اتوار , 27 مئی 2018

ایسے نہیں چلے گا ۔۔قبلہ اول خطرے میں فلسطین پر ظلم و ستم

فلسطین میں قبلہ اول کیخلاف نئ امریکی وصیہونی و عرب سازش اور 60 سے زائد بے گناہ مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام کیخلاف ترکی کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہیے‘‘ترک وزیر خارجہ اور صدر اردگان نے جو کچھ ان دنوں میں اس مسئلے کے بارے میں کہا اس کے اہم نکات کچھ یوں ہیں اردگان کا کہناہے ’’فلسطین المیہ کے ذمہ داروں پر لعنت و ملامت بھیجتا ہوںجو ممالک اس انسانی جرم کے سامنے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں معذرت کے ساتھ وہ بھی اس لعنت کے حقدار ہیں‘‘’’اسرائیل نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے، یہ انسانی المیہ، نسل کشی چاہے کسی کی بھی طرف سے کیوں نہ کی گئی ہو میں اس کے ذمہ داروں پر لعنت بھیجتا ہوں‘‘

ترک وزیر خارجہ بن علی یلدریم کا کہنا ہے کہ’’ اسلامی ممالک کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظر ثانی کرنا ہوگا ‘‘سوال یہ ہے کہ اردگان کن ملکوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہا ہے ؟اور کن سے کہہ رہا ہے کہ تعلقات پر نظر ثانی کرو ؟یہی وہ اردگانی پالیسی ہے جس نے اسے ایک ناقبل اعتبار فرد بنا کر رکھ دیا جو بڑے بڑے الفاظ اور موٹے آنسوبہاکر سادہ افراد کو تو متاثر کرتا ہے لیکن اصل میں کسی قسم کا کوئی قدم نہیں اٹھاتا اور اپنے آنسوؤں کے برخلاف عمل کرتا ہے ۔سرائیل کے ساتھ خود ترکی سب سے پہلے تعلقات ختم کیوں نہیں کرتا؟کیونکہ اس نے اسرائیلی سفارتخانہ کھولا ہوا ہے اور اپنا سفارتخانہ اسرائیل میں کھولا ہوا ہے ؟

کروڑوں ڈالر کی اسرائیل اور ترکی کے درمیان تجارت ہوتی ہے، سالانہ لاکھوں ترک شہری تل ابیب کا سفرکرتے ہیں اور لاکھوں اسرائیلی صیہونی ترکی میں عیاشی اور ترک رقصاوں کا رقص دیکھنے اور قدیم ترک شراب پینے آتے ہیں ۔کیوںکہ ترک سن باتھزاور سونا حمام میں اسرائیلوں کے لئے خصوصی رعایت دی جاتی ہے وووو۔۔۔

قارئین ہوسکتا ہے کہ اس تحریر میں میرے غصے اور جذبات کو ملاحظہ کریںلیکن یاد رہے کہ ہماری فراہم کردہ معلومات اور تجزیہ بے لوث بے لاگ اور منصفانہ ہوتا ہےیا کم ازکم ہماری کوشش یہ ہوتی ہے لیکن اس قدر حق ہمیں دیں کہ جب ہم ٹی وی سیکرینوں پر ٹونٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ میں جس طرح وکٹیں گرنے کی خبر دی جاتی ہے اس طرح اگر مظلوم فلسطینی انسانوں کے مرنے کی خبر سن اور دیکھ رہے ہوں توانسانی جذبے کو مارا تو نہیں جاسکتا ۔

آج اگر اردگان جیسے لوگ اپنے اقتدار کی خاطر جھوٹ اور دھوکے کے بجائے سچائی سے کام لیں تو فلسطین اور قبلہ اول کا مسئلہ تو کب کا حل ہو چکا ہوتا ۔اردگان جیسے رہنماؤں اور او آئی سی عرب لیگ ،انتالیس ملکی نام نہاد فوج ،اقوام متحدہ ،سیکورٹی کونسل ۔۔۔سے ہزار گنا بہتر وہ عمر رسیدہ خاتون اور اس کی گدھا گاڑی ہے جو غزہ میںفلسطینی جوانوں کے لئے اسرائیلی خطرناک ممنوعہ گیس سے بچنے کے لئے استعمال شدہ ٹائر پہنچاتی ہے ۔۔

مزاحمت اور مقاومت سے ڈرنے والے بزدل نام نہاد خادمین حرمین اوررہنماؤں سے آٹھ ماہ کی وہ بچی لیلی غندوز بہتر ہے جس نے کل باپ کی گود میں اسرائیلی فائرنگ سے جان دی ۔۔کانفرنس ہالوں کے نام پر کروڑوں ڈالر کے عیاش کدے میں چند گھنٹے فلسطین اور قبلہ اول کے نام پرکروڑوں ڈالر کی گاڑیوں اور پروٹوکول میں آنے والے ان حکمرانوں سے تو وہ فلسطینی اپاہج جوان بہتر ہے جو دونوں پاؤ ں کھونے کے باوجود اس ظلم کے مقابل ڈٹا ہوا ہے ۔

ان بیانات اور اجلاسوں کا مقصد صرف مسلم اور عرب عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہے اور کچھ نہیںآج تک کبھی بھی اجلاسوں نے کسی قسم کے ظلم و ستم سے آزادی نہیں دلائی دیکھئے کشمیر کو دیکھئے برما و فلسطین کو دیکھئے۔۔۔۔مزاحمت ،قربانی ،تکلیف سہنا ،لیکن استقامت اور ڈٹ جانا مزاحمت کرنا وہ راستہ ہے جو ظالم کو جھکا دیتا ہے اس کے غرور کو توڑ دیتا ہے ۔۔۔

اسرائیلی صیہونی صرف طاقت اور استقامت کی زبان سمجھتے ہیں ۔۔۔مذاکرات اور اجلاسوں کا نتیجہ ہی ہے کہ آج ستر سال بعد قبلہ اول اسرائیل کا دارالحکومت بننے جارہا ہے اور عرب بادشاہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کرنے اور اس صدی کی بڑی ڈیل کرنے ۔۔اس ایشو کا ایک ہی حل ہے صرف اور صرف عوامی مزاحمت اور انتفاضہ ۔۔۔(Focus on West & South Asia – URDU)

یہ بھی دیکھیں

ڈیوڈ فریڈ مین سفیرکی شکل میں صہیونی پروگرام کا ایجنٹ!

اسرائیل کے الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں ایک متنازع تصویر گردش کررہی ہے جس میں ...