منگل , 19 جون 2018

امارات اور شامی کردوں کی حمایت

(تسنیم خیالی)
ایک وہ دور بھی تھا جب متحدہ عرب امارات کسی بھی ملک کے معاملات میں مداخلت نہیں کیا کرتا تھا بلکہ ہمیشہ عرب ممالک کے باہمی اختلافات کو ختم کرنے پر زور دیا کرتا تھااوربعض اوقات باقاعدہ طور پر ثالثی کا کردار بھی ادا کیا کرتا تھا۔ یہ صورت حال بانی متحدہ عرب امارات شیخ زاید آل نہیان کی وفات تک جاری رہی اور امارات شیخ زاید کی اس معقول پالیسی پر عمل کرتا رہا، قابل غور بات یہ ہے کہ شیخ زاید کے کسی بھی بیٹے کی جرأت نہیں تھی کہ اپنے والد کے احکامات پر عمل درآمد نہ کرے، البتہ یہ صورتحال شیخ زاید کی وفات کے بعد پوری طرح بدل گئی اور اب امارات مشرق وسطیٰ سمیت پوری دنیا میں انتہائی شیطانی کردار نبھارہا ہے اور اس کردار کے پیچھے کوئی اور نہیں بلکہ شیطان العرب کے نام سے مشہور اماراتی ولی عہد شیخ محمد بن زاید ہیں، یمن، لیبیا، قطر، شام ، عراق، صومالیہ اور ناجانے کون کون سے ممالک میں اس بن زاید نے تباہی مچارکھی ہے، ان ممالک کی تباہی نے محمد بن زاید کی پیاس اب تک نہیں بجھائی اور بن مزید تباہی کے لئے ترکی کی پیچھے پڑگئے ہیں۔

اس غرض کےلئے اماراتی شام میں سرگرم کرد مسلح گروپوں کی حمایت کرتے ہوئے ان کی مدد کررہے ہیں، امارات اس وقت ترکی کا بہت بڑا مخالف ملک بنا ہوا ہے جس کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ ترکی اخوان المسلمین کا بہت بڑا حمایتی ہے جبکہ امارات اخوان المسلمین کا سب سے بڑا دشمن ہے، امارات کے نزدیک اس وقت اخوان کی حمایت کرنے والا سب سے بڑ املک ترکی ہے ’’اور اخوان المسلمین کو اگر کمزور کرنا ہے تو ترکی کو کمزور کرنا ہوگا‘‘۔

اس سوچ کے پیش نظراماراتی کھل کر شامی کردوں کی مدد کررہے ہیں، جنکا شمار ترکی کے اہم دشمنوں میں ہوتا ہے، ترک حکومت کے نزدیک شام کے شمالی علاقوں میں سرگرم کرد تنظیمیں دہشت گرد ہیں جن سے ترکی کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں، امارات کی کوشش ہے کہ ترک سرحد پرایک کرد ریاست قائم ہوجو شام کی تقسیم سے معرض وجود میں آئے،ا س ریاست کے ذریعے امارات ترکی کو کمزور کرنا چاہتا ہے اور اس کے اندرونی حصوں میں خلفشار پیدا کرنا چاہتا ہے، اس غرض کےلئے اماراتی حکام بے دریغ پیسہ خرچ کررہے ہیں یہی نہیںبلکہ اماراتی فنڈنگ سے ترکی میں متعدد دہشت گردانہ کارروئیاں بھی ہوئیں، کردوں کی حمایت کے علاوہ اردگان کی حکومت کو ختم کرنے کےلیے جون 2016ء میں ترکی کے ناکام فوجی انقلاب میں بھی امارات نے بھرپور حصہ لیا اور انقلاب کو کامیاب کرانے کےلئے ہرممکن کوشش کی امارات اور ترکی کے درمیان کشیدہ صورتحال فی الحال کمی کی طرف نہیں جائےگی کیونکہ ایک اور معاملہ بھی ہے جس نے اماراتیوں کو آگ بگولا کررکھا ہے اور وہ معاملہ ہے قطر کے بائیکاٹ کا جس میں ترکی کھل کر قطر کی حمایت کررہا جو امارات کو ہضم نہیں ہورہاہے۔

امارات کی کوشش ہے کہ ترکی میں مصر جیسی حکومت تشکیل دی جائے جسکاسربراہ سیسی کی طرح امارات کا غلام ہو اور اماراتی مفادات کےلئے پیش پیش ہو، ترکی میں مصر جیسی کمزور حکومت قائم ہونے سے خطے میں بہت سی تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں اور یہ سبھی تبدیلیاں منفی نوعیت کی ہیں جن کی وجہ سے علاقے میں نئے تنازعات اور فسادات جنم لیں گے ،نتیجے میں اسرائیل اور امریکہ کو فوائد حاصل ہوںگے اور یہی بن زاید کا مشن ہے۔

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...