اتوار , 19 اگست 2018

نواسہ رسول اما م حسن علیہ السلام کو خراج عقیدت پیش کرنے کا منفرد انداز۔۔۔۔۔۔ زندہ دلان لاہور کی صدیوں پرانی روایت کا احیاء

(تحریر: انجم رضا)
نبی کریم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دنیا بھر کے مسلمان جس محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہیں ، یہی جذبہ عشق و مودت وہ خانوادہ رسول کے ساتھ بھی رکھتے ہیں،اور اہل بیت رسول ع سے محبت کا یہ جذبہ بلا تفریق مسلک و فرقہ تمام مسلمانوں میں بدرجہ اتم پایا جاتا ہے۔قرآن مجید میں ارشاد پروردگار ہے کہ

مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوۡلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللہ َ ۚ (پ۵،النساء:۸۰)

ترجمہ: جس نے رسول کا حکم مانابے شک اس نے اللہ کا حکم مانا۔اور یقینا تما م مسلمان چاہے سنی ہوں یا شیعہ، دیوبند ہو یا بریلوی، اہل حدیث یا کوئی بھی مکتبہ فکر سب کے سب تاسی رسالتماب ص میں اور فرمان رسول ص کی تابع فرمانی میں محبت اہل بیت ع کے جذبہ سے سرشار ہیںقرآن مجید میں ارشاد پروردگار ہے کہ

لِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّہُ عِبَادَہُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى وَمَن يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَہُ فِيہَا حُسْناً إِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ شَكُورٌ

مفسرین "ذوی القربی” کی تفسیر میں لکھتے ہیں: "ذوی القربی” سے مراد "علی”، "فاطمہ” اور ان کے دو فرزند "حسن” اور "حسین” علیہم السلام ہیں اور رسول خدا(ص) اس عبارت کو تین مرتبہ دہرایا تاکہ اذہان میں ہمیشہ کے لئے باقی اور زندہ رہے۔یہ (فضل عظيم) وہ ہے جس کی خوشخبری دیتا ہے اللہ اپنے ان بندوں کو جو ایمان لائیں اور نیک اعمال کرتے رہیں (اے میرے رسول!) کہئے کہ میں تم سے اس (رسالت کے عوض) پر کوئی معاوضہ (اور مزد و اجرت) نہیں مانگتا سوا (میرے) قرابت داروں (اور اہل خاندان) کی محبت کےاور جو کوئی نیک کام کرے گا ہم اسے اس میں بھلائی اور زیادہ عطا کریں گے، یقینا اللہ بڑا بخشنے والا ہے۔

تمام شیعہ ، سنی مفسرین نے سعید بن جبیر کے واسطے سے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم(ص) کی ہجرت مدینہ اور اسلامی معاشرے کی داغ بیل ڈالنے کے بعد، انصار نے آپ(ص) کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلامی نظام کے انتظام مذاکرات کئے اور کہا کہ "اگر اپنے نئے معاشرے کی تشکیل کے لئے اگر آپ کو مالی اور معاشی ضرورت ہے تو ہماری پوری دولت اور ہمارے تمام وسائل آپ کے اختیار میں ہیں؛ جس طرح آپ خرچ کریں اور ہمارے اموال میں جس طرح بھی تصرف کریں، ہمارے لئے اعزاز و افتخار کا باعث ہوگا؛ تو فرشتۂ وحی آیت مودت لے کر نازل ہوا:

"قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْہِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى”

ترجمہ: (اے میرے رسول!) کہئے کہ میں تم سے اس (رسالت کے عوض) پر کوئی معاوضہ (اور مزد و اجرت) نہیں مانگتا سوا (میرے) قرابت داروں (اور اہل خاندان) کی محبت کے۔

اہالیان لاہور جنہیں مولانا محمد حسین آزاد نے ـ” زندہ دلان لاہور”کا نام دیا ، صدیوں سے محمد و آل محمد کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے چلے آرہے ہیں، لاہور میں تشریف لانے والے صوفیا کرام اور مشائخ عظام نے محبت و سیرت اہل بیت کو اپنی تعلیمات کا محور بنایا، حضرت داتا گنج بخش، حضرت میراں حسین زنجانی،حضرت میاں میر، حضرت بابا فضل شاہ نور والے ، حضرت شاہ حسین، حضرت بابا شاہ جمال اور حضرت بابا شاہ کمال بزرگان دین کے مزارات پر آج بھی شمع عشق آل محمد کی فروزانی اس کا بین ثبوت ہے۔اور خاص طور حضرت بی بی پاک دامن کا مزار اقدس کو تو لاہوریوں کے لئے عقیدت و محبت کا مظہر ہے لاہور میں ذکر محمد و آل محمد کی ابتدا سید غلام علی شاہ المعروف بابا گامے شاہ سے منسوب کی جاتی ہے ۔

