ہفتہ , 18 اگست 2018

آیت اللہ العظمیٰ ابو القاسم خوئی کی زندگی کی مختصر داستان

مکمل نام : سید ابوالقاسم بن علی اکبر بن ہاشم تاج الدین موسوی خوئی
والدکا نام: سید علی اکبر( نامی گرامی عالم دین )
تاریخ ولادت:19 نومبر 1899ء
آبائی شہر:خوئی، ایران
رہایش :نجف اشرف، خوئی
تاریخ وفات: 8 اگست 1992 (92 )سال کی عمر میں۔
مدفن:حرم امیر المؤمنین امام علی (علیہ السلام) نجف اشرف عراق
اولاد:سید جمال الدین خوئی، سید محمد تقی خوئی ،سید عبدالمجید خوئی،سید عباس خوئی،سید علی خوئی،شہید سید ابراہیم خوئی

تعارف :
اپنے زمانے کے مایہ ناز شیعہ مرجع تقلید، مفسر اور علم رجال کے ماہرین میں سے ہیں۔ البیان فی تفسیر القرآن اور معجم رجال الحدیث ان کے نمایاں آثار ہیں۔ میرزا نائینی اور محقق اصفہانی فقہ اور اصول فقہ میں آپ کے برجستہ اساتید رہے ۔ آپ کی مرجعیت کا باقاعدہ آغاز تو آیت اللہ بروجردی کی رحلت کے بعد ہوا تھا لیکن آیت اللہ حکیم کی رحلت کے بعد آپ پوری دنیا خاص طور پر عراق میں مرجع اعلی کے طور پر پہچانے جانے لگے ۔ سید محمد باقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی سیستانی، حسین وحید خراسانی، سید موسی صدر اور سید عبدالکریم موسوی اردبیلی جیسے ممتاز مراجع آپ کے شاگردوں میں سے ہیں۔

اپنی مرجعیت کے دوران آپ نے دین کی تبلیغ ، ضرورت مندوں اور محتاجوں کی امداد کے پیش نظر ایران، عراق، ملائشیا، انگلستان،امریکا اور ہند و پاک سمیت دنیا کے مختلف ملکوں میں لائبریریوں ، مدارس، مساجد، امام باگاہوں اور ہسپتالوں کی تعمیر جیسے مذہبی اور فلاحی امور انجام دئے ہیں۔

1960ء کی دہائی میں سیاست کے فعال اور مؤثر شخصیات کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ اس دوران ایران میں برسر اقتدار پہلوی حکومت کے خلاف اپنا سیاسی موقف کا اظہار برملا مختلف بیانات کے ذریعے کرتے تھے جن میں سے ایک 1342 ہجری شمسی کو مدرسہ فیضیہ قم پر پہلوی حکومت کے حملے کی مذمت اور اعتراض ہے۔ اس کے بعد آپ نے دس سال تک سیاست کے ساتھ خدا حافظی کی لیکن ایران میں اسلامی انقلاب کی تحریک کے عروج کے دوران محمد رضا پہلوی کی بیوی "فرح دیبا” کے ساتھ آپ کی ملاقات اور اس سے پیدا ہونے والے شکوک و شبہات کے بعد مختلف موارد منجملہ اسلامی نظام کیلئے منعقدہ ریفرنڈم اور ایران عراق جنگ میں آپ نے کھل کر انقلاب کی حمایت کی۔ عراقی شیعوں کی انتفاضہ شعبانیہ شیعیان عراق نامی تحریک اور شیعہ مناطق میں انتظامی امور کی انجام دہی کیلئے شیعہ شوریٰ کی تشکیل کے مطالبے کی حمایت کی وجہ سے عراق میں صدام حسین کی بر سر اقتدار بعثی حکومت نے آپ کی کڑی نگرانی شروع کی اور عمر کے آخر تک اپنے گھر میں نظر بند رہے۔

