اتوار , 19 اگست 2018

دشمن تو ڈرپوک ہے مگر ہم کمزور

(تسنیم خیالی)
عرب اسرائیل تنازعے کو دہائیاں گزر چکی ہیں اور اتنے عرصے میں اگر دیکھا جائے کہ اسرائیلیوں کا پلڑا تمام عرب اور مسلمانوں پر بھاری رہا (یہ بات درست ہے کہ اسرائیل اکیلا نہیں امریکہ اور یورپ اس کے ساتھ ہیں مگر عرب اور اسلامی ممالک ملکر کو ئی معمولی طاقت بھی تو نہیں)حالانکہ اسرائیلیوں سے بڑھ کر ڈرپوک قوم دنیا میں نہیں اور انہیں شکست دینا کوئی مشکل کام نہیں، اسرائیلیوں کے ڈرپوک پن کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اپنی کابینہ کے ہمراہ اکثر زیر زمین بنے ٹھکانوں میں اجلاس منعقد کرتے ہیں اور حال ہی میں اس قسم کا اجلاس منعقد ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں بھی ہوں گے، اسرائیلیوں کا دعویٰ ہے کہ زیرزمین اجلاس منعقد کرنے کا مقصد کسی بھی جاسوسی کی کوشش سے بچنا ہے، اسرائیلیوں کے بقول ان کے اردگرد دشمن بہت زیادہ ہیں جن کی جاسوسی سے بچنا ضروری ہے، اس قسم کے مضحکہ خیز بہانوں کے ذریعے اسرائیلی اس حقیقت کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ انتہائی ڈرپوک اور خوفزدہ قوم ہے، مگر افسوس کہ بہادری کے حوالے سے مشہور مسلمان دہائیوں سے اسرائیل سے شکست کھارہے ہیں جس کی وجہ بھی خود مسلمان ہی ہیں، دشمن چاہے کتنا ہی ڈرپوک اور آپ بہادر کیوں نا ہوں اگر آپ کےاندر غدار اور دھوکے بازہوں گے تو ڈرپوک نے ہمیشہ بازی لے جانی ہے مسلمانوں میںاس ایک یادو نہیں بلکہ کئی غدار اور دھوکے باز موجود ہیں جو اسرائیل کی برتری کی وجہ ہیں، مثال کے طور پر سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کہتے ہیں کہ اسرائیلیوں کو سرزمین فلسطین پر اپنی ریاست قائم کرنے کا پورا حق ہے ،بن سلمان کی طرح مصری صدر سیسی بھی اسرائیل کے ساتھ غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف سرگرم ہے، غزہ کافی عرصے سے اسرائیلی محاصرے کی زد میں ہے جس کی وجہ سے غزہ کے اقتصادی وسماجی حالات بہت خراب ہیں، اور افسوس کہ اس محاصرے میں سیسی کلیدی کردار نبھاتے آرہے ہیں، سیسی کے احکامات پر غزہ کے ساتھ لگے مصری سرحد پر ’’رفع‘‘ نامی گزرگاہ جو غزہ کےلیے کس شہ رگ سے کم ، سیسی نے حکم دے رکھا ہے کہ ’’رفع‘‘ کو بند رکھا جائے۔

اماراتی حکام بھی اسرائیلیوں کے ساتھ ملے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کے خلاف بدترین سازشوں میں سب سے آگے ہیں، بحرینی حکام، مراکش حکام، اردنی حکام، تیونسی حکام، ترکی حکام اور ناجانے کون سے عرب اور اسلامی ممالک کے حکمرانوں نے ان ڈرپوک اسرائیلیوں کی مدد کرکے انہیں مسلمانوں پر مسلط کردیا ہے، اس معاملے کا حل صرف اور صرف ان ممالک کی عوام کے پاس ہے، ان ممالک کی عوام کو آج نہیں توکل اپنے حکمرانوں کے خلاف اٹھنا ہوگا، اور انہیں اقتدار سے نکال باہر پھینکنا ہوگااورایسے حکمران لانے ہوں گے جو اسرائیل، امریکہ اور برطانیہ کے غلام نہ ہوں، اسرائیلیوں کو شکست دینا کوئی غیر معمولی یا مشکل کام نہیں البتہ اسرائیل تک پہنچنے کے لئے مسلمانوں کو اپنے ہی درمیان موجود دھوکے باز حکمرانوں کا کچھ کرنا ہوگا۔

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر) قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری ...