بدھ , 24 اکتوبر 2018

لبنان میں عام انتخابات

(محمد مہدی)
لبنان عالم اسلام اور عرب دنیا کا اپنی آبادی کے تناسب کے اعتبار سے ایک منفرد حیثیت رکھنے والا ملک ہے۔ 18 مذہبی گروہ اس ملک میں بنیادی طور پر رہتے ہیں جن میں سے میرونائیٹ مسیحی، رومن کیتھولک، سنی، شیعہ اور دروزی بڑے مذہبی گروہ ہیں۔ مملکت کے عہدوں کی تقسیم بھی مذہبی بنیادوں پر ہوتی ہے۔ صدر مسیحی جبکہ وزیر اعظم سنی اور سپیکر کا شیعہ ہونا لازمی ہے۔ آخری دفعہ مردم شماری 1932ءمیں ہوئی جس میں آبادی کا سب سے بڑا حصہ مسیحیوں پر مشتمل تھا۔ آزادی کے بعد بھی یہی مردم شماری کا تناسب مانا جاتا رہا لیکن 1960ءمیں مسلمانوں نے دوبارہ مردم شماری کا مطالبہ کر دیا۔ کیونکہ ان کے خیال میں مسلمان آبادی مسیحیوں سے بڑھ چکی تھی۔ مسیحی اس پر رضامند نہ ہوئے اور ایک کشمکش شروع ہو گئی۔ جو 1975ء میں باقاعدہ خانہ جنگی کا روپ دھار گئی۔ یہ خانہ جنگی تقریباً 15 سال چلتی رہی اور 1989ءمیں اس خانہ جنگی کے خاتمے کی خاطر طائف میں فریقین کے مابین ایک نیا سیاسی معاہدہ ہوا۔ اس معاہدے میں یہ طے پایا کہ صدر کے اختیارات پہلے کی نسبت کم کر دیئے جائیں جبکہ یہ اختیارات وزیر اعظم اور اس کی کابینہ کو سونپ دیئے جائیں۔ اس خانہ جنگی کے دوران بھی حزب اللہ اپنی ایک شناخت بنانے میں کامیاب ہو چکی تھی۔

قارئین کے لئے دلچسپی کا باعث ہو گا کہ حزب اللہ نے اپنا سفر ایک فلاحی تنظیم کے روپ میں کیا تھا۔ وہ اسرائیل کے خلاف مسلسل بولتے بھی رہتے تھے مگر ابھی یہ درجہ ابتدائی تھا۔ مگر اسرائیل مخالف حلقوں میں ان کی آواز محسوس ہونے لگی تھی۔ اس وقت کے اہم ترین فکری لیڈر اور امل تنظیم کے بانی موسیٰ الصدر نے فلسطین کی تنظیم آزادی PLO اور امل کی مشترکہ کارروائیاں اسرائیل کے خلاف شروع کر دی تھیں۔ وہ بہت متحرک تھے مگر 31 اگست 1978ءکو وہ معمر قذافی کی دعوت پر لیبیا گئے اور وہاں سے اغواء ہو گئے۔ اور پھر ان کا کبھی بھی پتہ نہ چل سکا۔ خیال ہے کہ ان کو اسرائیل نے اغواء کروا کر قتل کروا دیا تھا۔ اپنی حیثیت حزب اللہ ایک حکمت عملی کے تحت بڑھاتی رہی اور صرف اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کی بجائے سیاسی میدان میں بھی اتر گئی۔ ایک مسلک کے پیروکار ہونے کے باوجود انہوں نے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو بنیادی نقطہ قرار دیتے ہوئے دیگر مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مسیحیوں کو بھی شمولیت کی دعوت دی۔ پہلی بار حزب اللہ کے جب بارہ اراکین کامیاب ہوئے تو ان میں 8شیعہ 2 سنی 1 میرونائیٹ مسیحی اور 1 رومن کیتھولک تھا۔ یہ 1992ءکا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بقاءسیاسی انداز میں آگے بڑھنے میں تلاش کر رہے تھے۔