ولادت اور نسب:
15 رجب سنہ 1317ہجری (بمطابق 19نومبر1899ء) کو ایران کے صوبے مغربی آذر بائیجان کے شہر ’’ خوئی‘‘ کے ایک علمی گھرانے میں آنکھ کھولی۔ ان کا سلسلۂ نسب امام موسی کاظم(علیہ السلام ) تک پہنچتا ہے۔ ان کے والد سید علی اکبر نامی گرامی عالم اور شیخ عبد اللہ مامقانی کے شاگرد تھے۔ وہ حصول علم کے بعد اپنے آبائی وطن واپس لوٹ آئے اور وہیں اپنے دینی اور علمی فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوئے۔ لیکن ایران میں تحریک مشروطیت میں اور غیر مشروعہ مشروطہ کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے خوئی کو چھوڑ کر نجف اشرف میں سکونت اختیار کر لی ۔

خصوصیات:
سید خوئی نہایت قویّ حافظے کے مالک تھے اور علمی تحقیق و تدریس کے سلسلے میں بہت محنتی اور تنقید و تحقیق کرنے والے عالم دین تھے۔وہ علمائے اہل سنت اور دوسرے ادیان کے دانشوروں سے مباحثے اور مناظرے کیا کرتے تھے۔ان کی زندگی سادہ اور زاہدانہ تھی اور زندگی کے سلسلے میں دینی طلباء اور علماء کی روش پر کاربند تھے اور طلباء کی زندگی کے اوصاف یوں بیان کرتے تھے: حلم و بردباری، تواضع، رجوع کرنے والوں کا احترام کرنا، سلام کرنے میں پہل کرنا، بڑوں اور علماء بالخصوص اپنے ہم عصر مراجع تقلید کی تکریم و تعظیم کرنا اور حضرت علی اور امام حسین علیہما السلام کی زیارت کا خاص اہتمام کرنا۔

تعلیمی سفر:
سید ابوالقاسم سنہ 1330 ہجری میں 13 سال کی عمر میں اپنے بھائی سید عبداللہ خوئی کے ہمراہ نجف اشرف میں اپنے والد سے جا ملے۔چھ سال حوزے کی ابتدائی اور سطوح عالی کی تعلیم مکمل کی ۔ ۱۴ سال فقہ و علم اصول فقہ سمیت دیگر مختلف علوم پڑھے ۔ان کے اپنے کہنے کے مطابق اساتذہ میں سے محمدحسین نائینی اور محمدحسین غروی اصفہانی سے زیادہ استفادہ کیا ۔

اساتید:
مرزا محمدحسین نائینی اور مرزا محمدحسین اصفہانی کے علاوہ جن اساتذہ سے استفادہ کیا:
شیخ فتح الله شریعت اصفہانی( متوفا ۱۳۳۸ق)
شیخ مہدی مازندرانی (متوفا ۱۳۴۲ق)
آقا ضیاء عراقی
دیگر اساتذہ میں شیخ محمدجواد بلاغی سے علم کلام، عقائد اور تفسیر، سید ابوتراب خوانساری سے علم رجال و درایہ، سید ابوالقاسم خوانساری سے علم ریاضیات، سید حسین بادکوبہ ای سے فلسفہ و عرفان اور اسی طرح سید علی قاضی سید ابوالقاسم خوئی کے تمام تعلیمی مراحل کے دوران حوزہ علمیہ نجف میں سید محمد ہادی میلانی (متوفا ۱۳۹۵ق)، سید محمدحسین طباطبائی (متوفا ۱۴۰۲ق)، سید صدرالدین جزائری، علی‌ محمد بروجردی (متوفا ۱۳۹۵ق)، حسین خادمی اصفہانی اور سید محمد حسینی ہمدانی سے مباحثہ کرتے رہے ۔

۱۳۵۲ق میں حوزہ علمیہ نجف کے بہت سے اساتذہ سے اجازہ اجتہاد حاصل کیا ان میں سے محمدحسین نائینی، محمد حسین غروی اصفہانی کمپانی، آقا ضیاء عراقی، محمدحسین بلاغی، مرزا علی آقا شیرازی، اور سید ابوالحسن اصفہانی ہیں ۔

