منگل , 19 جون 2018

قبلہ اوّل نوحہ کناں ہے!

(مرزا روحیل بیگ)

فلسطین کی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے۔ فلسطین کی تاریخ کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ شام کے بعد سب سے زیادہ انبیاءکرام علیہ السلام اسی سرزمین پر تشریف لائیں۔ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ آمد اسلام کے بعد مسلمانوں کو اس جانب رخ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ مسلمانوں کے علاوہ عیسائی اور یہودی بھی فلسطین کی سرزمین کو مقدس تسلیم کرتے ہیں۔ فلسطین کا تبصرہ تمام آسمانی کتابوں میں ملے گا۔ فلسطین اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان واقع ہے۔ مگر اب اس کے بیشتر حصوں پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ اقوام متحدہ نے نومبر 1947 ءمیں جب فلسطین کی عرب ریاست کو تقسیم،

کر کے یہودی ریاست کے قیام کے حق میں فیصلہ دیا تو بیت المقدس کے بارے میں طے پایا کہ اس شہر کو ان تینوں مذاہب کے پیروکاروں کے حوالے کرنے کی بجائے اسے ایک بین الااقوامی شہر قرار دے دیا جائے، مگر فلسطینیوں نے یہ پلان تسلیم نہیں کیا اور اپنے پورے علاقے کی آزادی کے لیے یہ جدوجہد جاری رکھی۔ 1948 ءکی جنگ میں اسرائیل نے مغربی یروشلم پر قبضہ کر لیا جب کہ مشرقی یروشلم اردن کے کنٹرول میں رہا۔ 1967 ءکی جنگ میں اسرائیل نے عربوں کی متحدہ فوج کو شکست دے کر اردن سے مغربی کنارے کے ساتھ ساتھ مشرقی یروشلم کا علاقہ بھی چھین لیا۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو اپنا علاقہ قرار دیا تو 1967 ءمیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے۔

متفقہ طور پر اس کی مخالفت کی۔ بیت المقدس سے مسلمانوں کے جغرافیائی اور تاریخی تعلق کے علاوہ روحانی اور ایمانی سلسلہ بھی ہے، جو کہ تمام تعلقات اور رشتوں سے مضبوط ہے۔اسلام دشمن قوتیں مسلم ممالک میں سوچی اور منظم سازش کے تحت حکومتوں کو بے بس کر کے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ہیں اور اپنی مرضی کے فیصلے کرواتی ہیں۔ دوسری جانب امت مسلمہ کو معاشی، اخلاقی، علاقائی اور لسانی بنیادوں کے ساتھ رنگ و نسل کی بنیاد پر تقسیم کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ اسرائیل کے ساتھ مسلسل جنگوں کے بعد عربوں نے زمینی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے اوسلو معاہدہ بھی کیا۔ یہ معاہدہ امریکی صدر نے کروایا تھا کہ انہیں جلد آزاد وطن،

مل جائے گا، لیکن اس معاہدے کے بعد بھی عربوں کو آزاد وطن کی بجائے انتشار اور موت ہی ملی۔ اوسلو معاہدے کو 25 سال بعد دفن کر دیا گیا۔ اسرائیل کا اگلہ منصوبہ نعوذ باللہ مسجد اقصی کو شہید کر کے وہاں اپنا ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا ہے۔ برطانیہ اور امریکا سے پہلے مسلمان ملک ترکی دنیا کی سپر پاور تھی۔ یہودی اور عیسائی مسلمانوں سے اپنی شکست بھول نہ سکے ہیں۔ سابق امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر کا یہ بیان خصوصی اہمیت کا حامل ہے کہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی طرف بڑھ رہی ہے، جس کے نتیجے میں مسلمان راکھ میں تبدیل ہو جائیں گے۔ اس جنگ میں اسرائیل زیادہ سے زیادہ عرب مسلمانوں کو قتل کر کے سات عرب ممالک پر قبضہ کر لے گا۔ اسکی اہمیت،

