منگل , 18 دسمبر 2018

صدی کی سب سے بڑی ڈیل کیا ہے؟

(راجہ ناصر عباس جعفری)

’’ڈونلڈ ٹرمپ نتن یاھو اور محمد بن سلمان کی جلد بازی نے اس نام نہاد "صدی کے معاملے اور ڈیل” کو وقت سے پہلے ہی مختلف چیلینجز کا شکار کر دیا ہے۔ اوروہ جلد بازی در حقیقت، ٹرمپ کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کرنا اور اپنے سفارت خانے کو وہاں شفٹ کرنا تھا ۔جس کے بعد (فلسطینی صدر)ابو مازن محمود عباس نے جامع الازھر میں یہ اعلان کیا کہ کوئی ایسا فلسطینی پیدا ہی نہیں ہوا جو اس ذلت نامے(صدی کی ڈیل ) پر دستخط کرے ۔

اس وقت عرب رائے عامہ کا اتنا دباؤ ہے کہ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب میں عرب لیگ کا اجلاس بلا کر فلسطینیوں کے قتل عام اور امریکہ کی یروشلم میں سفارتخانے کی منتقلی کی مذمت کی گئی اسی طرح ترکی میں او آئی سی کا اجلاس بھی عربی اسلامی رائے عامہ کے دباؤ کے تحت ہی ھوا جو اپنی حد تک ایک مفید قدم تھا ۔

فلسطینی رائے عامہ بھی اس خیانت کو قبول کرنے کو تیار نہیں،گذشتہ دنوں فلسطین میںہونے والےمظاھرے اور شہادتیں اور قربانیاں اس بات پر گواہ ہیں کہ فلسطینی کئی دھائیاں گزرنے کے بعد بھی اپنی سرزمین اور قبلہ اول کے لئے قربان ہونے سےپیچھے نہیں ہٹیںگے۔اب جبکہ ان کی مدد کے لئے صحرا ئےکربلا سے طلوع ھونے والا مزاحمت اور مقاومت کا مکتب اور نظام ولایت فقیہ بھی موجود ہے جو فلسطینی مظلوموں کو کسی صورت بھی تنہا چھوڑنے کو تیار نہیں ،جو تمام تر مشکلات کے باوجود راستے کی رکاوٹوں کو عبور کرتا آگے بڑھ رہا ہے۔اور اس کا رھبر ایک الہٰی رھبر ھے جو صرف اور صرف اپنے الہٰی فریضے اور ذمہ داری کو انجام دینے کی بات کرتا ھے ۔جن کی سنن الھیہ پر گہری نظر ہےاس لیے ببانگ دہل یہ اعلان کرتے ہیں کہ "یہ سنت الہی ھے کہ اسرائیل نے نابود ھونا ھے”۔

اس وقت صدی کی نام نہاد ڈیل کرنے والے یہ تینوں مستکبرین بہت کمزور ہیں ہر ایک کو اندرونی مشکلات کا سامنا ہے،ان کا نقطہ نظر جنگ و جدال کے بغیر ان کے منصوبے کامیاب نہیں ہو سکتے۔

مقاومت کے ساتھ لڑی جانے والی اب تک کی ساری جنگیں یہ ہار چکے ہیں ۔خاص طور پراکسی وار میں یہ بھرپور شکست کھا چکے ہیںتوکیا یہ اب ڈائریکٹ اور براہ راست جنگ لڑ کر جیت سکتے ھیں؟ جواب نفی میں ہے۔

یمن میں یہ براہ راست جنگ ہاررہےہیں ،شام میں اب یہ براہ راست جنگ لڑنے سے گھبرا رہے ہیں ۔جس کی دلیل حالیہ دنوں میں جولان کے مقبوضہ علاقے پر (بقول اسرائیل ایران کا )حملہ جو دو گھنٹے سے زیادہ رھا اور امریکہ سمیت کوئی ملک بھی اسرائیل کی مدد کو نہیں آیا ۔

اسرائیل پر سراسیمگی چھائی ہوئی تھی اور مختلف ممالک کی منت و سماجت کر رھا تھا کہ مزید حملے نہ کئے جائیںتواب کیا اسرائیل یہ چاہے گا کہ اس کے ہمسائے میں ایسی جنگ شروع ھو جو اس کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے ۔

لہذا اب وہ کوشش کریں گے کہ سیاسی طریقوں سے وہ اپنے نقصانات کو کم سے کم کریں اور مخالفین کے خلاف سیاسی پلاننگ کے ذریعے اپنے فی الجملہ مقاصد کو حاصل کر سکیں ۔لیکن مدمقابل مقاومت کی قیادت جہاں عسکری طور ہر بہت ماہر اور زبردست ہے وہیں سیاسی طور پر بھی ایسے ہی ہے ۔سیاسی پراسیس کے ذریعے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے زیادہ وقت چاہئے اور صبر بھی چاہئے جو امریکی اسرائیلی اور آل سعود کی اسٹیبلشمنٹ میں نظر نہیں آتے ۔انہیں بہت جلدی ھے وقت تیزی کے ساتھ ان کے ھاتھ سے نکل رھا ھے ۔لہذا ھمارے عارف باللہ رھبر عزیز کے بقول اسرائیل آئندہ25 سال نہیں دیکھ سکے گا ۔اور اب تو چند سال شاید گزر بھی چکے ۔