تدریس:
نجف میں تحصیل علم کے دوران تدریس میں بھی مشغول رہے ،منابع کے مطابق جو کتاب بھی پڑھتے اسے تدریس بھی کرتے تھے ۔محمدحسین نائینی اور محمدحسین غروی اصفہانی کی وفات کے بعد سید ابوالقاسم خوئی اور مرزا محمدعلی کاظمی خراسانی کے درس پر رونق ترین درس شمار ہوتے تھے ۔محمد علی کاظمی خراسانی کی وفات کے بعد جمعیت کے لحاظ سے آپ کا درس سب سے بڑا ہوتا تھا، خود ذکر کرتے ہیں کہ بیماری و سفر کے علاوہ سال کے دوران مسلسل درس جاری رہتا تھا ۔ مجموعی طور پر نجف میں ستر سال تک تدریس کی جس میں سے پچاس سال تک حوزۂ علمیہ نجف کا اہم ترین درس آپکا شمار ہوتا تھا ۔ ایران، ہند، افغانستان، پاکستان، عراق، لبنان اور دیگر ممالک کے طلبا آپ کے درس میں شریک ہوتے تھے ۔

شاگردان:
بعض تالیفات میں انکے ۶۰۰ کے قریب شاگرد شمار کیے گئے ہیں ۔بعض برجستہ شاگرد انکی ہیئت استفتا کے عضو تھے مثلا صدرا بادکوبہ ای، سید محمدباقر صدر، مرزا جواد تبریزی، سید علی حسینی بہشتی، سید مرتضی خلخالی، سید علی سیستانی، محمد جعفر نائینی اور مرتضی بروجردی. حسین وحید خراسانی، سید علی ہاشمی شاہرودی، محمدتقی جعفری، سید محمد حسین فضل الله، بشیر نجفی، سید موسی صدر، حاج آقا تقی قمی، سید عبدالکریم موسوی اردبیلی نیز دیگر شاگرد بھی مذکور ہیں ۔

مرجعیت
سید خوئی کی مرجعیت کے سلسلے میں اقوال مختلف ہیں لیکن مسلّم یہ ہے کہ آیت اللہ بروجردی کی وفات کے بعد ان کی مرجعیت کا مسئلہ سنجیدگی کے ساتھ زیر بحث آیا اور آیت اللہ حکیم کی وفات کے بعد وہ برتر مرجع تقلید کے طور پر نمایاں ہوئے۔ اسی زمانے میں سید یوسف حکیم نے اپنے والد مرحوم کے پاس باقیماندہ شرعی وجوہات (اموال) سید خوئی کے سپرد کئے اور انہيں مرجع تقلید کے طور پر تسلیم کیا۔

نجف کے چودہ مجتہدین نے آپ کی اعلمیت کا اعلان کیا جن میں سے صدرا بادکوبہ ای، سید محمد باقر صدر، سید محمد روحانی، مجتبیٰ لنکرانی، شیخ موسی زنجانی، یوسف کربلائی، سید یوسف حکیم اور سید جعفر مرعشی بھی شامل ہیں نیز سید موسی صدر نے مجلس اعلای اسلامی شیعیان لبنان کی جانب سے آقای خوئی کی اعلمیت کا اعلان کیا۔

سیاسی فعالیت:
سید ابوالقاسم خوئی مرجعیت سے پہلے درس و تدریس کے ہمراہ اجتماعی اور سیاسی زندگی سے جدا نہیں رہے ۔ مختلف مناسبتوں اور ایران کی پہلوی حکومت کے غیر اسلامی اقدامات کے خلاف اظہار خیال کرتے رہتے تھے ۔پھر تقریباًدس سال کا عرصہ سیاست سے کنارہ گیری اختیار کی اور ایران میں انقلاب اسلامی ایران کی بہمن ۱۳۵۷شمسی میں کامیابی پر امام خمینی کی حمایت کی ۔لیکن جلد ہی انتفاضہ شعبانیہ کی حمایت کی وجہ سے نظر بند ہونا پڑا ۔سیاسی زندگی کے چند نمونے درج ذیل ہیں:

