ہفتہ , 18 اگست 2018

عرب و غرب کے مظالم کا شکار فلسطین

(ٹی ایچ بلوچ)
سرزمین انبیاءؑ آل یہود کا ستم کا نشانہ بنی ہوئی ہے اور اہل ایمان عالمی طاقتوں کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ اسرائیلی مظالم اور طویل جد و جہد نے فلسطینیوں کے عزم و ارداہ کو متزلزل نہیں کر سکے۔ اب بھی جب فلسطینی اپنی سرزمین پر صہیوںیوں کے غیر قانونی قبضے کے 70 سال مکمل ہونے پر 15 مئی کو یوم نکبہ منارہے تھے، جبکہ احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے جاں بحق درجنوں فلسطینیوں کی تدفین کا عمل بھی جاری ہے۔ 15 مئی 1948ء کو اسرائیل کے وجود میں آنے پر فلسطینی عوام اس دن کو یوم نکبہ کے طور پر مناتے ہیں، کیونکہ 1948ء کی جنگ کے نتیجے میں اس دن 7 لاکھ فلسطینیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا گیا تھا۔ اسی طرح امریکی سفارتخانے کی تل ابیب سے یروشلم (بیت المقدس) منتقلی اور اس کے افتتاح پر احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج نے فائرنگ کردی تھی، جس سے 58 نہتے فلسطینی جاں بحق اور 2700 سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔ یروشلم میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح خاص طور پر اسرائیل کے قیام کی 70 ویں سالگرہ پر کیا گیا، جبکہ اس تقریب میں شرکت کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی ایوانکا ٹرمپ خصوصی طور پر اپنے خاوند جیرڈ کشنر کے ہمراہ اسرائیل پہنچی تھی۔

ادھر اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 58 فلسطینیوں کی ہلاکت اور ہزاروں کے زخمی ہونے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے آزاد تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی، جسے امریکا نے روک دیا۔ غیر ملکی نشریاتی ادارے آر ٹی ای کی رپورٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے بیان میں فلسطینیوں کے پر امن مظاہرے پر فائرنگ سے بے گناہ فلسطینیوں کی شہادت پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تھا اور اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا تھا تاکہ احتساب کا عمل شفاف رہ سکے۔ غزہ میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے فلسطینیوں کی شہادت اور امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی پر دنیا بھر کی جانب سے رد عمل دیکھا گیا۔ پاکستان نے یروشلم میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی کئی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے مختلف شہروں میں امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنازئشین پاکستان کی جانب سے اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج بھی کیا گیا اور اسرائیلی پرچم نذرآتش کیے گئے۔ ترکی کی جانب سے بھی فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی سخت مذمت کی گئی اور اسے فلسطینیوں کی نسل کشی قرار دیا گیا۔ اس حوالے سے عربی نشریاتی ادارے الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ترکی نے واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے اپنے سفیروں کو امریکا اور اسرائیل سے واپس بلا لیا۔ اس کے علاوہ انقرہ کی جانب سے غزہ کی موجودہ صورتحال اور اسرائیل کی جانب سے طاقت کے استعمال پر اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

ترکی کے نائب وزیر اعظم بیکر بوزداگ کا کہنا تھا کہ واشنگٹن اور تل ابیب میں موجود ترکی کے سفارتکاروں کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے۔ ادھر سعودی عرب نے بھی اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں پر طاقت کے استعمال اور نہتے فلسطینیوں کی اموات پر سخت مذمت کی۔ سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق سعودی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس تشدد کو روکے اور فلسطینی عوام کا تحفظ کرے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین کے معاملے پر سعودی عرب ان کے ساتھ ہے اور عالمی قرار دادوں کے تحت فلسطینیوں کو حقوق کی فراہمی کی حمایت کرتا ہے۔ تاہم امریکی سفارت خانے کی یروشلم منتقلی پر سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت کی ہے۔ علاوہ ازیں فلسطیںیوں پر ہونے والے مظالم پر ایران کی جانب سے بھی سخت رد عمل کا اظہار کیا گیا۔ پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایرانی وزارت خارجہ محمد جاوید ظریف نے اسرائیلی حکومت پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پر امن مظاہرین پر طاقت کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینیوں کا مطالبہ اور حق ہے کہ انہیں ان کی سرزمین واپس کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو یہ ٹاسک دے دیا گیا کہ وہ دنیا کے سب سے بڑے کھلی جیل میں احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کا قتل عام کرے۔ سیکیورٹی کونسل کی جانب سے غزہ کی موجودہ صوتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ تمام فریقین اس طرح کے واقعات کو روکیں اور امن قائم کریں۔

