جمعہ , 22 جون 2018

امریکہ ایران سے کیا چاہتا ہے؟

(تسنیم خیالی)
جوہری معاہدے سے دستبرداری کے بعد دنیا بھر پر واضح ہوگیا ہے کہ امریکہ ایک جھوٹا اورناقابل اعتماد ملک ہے، البتہ سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ نے ایسا کیوں اور کس کےلیے کیا، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ٹرمپ کے زیر قیادت امریکی انتظامیہ نے ایسا اسرائیل کی خوشی اور رضامندی کےلئے کیا، ایک اور وجہ جس کے لئے امریکہ ایرانی جوہری معاہدے سے دستبردار ہوا ہےیہ ہےکہ ایران پر سخت پابندیوں کا دبائو ڈال سکے جس کے نتیجے میں حکومت تبدیل ہوجائے یہ بات امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو کی حالیہ پریس کانفرنس سے ثابت ہوتی ہے،جس میں اس نے سخت لہجہ اپناتے ہوئے ایران پر تاریخ کی سخت ترین پابندیاں عائد کرنے کا عندیہ دیا ہے جو پمپیو کے بقول شمالی کوریا اور عراق پر بھی عائد نہیں کی گئی تھیں، پمپیو نے یہ بھی کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ایک ہی صورت میں ممکن ہوگا اگر وہ ہماری تمام شرائط کو تسلیم کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کرتاہے۔

پمپیونے کل 12 شرائط بتائی ہیں اور تمام شرائط نا ممکن نوعیت کی ہیں جنہیں ایران کسی بھی طور قبول نہیں کرےگا ، دل چسپ بات یہ ہے کہ ان تمام شرائط سے فائدہ صرف اور صرف اسرائیل کو حاصل ہوگا، پمپیو کی بیان کردہ یہ 12شرائط درج ذیل4 چیزوں کے گرد گھومتی ہیں)۔

۱۔ ایرانی میزائل پروگرامز کا خاتمہ اور ان پروگرامز کے تحت تیار ہونے والے ہتھیاروں کی تلفی۔
۲۔ ایران کیطرف سے ’’دہشت گرد‘‘ تنظیموں کی حمایت کی بندش یعنی امریکہ اور اسرائیل کی نظر میں حزب اللہ، حماس اسلامی اور عراق میں الحشرالشعبی دہشت گرد تنظیمیں ہیں جن کو ایرانی حمایت حاصل ہے، ایران سے اگر معاہدہ کرنا ہے تو وہ ان جماعتوں کی حمایت فی الفور بند کرے۔
۳۔ ایران مشرق وسطیٰ کے تنازعے میں مداخلت بند کرے (یعنی سب سے پہلے مسئلہ فلسطین، پھر لبنان، شام اور عراق)
۴۔ شام سے مکمل طور پر ایرانی فورسز کا انجلاء۔

یہ واضح ہے کہ ان تمام شرائط پر عمل درآمد سے فائدہ صرف صہیونی ریاست اسرائیل کو حاصل ہوگا، یہ شرائط دراصل ایران کے دست وبازو کاٹنے کے مترادف ہیں اور اس قسم کی شرائط سے واضح ہوتاہے کہ امریکہ کا اصل مقصد ایرانی حکومت کا خاتمہ ہے، جس کا خواب وہ دہائیوں سے دیکھتا آرہا ہے،واضح ہے کہ ایران ان امریکی شرائط قبول نہیں کرےگا کیوں ان شرائط کو قبول کرنے سے ایران کی سالمیت اور خود مختاری کو خطرات لاحق ہوں گے، لہٰذا ایران سخت پابندیوں کو قبول کرنے کو تیار ہے مگر ذلت آمیز ان شرائط کو نہیں ،اب دیکھنا یہ ہے کہ روس، چین اور یورپی یونین کا امریکی سخت پابندیوں کے ردعمل میں کیا جواب ہو گا کیوں کہ ان پابندیوں کے اثرات بہرحال ان پر بھی پڑیں گے، کیا یورپ (جس طرح کہہ رہا کہ وہ جوہری معاہدے پر عمل درآمد کرتا رہے گا) ایران کے ساتھ امریکہ کے آگے ڈٹ کرکھڑا رہے گا، کیا روس اور چین ایران کی حمایت کریں گے؟

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...