پہلوی حکومت کی مخالفت
مرجعیت سے پہلے سیاسی مسائل میں ایک نمایاں چہرے کی حیثیت سے سیاسی میدان میں موجود رہے اور بعض موقعوں پر انہوں نے شدید عکس العمل کا اظہار کیا ۔سید خوئی نے مہر ۱۳۴۱شمسی میں ایک ٹیلیگراف میں پہلوی حکومت کی ملکی اور صوبائی انجمنوں کی مخالفت کی اور انہیں غیر شرعی اور اسلامی کہا۔ اسی طرح سید محمد بہبہانی کو دئے جانے والے ایک پیغام میں اس بات پر تاکید کی کہ ملت کی آواز کو زور کے ذریعے دبانے میں پائیداری نہیں اور عوام کو فریب دینے والی تشہیرات مشکلات کا حل نہیں ہیں نیز وہ اقتصاد کو کمزور اور عوام کے غم و غصہ کو کا علاج نہیں ہے ۔ سال ۱۳۴۲شمسی کے شروع میں مدرسہ فیضیہ میں حکومتی کارندوں کے حملے کی سخت مذمت کی اور مملکت اسلامی کے انحطاط اور حکومتی عہدیداروں کی راہ و روش پر اظہار تاسف کیا ۔ ایک مہینے کے بعد ایرانی علما کی ایک ایک جماعت کے خط کے جواب میں فاسد حاکموں میں صلاحیت کے نہ پائے جانے اعلان کیا، روحانیت کی ذمہ داریوں کے بڑھنے اور انکی خاموشی کو ناروا قرار دیا ۔ ۱۵ خرداد ۱۳۴۲ش میں عوام کے کشت کشتار کے بعد ایرانی حکومت کی باڈی کو ستمگر ، ۲۱ویں اسمبلی کے انتخابات میں شرکت کی ممنوعیت کا حکم دینا اور اس انتخابات کے نتیجے میں قائم ہونے والی اسمبلی کو غیر معتبر کہنا، امام خمینی کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی کاروائی کی خبر کے نشر کے بعد امام خمینی کی حمایت کا اعلان اور دوسرے کئی اقدامات ان کے سیاسی اقدامات میں سے ہیں۔

دس سال سے زیادہ خاموشی کا دور:
آیت الله خوئی نے مرجعیت کے بعد سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور یہ دور نجف میں امام خمینی کے زمانے کے ہمزمان تھا۔انقلاب کے دوران واقعات پر ان کے سکوت نے اعتراضات کو جنم دیا ۔ آیت اللہ خوئی کے گھر شاہ ایران کی بیوی سے ۲۸ آبان ۱۳۵۷شمسی کی ملاقات سے مزید اعتراضات پیدا ہوئے لیکن آیت الله خوئی نے علما سے متعلق ایک یادداشت میں اس ملاقات کو ناگہانی اور اتفاقی کہا۔ [

فرح دیبا کی آیت الله خوئی سے ملاقات:
۲۸ آبان ۱۳۵۷شمسی کو شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کی بیوی فرح دیبا عید غدیر کے روز کسی پہلے سے طے شدہ پروگرام کے بغیر اچانک آقا خوئی کے گھر گئی اور ان سے ملاقات کی ۔ یہ ملاقات ان دنوں میں ہوئی جب ایران میں اسلامی انقلاب اپنے عروج کی حدوں کو چھو رہا تھا اور امام خمینی کو عراق سے نکال دیا گیا تھا۔اس ملاقات کی وجہ سے انقلابی محافل میں آیت اللہ خوئی تنقید کا نشانہ بنے ۔ یہی وجہ تھی کہ یہ مرجع تقلید نے سید صادق روحانی سے متعلق یادداشت میں اس ملاقات کے اچانک اور ناگہانی ہونے کی تاکید کی اور کہا کہ ہم نے اس ملاقات میں ایران میں ہونے والے ناخوشگوار واقعات اور فاجعات پر شدید تنقید اور اعتراضات کئے ۔ محمد رضا پہلوی کے نزدیکی شخص بنام حسین فردوست کے مطابق آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی نے فرح پہلوی کے تقاضائے ملاقات کا کوئی جواب نہیں دیا تھا اور فرح دیبا ذاتی طور پر اسلامی حجاب کے ساتھ آیت اللہ خوئی کے گھر گئی تھی ۔