اقوام متحدہ نے کہا کہ تمام ریاستیں ایسے اقدام اٹھائیں جس سے تشدد کو مزید بڑھنے سے روکا جاسکے، تاہم وائٹ ہاؤس کی جانب سے فلسطینیوں کے مظاہرے کو تشدد کا نام دیا گیا اور کہا گیا کہ اس میں فلسطینی عسکریت پسند گروپ حماس ملوث تھا۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ واضح طور پر تصدیق کرتا ہے کہ امریکا کی نظر میں بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی معاہدوں کی کوئی وقعت نہیں ہے۔ اُسے دنیا بھر میں کوئی بھی دیانتدار ثالث نہیں مانتا۔ اِس کا اثر و رسوخ اِس کے قائدانہ کردار کی وجہ سے نہیں بلکہ اِس کی طاقت کی وجہ سے ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کو دانشورانہ سطح پر مسترد کردیا گیا ہو مگر یہ اب بھی امریکا پر حاکم عسکری، کارپوریٹ، مالیاتی (ایم سی ایف سی) گٹھ جوڑ کی پالیسیوں میں زندہ ہے۔ اِن میں سے کسی کو بھی دنیا میں مسلمانوں کی بُری حالتِ زار کے بارے میں حقائق کو چھاپانا نہیں چاہیے۔ اِس کے کئی حکمران اپنے ہی لوگوں کے دشمنوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ وہ اُن کی انسانی اور سیاسی ترقی کے خلاف کام کرتے ہیں کیوں کہ اُنہیں خوف ہے کہ اِس سے اُن کی طاقت ختم ہوجائے گی۔ مشرقِ وسطیٰ میں یوں تو لاتعداد بحران ہیں، مگر فلسطین تنازع تمام تنازعات کی ماں ہے۔ گزشتہ سات دہائیوں میں اِس نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر خطے میں اور کچھ حد تک پوری مسلم دنیا میں آگ بھڑکائی ہے۔

خطے میں دوسرے بحران وقتاً فوقتاً اپنی شدت، خون ریزی اور علاقائی و بین الاقوامی اثر میں فلسطینی تنازعے کو بھی گہنا دیتے ہیں۔ مگر اِس عظیم ترین مسئلے کے حل کے بغیر اِس خطے کے لوگ امریکا اور اسرائیل کی بڑھتی ہوئی بربریت اور ظالمانہ حملوں، اُن کی گھبرائی ہوئی بادشاہتوں اور آمریتوں اور ملکی اور غیر ملکی دہشتگرد حملوں کے شکار بننے والوں اور انتہاپسندوں کے حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ فلسطینیوں، عربوں، مسلمانوں اور دیگر کمزوروں کے لیے یہ جہنم درحقیقت امریکی ایم سی ایف سی اور اِس کے علاقائی پٹھوؤں کے لیے جنت ہے۔ امریکا اور علاقائی پٹھوؤں کی حمایت سے اسرائیل ایسا حتمی حل چاہتا ہے، جس سے یا تو فلسطینی بتدریج فلسطین سے نکل جانے پر مجبور ہوجائیں، یا پھر کچھ بے معنی اور مکمل طور پر منحصر ہوکر کچھ بستیوں تک محدود ہوجائیں، جن کے بیچ میں مغربی کنارے کو ٹکڑوں میں کاٹ دینے والی پھیلتی ہوئی اسرائیلی آبادیوں کی وجہ سے بہت زیادہ فاصلہ ہوگا۔ اِس کے علاوہ مغربی کنارہ مکمل طور پر غزہ سے کٹ جائے گا۔ فلسطینی، غزہ میں اسرائیل اور مصر کے درمیان جبکہ مغربی کنارے میں اسرائیل اور اردن کے درمیان قید ہوکر رہ جائیں گے۔ یروشلم سے متعلق ٹرمپ کا تازہ ترین فیصلہ مسلمانوں اور دنیا کے دیگر لوگوں کے لیے ایک اور صدمہ انگیز باب کھولنے کے مترادف ہے۔ کشمیر کے معاملے پر ہندوستان کی ہٹ دھرمی اور سیاسی موقع پرستی خاص طور پر ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے ایسا ہی ایک خطرہ ہے۔ مسئلہ کشمیر کے ایک منصفانہ حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو اِن حقائق اور خطرات کو مدِنظر رکھنا ہوگا۔

