پیر , 20 اگست 2018

مقتد یٰ الصدر کامیاب ، کون گھاٹے میں کون کامیاب؟

(تسنیم خیالی)
عراقی پارلیمانی انتخابات میں غیر متوقع طور پر مقتدی الصدر کامیاب ہوچکے ہیں اور نئی حکومت انہی کی مرضی سے بننے کے امکانات روشن ہیں، ویسے تو مقتدی الصدر ایک متنازع شخصیت ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف مزاج کے حامل ہیں، جس کی وجہ سے انکی کامیابی سبھی کے لئے پریشانی کا باعث بنی ہوئی ہے، امریکہ کی بات کی جائے تو مقتدی الصدر عراق میں امریکی فوجیوں کی موجودگی کے شدید مخالف ہیں اور ہمیشہ سے مطالبہ کرتے آرہے ہیں امریکی فوجی عراق سے چلے جائیں البتہ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اگر امریکی فوجی عراق میں فوجیوں کو تربیت دینے کی غرض سے ہیں تو اس میں کوئی حرج نہیں وہ بھی اس صورت میں اگر امریکی فوجیوں کی موجودگی سے عراق کی خودمختاری متاثر نہیں ہوتی، امریکہ کا عراق پر قبضہ اور صدام حکومت کے خاتمے کے بعد مقتدی الصدر نے امریکی فوجیوں کے خلاف کچھ سال باقاعدہ طور پر جنگ لڑی، انہوں نے ’’جیش المہدی‘‘ نا می گروپ کی قیادت کی جو امریکیوں سے نبرد آزمارہے ہیں، امریکیوں کی کوشش ہے کہ نئی عراقی حکومت عراق میں امریکی مفادات کی حامی ہو اور امریکیوں کی مخالفت نہ کرے البتہ اگر حکومت مقتدی الصدر نے تشکیل دینی ہے تو آپ سمجھ سکتے ہیں کہ امریکہ کس مشکل میںپھنسا ہوا
ہے امریکہ کےلئے مقتدی الصدر کی سپورٹ حاصل کرنے کےلئے امریکہ کو کہیں نا کہیں جھکنا ہوگا اور مقتدی الصدر کو کچھ نا کچھ دینا ہوگا۔

رہی بات امریکی فوجیوں کی عراق سے انخلاء کی تو وہ ممکن نہیں اور مقتدی الصدر میں وہ سکت نہیں کہ وہ ایسا کر دکھائے، عراق میں اس وقت ایران کا بھی اثرورسوخ ہے اور اگر ایسا نا ہوتا تو داعش کو شکست حاصل نہیں ہوتی اور شاید اسکا پھیلائو ایران کے متعدد علاقوں تک پہنچ جاتا، ایرانیوں کو شوق نہیں کہ وہ عراق میں اپنا اثرورسوخ قائم کریںالبتہ حالات نے ایران کو ایسا کر نے پر مجبور کیا اگر ایران ایسا نا کرتا تو ایران کی سلامتی اور استحکام کو خطرات لاحق ہوجاتے، مقتدی الصدر کی کامیابی نے ایران کو بھی پریشان کر رکھا ہے کیونکہ وہ عراق میں ایرانی اثرورسوخ کے مخالف ہیں اور مطالبہ کرتے رہتے ہیں کہ ایران عراق میں اپنے اثرورسوخ کو ختم کرے، البتہ مقتدی الصدر کو اس بات پر غور کرنا چاہیے کہ عراق میں امریکی اثرورسوخ نے عراق کو تباہی کے دہانے پر لاکر کھڑا دیا تھا اور داعش اس بات کی بہترین مثال ہے جسے امریکہ نے ہی سعودی عرب کے ساتھ مل کر بنایا تھا جبکہ اثرورسوخ نے عراق کو تباہی کے دہانے سے واپس محفوظ جگہ پر لاکر کھڑا کردیا اور داعش نام کے ناسور کو ختم کرنے میں عراقیوں کی مدد کی۔

امریکہ اور ایران میں بہتر کون ہے اس کا فیصلہ مقتدی الصدر نے کرنا ہے، امریکہ اور ایران کے علاوہ اب سعودی عرب بھی عراق میں سیاسی دائوپیچ کررہا ہے اور اس ضمن میں کچھ مہینے قبل مقتدی الصدر کی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات ہوئی تھی، ممکن ہے کہ بن سلمان نے مقتدی الصدر کی کامیابی میں کوئی کردار نبھایا ہو، شاید انہوں نے مقتدی الصدر کی انتخانی مہم کی فنڈنگ کی ہو کچھ کہا نہیں جاسکتا البتہ یہ ضرور ہے کہ اس ملاقات میں کوئی’’سیاسی لین دین‘‘ کے معاملات طے ہوئے ہوں گے تاہم مقتدی الصدر کو یہ بھی معلوم ہے کہ عراق کی تباہی میں سعودیوں کا اہم کرداررہا لہٰذا وہ سعودیوں کے ساتھ محتاط رویہ اپنائیں گے، سعودی ولی عہد کو مقتدی سے زیادہ توقع نہیں رکھنی چاہیے کیونکہ مقتدی سعودی دوغلے پن کو اچھی طرح سے جانتے ہیں، اور مقتدی نے سعودی عرب کو صرف تجارت اور سفروآمدورفت کی حدتک رکھنا ہے، دیکھا جائے تو اس سے زیادہ مشکل میں کوئی اور نہیں بلکہ خود مقتدی الصدر ہی پھنسے ہوئے ہیں انہیں فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے کس سمت کروٹ لینی ہے، انہوں نے سوچنا ہے کہ کس نے عراق کا فائدہ کیا اور کس نے نقصان اور کون آگے فائدہ کرسکتا ہے، مقتدی الصدر کے بارے میں پیش گوئی کرنا ایک ناممکن سی بات ہے ان کی خراج اور سوچ کے بارے میں کچھ کہا نہیں جاسکتا اب صرف انتظار ہی کیا جاسکتا ، 90دن کے اندر فیصلہ ہوجائے گا خواہ وہ مقتدی الصدر نے کرنا ہویا کسی اور سیاسی اتحاد نے (جس کے امکانات کم ہیں)۔

یہ بھی دیکھیں

نئی حکومت، امیدیں اور خدشات

(تحریر: طاہر یاسین طاہر) زمینی حقائق ہمیشہ بڑے تلخ ہوتے ہیں، لیکن امیدیں انسان کو ...