روایت ہے کہ بابا گامے شاہ دنیا سے ماورا زمانے کی نظروں میں دیوانے اور اہل بیت کی نگاہ پاک باز میں عارف کامل تھے۔ ہمیشہ سیاہ لباس زیب تن رکھتے اور دربار حضرت علی ہجویریؒ کے پہلو میں موجود کربلا گامے شاہ قدیم برف خانہ کی جگہ بیٹھے رہتے۔ ان دنوں ایک بڑھیا ”آغیاں مائی“ بھی موچی دروازے سے عاشورہ کے روز سرپیٹتے اور گریہ و زاری کرتے گامے شاہ کے ڈیرہ کی جانب آتی ۔ آہستہ آہستہ باباگامے شاہ کا حلقہ ارادت وسیع ہوتا گیا۔

روایت ہے کہ مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہد 1799ءتا1839ءمیں بابا گامے شاہ نے لاہور میں سب سے پہلے تعزیہ نکالا (کچھ محققین کی تحقیق کے مطابق 1828ءبنتا ہے) جس پر مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بابا گامے شاہ کو دربار میں طلب کرکے سرزنش کی اور کہا کہ وہ آئندہ تعزیہ نہیں نکالے گا۔ گامے شاہ نے انکار کیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ ایسا کرتا رہے گاجس پر رنجیت سنگھ نے اسے گرفتار کرکے شاہی قلعہ لاہور میں قید کر دیا جس پر رنجیت سنگھ ڈراؤنے خواب دیکھتا رہا اور ساری رات پریشان رہا۔ صبح ہوئی تو فقیر سید عزیز الدین کے ہمراہ بابا گامے شاہ کے زندان میں گیا اور بابا گامے شاہ سے معافی مانگنے کے بعد اسے رہا کر دیا۔

نواسہ رسول، جگر گوشہ علیؓ و بتولؓ، دوسرے تاجدار امامت حضرت امام حسنؓ کا یوم ولادت باسعادت پندرہ رمضان المبارک کودنیا بھر کے مسلمان بڑی عقیدت و احترام سے مناتے ہیں ، کیونکہ اما م حسن کی ذات والا صفات ہی تھی جس نے مسلمانوں میں صلح و آشتی کی جاوداں شمع روشن کیاسی لاہور شہر میں "خیال نو”کے مرکز پر اکٹھے نوجوان گزشتہ چار برس سے نواسہ رسول حضرت امام حسن ع کی ولادت کی خوشی میں اور ان کی تاسی میں اتحاد بین المسلمین کی شمع روشن کرتے ہیں، اور قدیم بادشاہی مسجد میں تمام شیعہ سنی مل کر اکٹھے نماز مغرب ادا کرتے ہیں اور افطار کرتے ہیں، اور صدیوں سے لاہوریوں کی عشق محمد و آل محمد ع کی روایت کا احیا کرتے ہیںاس سال بھی نواسہ رسول حضرت امام حسن ع کی ولادت کی خوشی میں اور ان کی یاد میں ستائیس مئی اتوار کی شام بادشاہی مسجد لاہور میں شیعہ سنی مسلمان مل کر نماز مغرب اداکریں اور ختمی مرتبت سے محبت کا اظہار کریںگےآئیے ہم سب مل کر ان کے لئے دست دعا بلند کریں کہ پروردگار ان نوجوانوں کی کوششوں کو کامیاب کر اور پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اتحاد کی توفیق اور تمام عالم انسانیت کے لئے امن آشتی کا پیغام پھیلانے والے بنا ۔آمین

یہ بھی دیکھیں

پاک روس اکھ مٹکہ (پہلا حصہ)

(وسعت اللہ خان) روسی سفیر الیکسی یوری وچ دیدوف نے بھی گذشتہ ہفتے بنی گالا ...