منگل , 23 اکتوبر 2018

یورپ دباؤ ڈالے گا تو اپنی پالیسی پر نظر ثانی کریں گے، ایران

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ یورپی ممالک ایٹمی معاہدے کے تعلق سے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کررہے ہیں یا ایٹمی معاہدے سے امریکا کے نکلنے کو بہانہ بناکر دیگر معاملات میں ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں تو ایران اپنی موجودہ خارجہ پالیسی پر نظرثانی کرے گا۔

ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے اس تصور کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ پر اپنی شرطیں مسلط اور دنیا کے مختلف ملکوں نیز امریکی عوام کو اپنے فیصلے کا حامی بنا لیں گے جبکہ نہ صرف یورپی ممالک یا دنیا کے دیگر ممالک امریکہ کے ساتھ نہیں ہوئے بلکہ سروے نتائج کے مطابق امریکہ کے دو تہائی عوام نے بھی امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے پر اپنی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ایران کے اقتدار و عظمت کو محدود کرنے کی امریکی کوشش، جو واشنگٹن کی کمزوری و ناتوانی کی آئینہ دار ہے، نہ صرف کامیاب نہیں ہو گی، بلکہ اندرون و بیرون ملک ایران کی قدرت و توانائی کو بھی واضح کرتی ہے۔ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سکریٹری نے کہا کہ ایسی حالت میں کہ نگرانی کے واحد مرکز کی حیثیت سے ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی بارہا تصدیق کی ہے، امریکہ، جو عام شہریوں کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا شرمناک ماضی رکھتا ہے اور اس نے بچوں کی قاتل غاصب صیہونی حکومت کو ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح بھی کیا ہے، ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ کہنے کا حق نہیں رکھتا۔

یہ بھی دیکھیں

بیت المقدس: فلسطینی گورنر اور انٹیلی جنس ڈائریکٹر اغوا

مقبوضہ بیت المقدس (مانیٹرنگ ڈیسک) قابض اسرائیلی فوج نے مقبوضہ بیت المقدس کے فلسطینی گورنر ...