منگل , 23 اکتوبر 2018

12سالہ جانثار طالب علم

(ڈاکٹر نوشین عمران )

کنڈل شاہی گاؤں مظفرآباد سے74کلومیٹر جبکہ دوسری جانب لائن آف کنٹرول سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہاں سے نالہ جاگراں گزرتاہے جو پہاڑوں سے گلیشیئرزکا سخت ٹھنڈا پانی لے کر دریائے نیلم میں شامل ہو جاتاہے۔ جاگراں کے مقام پر48میگاواٹ کا ہائیڈرو پاور پلانٹ بھی لگایا گیاہے۔ اسی پراجیکٹ کے حوالے سے سویڈن کے ماہرین نے یہاں سے کچھ فاصلے پر کٹن کالونی بھی بنائی تھی جو اب تک قائم ہے۔ کبھی کبھار طلباءیا سرکاری اداروں کے ٹورز کوبھی ٹھہرایا جاتاہے۔ کنڈل شاہی میں مقامی لوگ نالہ جاگراں کے دونوں اطراف پہاڑوں پر آباد ہیں۔ انہیں ملانے کے لئے دریا پر لکڑی کا پل بنایا گیا ہے جسے کنڈل شاہی برج کہا جاتاہے۔اس مقام کی خوبصورتی دونوں اطراف کے،

پہاڑ‘ صاف بہتا گلیشیئر کا پانی اور لکڑی کا یہ کمزور پل ہے۔ سیاح اکثر اس جگہ رک جاتے ہیں‘ تصویریں بنواتے ہیں‘ پتھروں سے ہوتے ہوئے دریا کے پانی کے بالکل قریب پہنچ جاتے ہیں۔ پل پر سیلفیاں لیتے ہیں اور یہاںموجود مقامی لوگوں کی دکانوں سے کھانے پینے کی اشیاءخریدتے ہیں۔اس جگہ پکوڑے سموسے‘چائے‘ دریا کے پانی میں ٹھنڈی کی گئی بوتلیں ملتی ہیں۔ اس علاقے کی ایک اورخوبصورتی کنڈل شاہی پل کے مقام سے تھوڑا آگے جا کر چھوٹی سی آبشار بھی ہے۔13مئی اتوار کے دن نیلم ویلی میں کنڈل شاہی کے مقام پر72کے قریب سیاح موجود تھے۔ ان میں ٹپس کالج فیصل آباد‘ ساہیوال میڈیکل کالج کے طلباءکے علاوہ ایک پرائیویٹ ٹور آپریٹر کے ساتھ آئے سیاح بھی تھے۔

ان میں ایک گروپ کٹن کالونی میں رہائش پذیر تھا اور اتوار کو واپس جانے سے پہلے اس جگہ تصاویربنانے کے لئے رک گیا۔ خبریں مظفر آباد کے ریذیڈنٹ ایڈیٹر امتیازبٹ کے مطابق25 سے زائد طلباءتصاویر لینے کے لئے لکڑی کے بنے پل پر کھڑے ہوگئے۔ اپنے اس جگہ ہونے کے ثبوت کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کرنے کے لئے وہ بھول گئے کہ لکڑی کاپل ان کی خوشیوں اور بوجھ کوبرداشت نہیں کرسکے گا۔ دیکھتے ہی دیکھتے پل درمیان سے ٹوٹ گیا اور25کے قریب طلبہ وطالبات پانی میں گر گئے جن کے ہاتھ پل کی کوئی لکڑی آئی وہ جان بچانے میں کامیاب ہوگئے‘ جنہیں کوئی مدد نہ مل سکی وہ ڈوب گئے۔ مقامی افراد نے پل کے ٹوٹے حصوں سے لٹکے لوگوں کو بچانے کی کوشش کی۔

6افراد ایسے تھے جنہیں گرنے سے سرپرشدید چوٹیں آئیں اورموقع پر دم توڑ گئے۔ اس حادثے میں اب تک کی رپورٹ کے مطابق13لوگ زخمی ہوئے‘ 12افراد جاں بحق ہوئے جن میں سے سات افراد کی لاشیں مل چکی ہیں جبکہ پانچ کی تلاش تاحال جاری ہے۔لکڑی کایہ پل لوکل گورنمنٹ نے2011-12ءمیں تعمیر کیاتھا جس پر لگ بھگ ساڑھے چھ لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔ نیلم ویلی‘ سوات، کاغان ویلی سمیت پہاڑوں کے درمیان گزرنے والے دریا کے کئی مقامات پر ایسے لکڑی کے پل بنائے گئے ہیں جو مقامی آبادی کو دریاکے دونوں اطراف سے ملاتے ہیں۔ ان میں سے کئی پلوں کو تب ہی ٹھیک کیاجاتاہے جب کوئی حادثہ ہوجائے۔ لکڑی کے یہ جھولتے پل جو دیکھنے میں بہت دلکش لگتے ہیں۔

