منگل , 19 جون 2018

اقتصادی پابندیاں اور عالم اسلام

(ڈاکٹر دوست محمد)

عالمگیریت کے سبب آج یقیناً دنیا کے سارے ممالک کسی نہ کسی حوالے سے ایک دوسرے پر انحصار کرنے کیلئے بہرحال محتاج نہ سہی، ضرورت مند ضرور ہوتے ہیں۔ سائنس و صنعتی انقلاب اور بنکوں کے وجود میں آنے سے بہت پہلے سیدھی سادی زندگی میں بھی انسان، قبائل اور معاشرے ایک دوسرے کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے اور بتدریج اس ضرورت کی تکمیل کیلئے بارٹر نظام کی تشکیل ہوئی اور زندگی رواں دواں رہی، بارٹر نظام (چیز کے بدلے چیز) میں انسانوں کے درمیان انسانیت اور انسانی ضروریات کے احساس کے تحت تعاون اور اشیاء کا تبادلہ لالچ، مادہ پرستی اور زرپرستی کے بیخ کنی کا بہترین سلسلہ تھا ۔ آقائے نامدار ﷺ نے اسلئے انسانی معاشروں کے درمیان اخوت و تعاون و ایثار کا سلسلہ جاری رکھنے کیلئے بعض بنیادی ضروری اشیاء پر سب کا حق تسلیم کرایا۔

جس میں پانی، چارہ گاہ اور آگ وغیرہ شامل ہیں۔اشیاء کے بدلے اشیاء میں بھی ایسا نظام قائم فرمایا کہ سود کی جڑ کاٹی گئی۔ گندم کے بدلے گندم، جو کے بدلے جوہی ملے گی۔ ایک ہی جنس کی اشیاء میں اضافے کو سود قرار دے کر ہمیشہ کیلئے منع فرمایا اور مسلمان معاشرے کو ایک بڑی لعنت سے محفوظ فرمایا، لیکن افسوس کی بات ہے کہ مسلمان امت اپنے اعمال کی کمزوریوں کے سبب عالمی قیادت کے منصب سے معزول ہوئی تو یہو د ونصاریٰ کو اقتدار ملا۔ یہودیوں نے عالمگیر انسانی معاشروں اور ملکوں کو اپنی مٹھی میں رکھنے کیلئے اپنے ماہرین معاشیات کے ذریعے مغربی ملکوں میں جو نظام معیشت رائج کیا اُس کی بنیاد سود (ربا) پر تھی۔ ایسی نظام ربا کو مضبوط و مستحکم اور دلکش بنانے کیلئے بینک کی شروعات کیں اور میرے خیال میں بینک آف انگلینڈ دنیا میں پہلا بینک تھا۔

جس نے سود کی بنیاد پر قرض کا لین دین شروع کیا اور آج یہ سلسلہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی صورت میں ڈالر کو عالمی کرنسی بنا کر پوری دنیا کو ایک ایسے جال میں پھنسا کر رائج اور رواں دواں ہے کہ اس سے نکلنا بہت مشکل دکھائی دیتا ہے۔ حضرت محمد ﷺ نے مختصر الفاظ میں سودی نظام کی کیا بیخ کنی فرمائی ہے۔ ارشاد مبارک ہے ’’قرض پر لیا گیا نفع سود ہے‘‘ آج یار لوگوں نے بینک سے لئے گئے قرض پر سود کو نفع کا نام دیکر جائز قرار دیا ہے اور اس کو کاروباری قرض (کمرشل لون) کانام دیا ہے۔ یہ متجددین کا ذہنی اختراع ہے ورنہ رباالفضل اور رباالنسیہ دونوں حرام ہیں۔ بینک اس سودی نظام کا مضبوط ترین ادارہ ہے۔ آج دنیا بھر کی تجارت بینک کے ذریعے ہوتی ہے۔

ورلڈ بینک اس میں ’’ہاتھی کے پائوں میںسب کا پائوں ‘‘کے مصداق بنیادی کردار ادا کر رہا ہے۔ غریب ملکوں کے بینک اس عالمی بینک کے بچے جمہور ے ہیں۔ یہ بے چارے تو وہاں سے پابندی لگنے کے بعد مفلوج ہو جاتے ہیں اور اس کا اپنا کردار وہی ہوتا ہے جو ہارون الرشید بادشاہ نے اپنے محل کی بالکونی میں کھڑے ہو کر بادل کے ایک ٹکڑے کو دیکھ کر اپنی بڑی سلطنت اور اقتدار کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اے بادل! تو کہیں بھی برسے، تیرا خراج میرے پاس ہی آئیگا۔ دنیا میں کہیں کوئی معاشی اور تجارتی سرگرمی ہو وہ سود کی بنیاد پر اور ڈالر میں ہونے کے سبب خراج یہود کے بینک اور مالیاتی اداروں کو ہی ملے گا۔ اس انسانیت کش معاشی نظام نے انسانیت کو اپنے اُس مقام سے گرادیا ہے۔جو ابن آدم ؑ کی حیثیت سے اُس کا بنیادی حق تھا۔ علامہ اقبال ؒ نے مغرب کے قلب میں رہ کر اس نظام کو بہت قریب سے دیکھ کر فر مایا تھا۔

ایں بنوک ایں فکر چالاک یہود

نور حق از سینہ آدم ربود

یہودی کی چالاک فکر نے بینکوں کے ذریعے انسان کے سینے سے نور حق کشید کر کے اُسے معاشی حیوان بنادیا ہے۔ آج پاکستان، ایران اور شاید ترکی کو پھر سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ جائے۔ کیا اس جال سے نکلنے کیلئے قرآن کریم اور اسوہ حسنہ سے رہنمائی نہیں لی جا سکتی۔ یقینا اس کا حل وہاں موجود ہے اور آسان حل یہ ہے کہ ’’سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی کیساتھ تھام لو‘‘۔ سورہ برأت (توبہ) کے نزول کے بعد اُس میں ایک حکم یہ ہے کہ ’’مشرکین اس سال کے بعد مسجد حرام کے پاس بھی نہ پھٹکنے پائیں۔ اگر تمہیں مفلسی کا خوف ہے تو اللہ تعالیٰ تمہیں (اپنے فضل سے) دولت مند کر دے گا۔ اگر چاہے‘‘۔ مشرکین کی مخالفت سے بعض مسلمانوں کے دل میں،

خیال آیا کہ حج کے موسم میں زیادہ اجتماع کی وجہ سے جو تجارت ہوتی ہے یہ متاثر ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ’’ اس مفلسی (کاروبار کی کمی) سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ عنقریب اپنے فضل سے تمہیں غنی کر دے گا‘‘ چنانچہ اللہ تعالیٰ کی مدد سے فتوحات اور دعوت کے ذریعے سارا عرب مسلمان ہوگیا اور حج کے موسم میں حاجیوں کی ریل پیل پہلے سے بھی زیادہ ہوگئی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے اور حج سعودی عرب کی معیشت میں بہت بڑے کردار کا حامل ہے۔ آج بھی اگر مسلمان ممالک بیک زبان سودی نظام معیشت ترک کر کے آپس میں بلا سود بینکاری کے ذریعے باہمی تجارت کو فروغ دینے کا عہد کرلیں تو واثق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و حکمت سے مسلمان دنیا کو سود کی لعنت سے نجات دلا کر ترقی یافتہ ملکوں کی اقتصادی پابندیوں کے مضر اثرات سے محفوظ کر لے گا۔

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...