دے سکے گا۔امریکی سفارتکار بغیر اجازت کے ریڈیو مواصلاتی آلات رہائشی علاقوں میں نہیں لگا سکیں گے اور امریکی سفارتکار پاکستانی اعلیٰ حکام اور غیر ملکی سفارتکاروں سے کوائف کے مطابق ملاقات کریں گے جس میں انہیں دفتر خارجہ کو پیشگی مطلع کرنا ہوگا۔ امریکی سفارتکار ایک سے زیادہ پاسپورٹ بھی نہیں رکھ سکیں گے اور جونہی پاکستان کی جانب سے جاری کیے گئے ویزے کی مدت ختم ہوگی اس سے زیادہ عرصہ پاکستان میں قیام کی اجازت نہیں ہوگی۔ ان پابندیوں کا اطلاق 11مئی سے ہی شروع ہوگیا ہے جبکہ اس حوالے سے امریکی سفارتخانے کو تین دن پہلے تحریری طور پر مطلع کر دیا گیا تھا۔

21جنوری2017ء کی شب ڈونالڈ ٹرمپ نے امریکہ کے 45 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھا یا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے نئے امریکی صدر کی حیثیت سے ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ’اسلامی انتہا پسندی کے خلاف نئے اتحاد بنائیں گے ،دنیا سے اسلامی انتہا پسندی کا خاتمہ کر دیں گے، سطح زمین سے اس کا مکمل خاتمہ کر دیں گے‘۔ یہ حقیقت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ اُن کی سیاست کا قوام دو عناصر سے ترتیب پایا ہے۔ اولاً سفید فام نسلی عصبیت اور دوسرا امریکی شاؤنزم ۔ اپنے پہلے ہی خطاب میں انہوں نے دنیا کے 1.6 بلین مسلم شہریوں کو بلا سوچے سمجھے دہشت گرد اور انتہا پسند قرار دیتے ہوئے جن جارحانہ جذبات و خیالات کا اظہار کیا ، ریکارڈ بتاتا ہے کہ کبھی کسی منتخب امریکی صدر نے اپنی پہلی تقریر میں عالم اسلام کے خلاف اس قسم کے جارحانہ اور منفی جذبات کا اظہار نہیں کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ اُن کی پہلی تقریر بھی اُن کی انتخابی تقریروں ہی کا ایک تسلسل تھی۔

21اگست 2017ء کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کے بارے خصوصی طور پر کی گئی تقریر کے دوران اُس سخت گیر پالیسی کا اعلان کر دیا جس کا امریکی عوام سمیت پوری دنیا خاص طور پر افغانستان، پاکستان اور بھارت میں شدت سے انتظار کیا جا رہا تھا۔ اس خصوصی تقریر میں انہوں نے دہشت گردی کے خلاف بین الاقوامی جنگ میں پاکستان کے عوام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ ہم نے انہیں ارب ہا ڈالرز دیئے مگر اُن کی سرزمین پر دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں، جہاں سے افغانستان میں دراندازی کی جاتی اور افغان طالبان کو مدد فراہم کی جاتی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کو دھمکی آمیز لہجے میں مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اب بھی وہ امریکہ سے تعاون کرے گا تو اُسے فائدہ پہنچے گا، بصورت دیگر نقصان یا امریکی عتاب کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہنا چاہئے۔ صدرِ امریکہ نے تقریر کے دوران پاکستان کے ایٹمی اثاثوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردوں کے ہاتھوں غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ اسی سانس میں موصوف نے افغانستان میں بھارت کے زیادہ بڑے اور مؤثر کردار کا ذکر کیا اور کہا کہ اس ملک نے امریکہ کے ساتھ تجارت میں اربوں ڈالر کا فائدہ اُٹھایا ہے لہٰذا اُسے ہمارے ساتھ مل کر افغانستان کی معاشی ترقی میں زیادہ اہم اور بڑا کردار ادا کرنا چاہئے۔