لبنان کے حالیہ انتخابات 2009ء کے بعد منعقد ہوئے۔ انتخابات کو سلامتی کی صورت حال کے سبب سے مسلسل التواءمیں ڈالا جا رہا تھا مگر اب یہ کرنا ممکن نہ رہا تھا۔ ان انتخابات میں ٹرن آؤٹ تقریباً 50 فیصد رہا اور حزب اللہ، امل ایک بڑے اتحاد کی صورت میں کامیاب ہوتے نظر آئے۔ خیال رہے کہ لبنان میں کامیابی سادہ اکثریت کو نہیں سمجھا جاتا کیونکہ وہاں سادہ اکثریت مل ہی نہیں پاتی۔ مثلاً وزیر اعظم سعد الحریری جب وزیر اعظم بنے تو 128 نشستوں کے ایوان میں انہیں 33 نشستیں حاصل تھیں۔ صدر مشعل عون کو 18 نشستیں حاصل تھیں۔ ان انتخابات میں بنیادی طور پر 2 بلاک میدان میں اترے ہوئے تھے۔ ایک بلاک جس کی قیادت حزب اللہ کر رہی تھی وہ ال امل ولوفا کے نام سے انتخاب میں حصہ لے رہی تھی۔ وہ شام، ایران اور روس نواز جبکہ اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے نام پر انتخابات میں اتری ہوئی تھی۔ جبکہ دوسرا بلاک جس کی قیادت سعد الحریری کی فیوچر موومنٹ کر رہی تھی وہ استحکام، معیشت، اقتدار اعلیٰ اور عرب شناخت کے نام سے میدان میں تھی۔

حزب اللہ امل اور صدر مشعل عون کی قیادت میں فری پیٹریاٹک موومنٹ میں 60 نشستوں پر کامیابی حاصل کر لی۔ مشعل عون کی جماعت نے گزشتہ انتخابات میں 18 مگر اس دفعہ 22 پر کامیابی حاصل کی۔ سعد الحریری کی فیوچر موومنٹ 33 نشستوں کی بجائے 21 نشستوں تک محدود ہو گئی۔ خیال ہے کہ ان کے حامیوں نے سعودی عرب میں ان کے روکے جانے وہاں سے استعفیٰ کے اعلان کو ان کی کمزوری پر خیال کیا تھا۔ راقم الحروف نے ان کے استعفےٰ کے اعلان کے ساتھ ہی جنگ میں اپنے کالم “لبنان اور سعد الحریری” میں لکھ دیا تھا کہ وہ اپنا استعفیٰ پھر واپس لے لیں گے اور ہوا بھی ایسا ہی۔ مگر ان کے حامی ان سے اس حد تک ناراض ہو گئے کہ بیروت، تریپولی اور صیدون کے علاقے جو ان کے گڑھ سمجھے جاتے تھے وہاں سے حزب اللہ کے حمایت یافتہ سنی امیدواروں نے ان کے امیدواروں کو شکست دی۔ لیکن 21 نشستوں پر کامیابی کے باوجود وہ سب سے بڑے سنی رہنماءکے طور پر موجود ہیں اور لبنان میں رائج طریقہ کار کے مطابق کیونکہ وزیر اعظم سنی مسلک سے ہی ہو گا وہ اس منصب کے لئے سب سے تگڑے امیدوار کے طور پر موجود ہیں۔

ان کے مقابلے میں AZM کے سربراہ سابق وزیر اعظم نجیب میکاتی بھی وزارت عظمیٰ کی دوڑ میں بھاگ رہے ہیں۔ حالانکہ ان کے پاس صرف 4 نشستیں ہیں لیکن وہ پرامید ہیں۔ اس موقع پر صدر عون کے مخالف مسیحی لیڈر سمیر جعجع کی لبنان فورس 14 نشستیں لے کر بہت اہم ہو گئی ہے۔ وہ حزب اللہ کے بھی سخت مخالف ہے جبکہ دروزیوں کی جماعت پروگریسو سوشلسٹ پارٹی بھی 9 نشستوں کے ساتھ بہت اہم ہو گئی ہے۔ پھر اسرائیل نے حزب اللہ کی کامیابی کے بعد یہ بیان دیا کہ اب لبنان اور حزب اللہ میں فرق کرنا ممکن نہیں رہے گا۔ ابھی وہاں پر اگلا مرحلہ درپیش ہے کہ حکومت سازی کیسے ہوگی۔ حکومت سازی میں تاخیر ہونے کا بڑا واضح امکان موجود ہے۔ ہاں اگر حزب اللہ اور سعد الحریری نے ہوش سے کام لیا تو یہ مرحلہ آسانی سے طے بھی ہو سکتا ہے۔ جو لبنان میں امریکہ کی شکست ہو گا۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

اس معاملے سے جان چھڑانا مشکل ہے!

(تسنیم خیالی) سعودی صحافی جمال خاشقجی کا معاملہ سعودی عرب کے لئے روز بروز وبال ...