علاقائی صورتحال اور تیل کی وجہ سے ہے۔ گریٹر اسرائیل کا منصوبہ نظر آ رہا ہے۔مقبوضہ بیت المقدس کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل کا دارلحکومت قرار دینے کے فیصلے کے بعد سے عالم اسلام میں ہیجانی کیفیت طاری ہے۔ گزشتہ دنوں امریکا کی جانب سے اپنا سفارتخانہ یروشلم منتقل کرنے کے متنازعہ فیصلے پر عملدرآمد کے بعد سے شروع ہونے والے مظاہروں میں پانچ بچوں سمیت باسٹھ فلسطینی شہید اور ستائیں سو سے زئد زخمی ہو چکے ہیں۔ فلسطین کے اندر معصوم بچے ٹینکوں کے نیچے روندھے جا رہے ہیں۔ فلسطین کی سسکتی اور بلکتی انسانیت اقوام عالم کا ضمیر جنجھوڑ رہی ہے۔ اسرائیل کی اس جبرو بربریت کے بعد اسلامی ممالک کی،

تنظیم او آئی سی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں غزہ میں فلسطینی مظاہرین کی ہلاکتوں کی بین الاقوامی سطح پر تحقیقات کرائے۔ او آئی سی کے اعلامیے میں فلسطینیوں کے تحفظ کے لیئے ایک بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ تنظیم کے رکن ممالک سے کہا گیا ہے کہ وہ ایسے کسی بھی ملک، کمپنی یا فرد پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دیں جو یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرتا ہو۔ او آئی سی اجلاس میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوان نے امریکا کی جانب سے یروشلم کو اسرائیل کا دارلحکومت تسلیم کرنے اور اپنا سفارت خانہ وہاں منتقل کرنے کے اقدامات کی مذمت کی، اور،

اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ فلسطینیوں کا قتل عام روکنے کے لیئے بین الاقوامی فوج تعینات کی جائے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے اسرائیلی بربریت کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے اور اعلان کیا ہے کہ پاکستان آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت جاری رکھے گا۔بدقسمتی سے مسلم دنیا کو یہ سیاہ دن اپنی بے عملی کے باعث ہی دیکھنا پڑا ہے۔ جب کہ اپنے مفادات کے اسیر مسلم دنیا کے اکثر حکمران مسلم دنیا کے لیے ہزیمتوں کا باعث بننے والے امریکی اقدامات اور فیصلوں کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔ اگر مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارلحکومت کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق ٹرمپ کے 6 دسمبر 2017 ءکے اعلان پر ہی مسلم دنیا کے قائدین،

محض رسمی مذمتوں سے باہر نکل کر عملیت پسندی کے راستے پر آ جاتے اور اسلام کی نشاط ثانیہ کے احیا کے لیے کچھ تردد کرتے تو آج حالات شاید مختلف ہوتے۔ فلسطین پر اسرائیل کے غاصبانہ قبضے کے ستر سال پورے ہو گئے ہیں۔ ان ستر سالوں میں لاکھوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے جبکہ کروڑوں ملک سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ آزادی ہر روح کا بنیادی حق ہے۔ انسان تو اشرف المخلوقات ہے، انسان کو آزاد پیدا کیا گیا ہے۔ اگر وہ قیدی ہے تو حدود خدا کا قیدی ہے، آزادی حدود کی پابند ہے۔ اگر دریا بپھر جائے اور کناروں سے باہر آ جائے تو طوفان ہے، اور طوفان باعث تباہی و بربادی ہوتا ہے۔ جب بھی مسلمان اپنے آپ کو جسد واحد کے قلب میں ڈھال لیں گے تو اسرائیل،

فلسطینیوں کو ان کے علاقے واپس کرنے اور بھارت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دینے پر خود بخود مجبور ہو جائے گا۔ اور اس کے لیے مظاہرے، جلسے، جلوس، ریلیاں اور احتجاج کرنے کی اور اقوام متحدہ اور امریکا کی طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...