یاد رہے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کی اصلیت 13 جون 2016ء کو اس دن ظاہر ہوگئی ،جب ایک امریکی ریاست فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں واقع ہم جنس پرستوں کے لئے مخصوص ’’پلس نائٹ کلب‘‘ میں مسلح حملہ آور شخص نے اندھا دھند فائرنگ کی ،لوگوں کو یرغمال بنایا لیکن پولیس کی جوابی کارروائی میں مارا گیا۔اورنج کاؤنٹی کے شیرف نے اسے داخلی دہشت گردی کی کارروائی قرار دیا لیکن تب ری پبلیکن امریکی صدارتی امیدوار ڈونالڈ ٹرمپ نے اور لینڈو حملے کے فوراً بعد اسے مسلمانوں سے منسوب کرتے ہوئے کہاکہ ’’ اس کا مسلم عسکریت پسندوں سے تعلق ہے‘‘۔ تب تلک ایک عشرے میں امریکہ میں فائرنگ کے 43 واقعات ہو چکے تھے، جن میں سیکڑوں شہریوں کو جان سے ہاتھ دھونا پڑا۔ ان واقعات میں گرفتار ہونے یا ہلاک ہونے والے37 مجرم امریکی ہی تھے۔ڈونالڈ ٹرمپ نے بلا سوچے سمجھے اورلینڈو واقعہ کو مسلمانوں سے منسوب کرتے ہوئے اس کی ذمہ دار ی موہومہ مسلم عسکریت پسندوں پر ڈال دی۔ حالانکہ یہ سب کیا دھرا سفید فام گن مافیا کا تھا۔ ٹرمپ کو بنیاد پرست سفید فاموں، لوئر مڈل کلاس کے امریکی شہریوں اور انتخابات میں بھاری سرمایہ کاری کرنے والے سفید فام اور یہودی بزنس ٹائیکونز کی حمایت بھی حاصل تھی۔

مسلم تارکین وطن کے حوالے سے اُن کے جارحانہ بیانات کی وجہ سے بنیاد پرست ویسپس اور زائنسٹ انٹرنیشنل جیوری( زنجری) بھی اُن کی حمایت کر رہی تھی۔ زنجری دنیا کی پہلی نسل پرست ریاست اسرائیل کی مالی و معاشی اور فکری و نظری سرپرست ہے۔ انتہائی متنازع ، انتہاپسند اور نسل پرستی پر یقین رکھنے والی شخصیت ڈونالڈ ٹرمپ کا صدر امریکہ بننا امریکی معاشرے کے لئے ایک بڑا سوالیہ نشان تصور کیا جا رہا تھا لیکن اس کے باوجود نومبر 2016ء کے دوسرے منگل کو ہونے والے انتخابات میں امریکی رائے دہندگان نے ری پبلیکن پارٹی کے ڈونالڈ ٹرمپ کو وائٹ ہاؤس کا نیا مکین بننے کا مینڈیٹ دے دیا۔اس زمینی حقیقت سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی کہ ٹرمپ نے نسل پرستانہ، زینوفوبیا (اجنبیوں سے نفرت)، اسلامو فوبیا پر مبنی، افریقی امریکیوں اورمیکسیکنز کے خلاف جو بیانات دئیے، ان سے امریکی قیادت کا امیج بری طرح مجروح ہواہے۔پاکستانی سفارت کاروں پر پابندیوں کا دفتر خارجہ بر وقت نوٹس لے کر نسل پرست جنونی جنگجو ٹرمپ پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان ’بنانا ری پبلک نہیں‘ دنیا کی ساتویں بڑی ایٹمی ریاست ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ڈیوڈ فریڈ مین سفیرکی شکل میں صہیونی پروگرام کا ایجنٹ!

اسرائیل کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایک متنازع تصویر گردش کررہی ہے جس میں ...