انقلاب اسلامی ایران کی ہمراہی:
آیت اللہ خوئی نے آبان ۱۳۵۷شمسی میں فرح دیبا سے ملاقات کے بعد انقلاب اسلامی کی حمایت اختیار کی جبکہ ان دنوں میں پہلوی حکومت کے خلاف ایرانی عوام کے مبارزوں نے شدت اختیار کر لی تھی اور اسکے مختلف مواقع پر جمہوری اسلامی ایران کی حمایت کی ۔انقلاب کی کامیابی سے پہلے مراجع ،علما اور ملت ایران کے ایک بیانیے میں ایرانی عوام سے کہتے ہیں : وہ شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے شجاعانہ قدم بڑھائیں ۔ آقاخوئی نے انقلاب کی کامیابی کے بعد ایران میں جمہوری نظام کی تعین میں لوگوں کو انتخابات میں شرکت کی دعوت دی اور اپنے شاگردوں سے تقاضا کیا کہ وہ انقلاب کے امور میں بھر پور حصہ لیں ۔ایران و عراق جنگ میں صدام حکومت کے دباؤ کے باوجود ایرانی فوج کی اشیائے ضرورت میں وجوہات شرعیہ کے استعمال کے جواز کا فتویٰ دیا ۔

عراق سے ایرانیوں کا خروج:
۱۳۴۰ شمسی کی آخری دہائی میں عراق سے ایرانیوں کے خروج کے موقع پر آیت اللہ خوئی ان چند شیعہ علما میں سے ہیں جنہیں وہاں سے نہیں نکالا گیا ۔ بہت سے شاگردوں کے اس خروج کی وجہ سے نجف کے دروس کی رونق میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ۔آقا خوئی کے بہت سے شاگردوں نے حوزہ علمیہ قم میں اپنے استاد کی فقہی اور اصولی تفکر کی ترویج کی اور اس وقت حوزہ علمیہ قم حائری یزدی اور بروجردی کے نظریات کے تحت تاثیر تھا ۔ آقا خوئی کے شاگردوں کی یہاں موجودگی مرزا نائینی، محقق اصفہانی اور آقاضیاء عراقی کے فقہی اور اصولی مبانی کی آشنائی کا موجب بنی ۔

انتفاضہ شعبانیہ عراق:
عراقی شیعوں کی اس تحریک کی ہمراہی آیت الله خوئی کا اہم ترین سیاسی اقدام تھا کہ جس میں شیعوں کے تحت نظر علاقوں میں آپ نے شیعہ علاقے کے امور چلانے کیلئے نو افراد پر مشتمل کمیٹی مقرر کی ۔ آیت اللہ خوئی کی گھر میں نظر بندی سے اس انتفاضہ شعبانیہ کو شکست اور صدام حکومت کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا ۔

1991 عیسیوی میں آیت اللہ ابوالقاسم خوئی کواس تحریک کی مستقیم حمایت اور تعین رہبر کیلئے شوریٰ بنانے کی وجہ سے گرفتار کر کے بغداد روانہ کیا گیا ۔گرفتاری کے دو روز بعد زبردستی صدام حسین کے روبرو پیش کیا اور صدام نے نہایت توہین آمیز لہجے میں آپکو خطاب کیا ۔

وفات:
آیت اللہ سید ابوالقاسم خوئی بروز ہفتہ 8 صفر 1413 ہجری (بمطابق 8 اگست 1992ء) کو حرکت قلب بند ہوجانے کی وجہ سے شہر کوفہ میں وفات پاگئے اور حرم امیر المؤمنین علی بن ابی طالب(علیہ السلام) کے آستانے میں واقع مسجد خضراء کے صحن میں سپرد خاک کردیئے گئے۔

یہ بھی دیکھیں

معاشی بحران ،ترکی کا آئی ایم ایف سے رابطہ نہ کرنیکا اعلان

انقرہ (مانیٹرنگ ڈیسک)ترکی نے معاشی بحران سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے پاس ...