منگل , 23 اکتوبر 2018

صہیونی معاشی پابندیوں کا شکار القدس کے روزہ دار!

تاریخی اعتبار سے مقبوضہ بیت المقدس کے مسلمانوں کو تیسرے مقدس ترین مقام یعنی قبلہ اول کے محافظ اوراس کے ہمسائے ہونے کا شرف حاصل رہا ہے۔ ماہ صیام کو اہل فلسطین سے خصوصی نسبت ہے مگر القدس کے باشندوں کے ساتھ یہ نسبت ما سوا ہے۔

رواں ماہ صیام ایک ایسی حالت میں فلسطینیوں پر سایہ فگن ہوا ہے کہ القدس کے باشندے دوہری مصیبت اور مشکلات کا شکار ہیں۔ ماہ صیام سے دو روز قبل امریکی حکومت نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ القدس منتقل تو اس پر فلسطین بھر میں شدید غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ قابض فوج نے غزہ کی پٹی میں پرامن فلسطینی مظاہرین کا قتل عام کیا جس کے نتیجے میں ساٹھ سے زاید فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہوگئے۔ یوں پورا فلسطین غم اور صدمے سے دوچار ہوگیا۔یہ مصیبت اور پریشانی ان دیگر ان گنت مشکلات میں سے ایک ہے جو پہلے سے القدس کے باشندوں پر مسلط ہیں۔

ان دیگر مشکلات میں اسرائیل کی طرف سےالقدس کے باشندوں پر مسلط کی گئی معاشی پابندیاں ہیں۔ ماہ صیام کے بابرکت مہینے میں اور اس کے علاوہ صہیونی ریاست کی طرف سے بازاروں میں اشیاء کی قیمتیں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں تاکہ روزہ داروں کو اور بھی ستایا جاسکے۔

یہ مشکلات اور قدغنیں نہ صرف عام شہریوں کے لیے ہیں بلکہ کاروباری طبقے کے لیے بھی ہیں۔ القدس میں معدودے چند فلسطینی دکانداروں کو بھی اسی کساد بازاری کا سامنا ہے۔ فلسطینی دکانداروں پر طرح طرح کے ٹیکس لگا کر انہیں کاروباری سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکا جا رہا ہے۔

تنہائی اور ناکہ بندی
فلسطینی تاجر مصطفیٰ ابو زھرہ نے مرکز اطلاعات فلسطین کے نامہ نگار سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ماہ صیام کی روحانی برکات کو جس طرح دنیا کے دوسرے خطوں کے مسلمان محسوس کرتے ہیں یا ان سے مستفید ہوتے ہیں ہم نہیں ہوسکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب بھی مسلمانوں کا کوئی مذہبی موقع آتا ہے تو صہیونی ریاست کی طرف سے اشیاء صرف کی قیمتیں بڑھا دی جاتی ہیں۔ فلسطینی دکاندار بھی چیزیں مہنگی فروخت کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ ان پابندیوں کا سامنا نہ صرف مسلمانوں کو کرنا پڑتا ہے بلکہ مسیحی برادری بھی صہیونیوں کی برابر کے ظلم کا شکار رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیت المقدس کو فلسطین کے دوسرے شہروں سے الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔ شہرکے فلسطینی باشندوں کو مقبوضہ غرب اردن کے بازاروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ القدس کی مکمل طور پر ناکہ بندی کی گئی ہے۔ غرب اردن سے شہری ماہ صیام میں روز مرہ کی اشیاء فروخت کرنے کے لیے نہیں لاسکتے ہیں۔

کمر توڑ ٹیکس
چکن اور مٹن کے تاجر خضر النتشہ کا کہنا ہے کہ تجارتی سرگرمیوں کے دوران ہمیں امید ہے کہ ماہ صیام کے دوران اشیاء کی قیمتوں میں کمی لائی جاسکے گی مگر ہمیں اس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ طرح طرح کے اسرائیلی ٹیکسوں سے تاجروں اور فلسطینی صارفین کی کمر دہری ہوچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عام خریداروں کی جیب کو دیکھتے ہوئے ہم فلسطینی دکاندار چکن اور مچھلی کی قیمتوں میں حتیٰ الامکان کمی کرتے ہیں مگر یہ معمولی رعایت بھی عام شہریوں کو کوئی زیادہ فائدہ نہیں دسے سکتی۔

مقامی دکاندار ودیع الحلوانی کا کہنا ہے کہ ماہ مقدس کے دوران القدس اور غرہ کی پٹی کی معاشی حالت قریب قریب ایک ہی جیسی ہوجاتی ہے۔ رواں ماہ صیام کے دوران بھی غزہ اور القدس کے فلسطینی باشندوں کو ایک ہی طرح کے دکھوں کا سامنا ہے۔ غزہ میں نہتے فلسطینی مظاہرین کے قتل عام پر جتنا دکھ اور صدمہ اہل غزہ کو ہم القدس کے باشندوں کو بھی اتنا ہی صدمہ ہے۔

خیال رہے کہ فلسطین میں ایک ایسے وقت میں یہ ماہ صیام آیا ہے کہ اسرائیلی ریاستی دہشت گردی میں رمضان سے دو روز قبل 63 فلسطینی شہید اور تین ہزار زخمی ہوگئے۔ اس کے علاوہ دوسرا ظلم یہ کہ چودہ مئی کو امریکا نے تل ابیب سے اپنا سفارت خانہ مقبوضہ بیت المقدس منتقل کرکے فلسطینیوں کے حقوق پر نیا ڈاکہ ڈالا ہے۔بشکریہ مرکز اطلاعات فلسطین

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...