در حقیقت اس صدی کی سب سے بڑی ڈیل کی جگہ اس صدی کے وہ سب سے بڑے حوادث ھیں جن میں امریکہ کا ٹوٹنا،اسرائیل کی غاصب حکومت اور سسٹم کا خاتمہ اور آل سعود کے یزیدوں کا عبرتناک انجام ھے ۔ان شاء اللہ عدل کا سورج طلوع حق کر رھے گا وہ بھی دیکھیں گے اور ھم بھی دیکھیں گے۔ھم پرامید مستقبل کے عقیدے کے حامل اور لقاء اللہ کے عاشق جو جنت سے بھی بالاتر اور یہ ھمارے دشمن،ابلیس زادے مستقبل کے حوالے سے مایوس اور ناامید ۔یہ دھوکے باز ،فریب کار اور جھوٹے اور ھم(یعنی مقاومت) صداقت کے امین اور حق و حقیقت کے علمبردار ۔وہ شراب کے نشے میں مست مدھوش اور بے ھوش اور ھم عشق خدا اور اس کی محبت کی شراب پیے سرمست و بصیرت کی روشنیوں میں آگاہ اور باخبر ۔وہ انسانوں کو ان کی توحیدی فطرت سے دور لیجا کر دنیا پرستی کے دیار غربت کے زندان میں قیدی بنانے والے اور ھم انسانوں کو ان کی توحیدی فطرت کی طرف لیجا کر ھیھات منا الذلة کا جام آزادی پلا کر انہیں ھر قسم کی غلامی کی زنجیروں کو توڑنے اور حریت کی بہشت میں لے جانے والے ۔بالآخر ھم صراط مستقیم کے مسافر سب کچھ اللہ کی راہ میں لٹا کر بھی خوش بختی اور سعادت اور کامیابی کا احساس کرنے والے ۔شہادت کے (ظاھری موت ) حیات و زندگی ھونے پر ایمان رکھنے والے یعنی ھمیشہ حیات کے نعمت سے مالا مال رھنے والے اور یہ موت سے فرار کرنے والے بزدل ۔آپ خود ھی سوچ لیں اس معرکہ حق و باطل، اس جنگ فقر و غنا کا انجام کیا ھو گا ۔فاستقم کما امرتکم من فئة قلیلة غلبت فئة كثيرة بإذن الله والله مع الصابرين۔

بالآخر یہ مادہ پرست کب تک لوگوں کو دنیا کی اس جعلی بہشت کے دھوکے (اور لالچ) میں انہیں خدا سے دور رکھیں گے ۔مکتب کربلا جو آزادی خواھی اور عدالت خواھی کی اصلی اور حقیقی "خواستگاہ” یعنی سرچشمہ ھے ۔جو 14 صدیاں گزرنے کے بعد آزادی خواھی اور عدالت خواھی(عدالت طلبی یعنی آزادی اور عدالت کے مطالبے )کے شجرہ طیبہ کو نہ صرف اسے خشک نہیں ھونے دیتا بلکہ اسے صدا بہار رکھے ھوئے ھے۔14 صدیوں سے یہ تحریک مختلف مراحل سے گزرتی ھوئی اب ایک اھم مرحلے میں داخل ھو چکی ۔شیطان بزرگ کے اکثر "ترفنداور حربے” یعنی حیلے اور چالیں کربلائی بصیرت رکھنے والے مقاومت کے بلاک اور اس کی قیادت نے ناکام بنا دیے ۔قدم قدم پر غیبی مدد صاف دکھائی دے رھی ھے ۔

کربلائی پرچم اب سیدہ کائنات کے بہادر ،شجاع ، مدبر اور بابصیرت بیٹے اور ان کے چٹانوں سے زیادہ بلند ھمت اور مضبوط ارادوں کے حامل پیروکاروں ( قاسم سلیمانی ،سید حسن نصراللہ ، سید عبدالمالک حوثی ،حشد شعبی ۔۔۔۔۔۔) کے مضبوط ھاتھوں میں ہے ۔

اربعین وچہلم سید الشھداء یعنی مکتب تشیع کی جہانی و عالمی تجلی اور ظہور ، یعنی آزادی خواھی، حریت پسندی اور عدالت طلبی یعنی عدل وانصاف کی تلاش کی راہ کے سرفروشوں کے آزادی اور حریت کے امام کی بارگاہ میں لبیک یا حسین ؑ کے فلک شگاف نعرے بلند کرتےعاشقانہ حضور ، یعنی ظہور امام عصر عج کی طرف ایک عظیم” جھش ” و حرکت یعنی ھم صرف ظلم کے مٹ جانے ،آزادی کے حاصل ھو جانے پر اکتفا کرنے والے اور راضی ہونے والے نہیں بلکہ نظام عدل بھی چاھئے ۔یعنی آزادی و حریت عدل کے ساتھ چاھئے ۔عدل کے بغیر آزادی یعنی ایک گڑھے سے نکل کر دوسرے گڑھے میں گرنا ھے ۔‘‘بشکریہ مڈل فوکس ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

پاکستان کو نئے چیلنجز کا سامنا

(ڈاکٹر عطاء الرحمٰن) نواز شریف حکومت کے جانے کے بعد ابھی حالیہ انتخابات میں عوا ...