انسدادِ دہشتگردی اور علاقائی امن کے نام پر امریکا اور اُس کے آلہ کاروں کی ریاستی اور غیر ریاستی دہشتگردی، پہلے سے کہیں زیادہ تباہ کن تنازعات اور انسانی ہجرت سے بھرپور ایک اور صدی یقینی بنا رہے ہیں، جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔ یہ اتنے طاقتور مگر گرے ہوئے لوگ ہیں جوکہ دنیا کے خاتمے سے بھی فائدہ اُٹھانے کی کوششوں میں ہیں۔ کشمیر اور فلسطین جیسے خطرناک مسائل کا حل صرف انسانی عظمت کی بحالی اور انسانی حقوق کو یقینی بنانے پر بین الاقوامی اتفاق سے ہی ممکن ہے اور اِس میں کوئی استثنیٰ نہیں ہونا چاہیے۔ اقوامِ متحدہ کے گرد گھومتا ایک نیا ورلڈ آرڈر اور ایک ترمیم شدہ چارٹر اکیسویں صدی میں انتہائی ضروری ہے۔ ایک گلوبلائز ہوتی ہوئی دنیا میں بین الاقوامی رویوں کے بنیادی اصول و ضوابط کا خیال رکھا جانا چاہیے، جو کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر میں بھی موجود ہیں۔ مغرب، بشمول امریکا، اِس بات پر فخر کرتا ہے کہ وہ ایسی ثقافت اور تہذیب ہے جس نے اِن دورِ جدید کے رویوں اور تقاضوں کو اپنا رکھا ہے۔ مگر ایک ایسی دنیا جس میں ٹیکنالوجی، طاقت اور ہوس کا دور دورہ ہو، وہاں اِن باتوں کی کوئی اہمیت نہیں رہتی، پھر چاہے انسانی بقاء کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کتنے ہی مباحثے کرلیے جائیں۔ اقوامِ متحدہ کا چارٹر دنیا کا اپنے آپ سے وعدہ تھا کہ اِن شیطانی پالیسیوں اور نظریوں کو دوبارہ نہیں دہرایا جائے گا، جس کی وجہ سے دو عظیم جنگیں، مگر افسوس کہ چارٹر آج روندا جاچکا ہے۔ اِس کی وجہ واحد ہائپر پاور کی پالیسیاں ہیں۔ سرد جنگ کے اختتام، بالخصوص 11 ستمبر کے بعد سے اقوامِ متحدہ کے امن بحالی، قیامِ امن اور امن برقرار رکھنے کے مشنز کو کچھ کامیابی تو ملی ہے، مگر جہاں امریکی فوجی حملوں اور بلیک آپریشنز نے پورے سیاسی معاشروں کو تباہ کردیا ہو، وہاں وہ سیاسی طور پر غیر ضروری بن کر رہ گئے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

تھپڑ کی عمرانیات اور تاریخ

(حسن مجتبٰی)  ویسے تو میں ذاتی طور اپنا ’’دوسرا گال پیش کرنے‘‘ کے حق میں ...