لیکن کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں،اس بارے میں شاید کوئی نہیں سوچتا نہ ہی کوئی دھیان دیتاہے۔ کنڈل شاہی کایہ پل اتنا کمزور ہے کہ ایک وقت میں پانچ چھ افراد سے زیادہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔پل کے پاس جہاں بسیں اور کاریں تفریح کے لئے رک جاتی ہیں وہیں شفاعت قریشی پکوڑے والے کی چھوٹی سی دکان ہے۔ شفاعت قریشی نے اپنا فرض پورے کرتے ہوئے لوگوں کو خبردار کرنے کے لئے ہاتھ سے لکھا ایک چھوٹا سا بورڈ نصب کر رکھاہے جس پر یہ الفاظ درج ہیں۔”سیاح حضرات سے گزارش ہے کہ دریا کے زیادہ قریب نہ جائیں۔ اس سے پہلے یہاں کئی حادثات ہو چکے ہیں۔ ذرا سی احتیاط بہت بڑے حادثے سے بچا سکتی ہے۔ منجانب انتظامیہ کیفے ٹیریا کنڈل شاہی۔ شفاعت قریشی۔

“قریب ہی ایک چھوٹا سا سرکاری نوٹس بھی لگاہے جس پر درج ہے” اس مقام سے گزشتہ دس سال میں بارہ افراد فوٹو گرافی کرتے ہوئے نالے میں بہہ کرہلاک ہوچکے ہیں۔ٹورسٹ حضرات اپنی اور اپنے بچوں کی حفاظت یقینی بنائیں۔ منجانب ضلع پولیس نیلم۔ “اطلاعات کے مطابق تقریباً ایک سال پہلے اسی جگہ راولپنڈی کی ایک فیملی کے تین افراد تصاویر لیتے دریا کے پاس چلے گئے اور تیز پانی میں بہہگئے تھے ۔ مقامی پولیس کے مطابق انہوں نے یہ نوٹس بھی لگایا ہے کہ کمزورپل پر زیادہ افراد نہ چڑھیں، اس سے حادثہ ہو سکتا ہے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ حادثے کے وقت پکوڑے بیچنے والے شفاعت قریشی کا بارہ سالہ بیٹا صائم قریشی بھی وہیں تھا۔ سکول سے چھٹی کے باعث وہ،

والد کے ساتھ دکان پر کام میں مصروف تھا۔ اس دن وہاں سیاح بھی زیادہ تھے۔ صائم بھاگ بھاگ کر انہیں گرم پکوڑے دے رہا تھا۔ اس کے سامنے پل ٹوٹا اوربارہ سالہ صائم ان ڈوبنے والوں کوبچانے کے لئے پانی میں کود گیا۔ مقامی لوگوں کی طرح تیراکی کے ماہر صائم نے ایک سیاح کو زندہ بچالیا۔ ایک اورسیاح کو کنارے تک لایا لیکن پانی میں گرنے اورسرپرچوٹ لگنے سے اس کی موت ہو چکی تھی۔ صائم تیسری دفعہ پھر پانی میں گیا لیکن شاید اس کابارہ سالہ کمزور جسم اس کا مزید ساتھ نہ دے سکا اوروہ خود یخ بستہ پانی کی موجوں کی نذر ہوگیا۔دنیا بھر میں پلوں کے ٹوٹنے سے تقریباً 105 حادثات ہوچکے ہیں جن میں2001ءمیں آساگری جاپان میں پیدل چلنے والوں کے لیے بنا ئے گئے۔

پل کاحادثہ قابل ذکر ہے جس میں گیارہ افراد جاں بحق اور247زخمی ہوئے تھے۔ جہاں کہیں بھی ایسے پلوں کا ایک بھی حادثہ ہوا وہاں مزید کسی حادثے کو روکنے کے لئے ان پلوں کو پہلے سے مضبوط بنایا گیا۔ ہمارے زیادہ تر سیاحتی مقامات پر ایسے پل موجود ہیں۔ کئی سال پہلے کاغان کے علاقے میں دریا سے ایک ایسے ہی لکڑی کے پل سے گزرنے کا اتفاق ہوا جس میں کئی جگہوں سے لکڑی کے تختے ٹوٹے ہوئے تھے۔سوال یہ ہے کہ اس حادثے کاذمہ دار کسے ٹھہرائیں۔ مقامی حکومت کو جسے علم تھا کہ وادی میں سیاح کن مقامات پر رکتے ہیں ‘کن جگہوں پر پل کمزور ہیں اور کتنا بوجھ اٹھا سکتے ہیں۔ اگر ان پلوں کو بنا کر اپنے حال پر چھوڑنا ہی مقصود ہے تو پھر اتنی،

مہربانی ضرور کریں کہ ان کے ساتھ بہت بڑے بورڈ ضرور آویزاں کردیں کہ زیادہ بوجھ سے پل ٹوٹ سکتا ہے۔یا پھر ذمہ دار ان سیاحوں اور طلبا کو قرار دیں جن کی عمریں20 سے25کے درمیان ہوں گی۔شاید ہمیں خود سمجھ نہیں آرہا کہ ان ناگہانی اموات کا اصل ذمہ دار کون ہے۔13مئی کوجب دنیا بھر میں ماؤں کاعالمی دن ”مدرڈے“ منایا جارہاتھا‘ان ماؤں کے لئے زندگی کا سب سے بڑا دکھ لے کرآیا جن کے جوان بچے گھروں سے تفریح کے لئے خوشی خوشی گئے اورتابوت میں واپس آئے‘ وہ بچے جو نیلم وادی کے حسن میں اپنی جوانی ہار ہوگئے۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...