جمعرات , 19 جولائی 2018

جنوبی بحیرہ چین: متنازع جزیرے پر چینی بمبار طیاروں کی لینڈنگ

بیجنگ (مانیٹرنگ ڈیسک)چینی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K ان طیاروں میں شامل ہے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعوی کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعوی ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔

یہ نئی پیش رفت خطے میں کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے۔بیجنگ کے دفاعی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ ان بمبار طیاروں کو کہاں اتارا گیا ہے تاہم یہ کہا ہے کہ ان کی ٹریننگ میں مصنوعی سمندری اہداف کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

H-6K کے ایک پائلٹ جی ڈاکنگ کا بیان میں حکام کی جانب سے جاری بیان میں شامل کیا گیا ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ یہ ٹریننگ اصل جنگ میں ہماری ہمت کو تیز اور ہماری صلاحیتوں کو بڑھانے کا باعث ہے۔یہیں موجود ووڈی جزیرے پر ویتنام اور تائیوان دعویٰ کرتے ہیں۔

ایشیا میری ٹائمز ٹرانسپرینسی انیشییٹوٹ کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس سے قبل اس جزیرے پر چین نے اپنے جنگی جیٹ طیارے تعینات کیے تھے تاہم یہ پہلی بار ہے کہ یہاں بمبار طیاروں کو بھجوایا گیا ہے۔ادارے کا کہنا ہے کہ یہ H-6K اس جزیرے سے پورے جنوبی ایشیا تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔

ادھر پینٹاگون کے ترجمان کے حوالے سے خبر رساں ادارے روئٹرز کا کہنا ہے کہ امریکہ ہند- بحرالکاہل کو آزاد کرنے اور کھلوانے کے ارادے پر قائم رہے گا۔لیفٹننٹ کرنل کرسٹوفر لوگان کا کہنا تھا کہ متنازع علاقے میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی نقل و حرکت سے خطے میں کشیدگی بڑھے گی اور وہ غیرمستحکم ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

ٹرمپ انتخابات میں روسی مداخلت پر موقف سے پھر گئے

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) پیر کو ڈونلڈ ٹرمپ نے فن لینڈ کے دارالحکومت ہلسنکی میں اپنے روسی ...