منگل , 23 اکتوبر 2018

ایران سے متعلق امریکہ کی 12 حسرتیں

(آئی اے خان)

امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے 21 مئی کو ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں کی جانے والی تقریر کو ایران کے خلاف نئی امریکی حکمت عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس تقریر میں امریکہ کے موجودہ وزیر خارجہ اور سی آئی اے کے سابق چیف نے ایران کو کچلنے کی دیرینہ خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ اسی تقریر میں مائیک پومپئو نے سخت ترین اقتصادی پابندیوں کیلئے بھی ایران کو تیار رہنے کی دھمکی بھی دی ہے۔ امریکی خواہشات کی یہ فہرست ان بارہ نکات پہ مشتمل ہے کہ جسے سنکر دنیا کا ہر ذی شعور فرد محسوس کر سکتا ہے کہ اس بارہ نکاتی ایجنڈے کی آڑ میں امریکہ ایران کیخلاف اپنے دائمی خبث باطن کا مظاہرہ کر کے دنیا کو یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ ان شرائط پہ درپردہ ایران کیساتھ بات چیت جاری ہے۔امریکہ نے ایران کے سامنے جو بارہ شرائط پیش کی ہیں وہ درج ذیل ہیں۔

1۔ ایران آئی اے ای اے کو اپنے فوجی مقاصد کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ دے اور ہمیشہ کیلئے اس جوہری پروگرام کو بند کر دے۔(اس کے باوجود کہ ایران آئی اے ای سمیت پوری دنیا کے سامنے اپنا اصولی موقف واضح کرچکا ہے کہ وہ کوئی عسکری جوہری پروگرام نہیں رکھتا، جوہری ہتھیاروں سے متعلق عالمی ادارے نے بھی اپنی رپورٹس میں اس امر کی تصدیق کی ہے)۔ علاوہ ازیں ایران کے ساتھ ہونے والے عالمی جوہری معاہدے سے امریکہ نے خود کو الگ کیا ہے ناکہ ایران نے اس معاہدے کی خلاف ورزی کی ہے۔ اصولی طور پر اس معاہدے میں شامل تمام فریق ممالک کو اس خلاف ورزی کے بعد امریکہ کے ساتھ اپنے معاہدوں کا ازسر نو جائزہ لینا چاہیئے۔

2۔ ایران یورینیم افزودگی کو مکمل روکے اور پلاٹونیم ریفریسنگنگ کی طرف نہ جائے اور بھاری پانی کی تمام تنصیبات کو بند کرے۔ ایران کے ساتھ ہونے والی ڈیل میں پہلے سے ہی یورینیم کی افزودگی کے بارے میں ایک قسم کے پیرامیٹرز طے پا چکے تھے، چنانچہ اس شرط کا تعلق ایران کے جوہری پروگرام سے زیادہ اس معاہدے سے ہے کہ جس سے امریکہ نے خود کو علیحدہ کیا ہے تاہم باقی ممالک اور ایران کے مابین یہ معاہدہ برقرار ہے، امریکہ اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہے۔

3۔ ایران آئی اے ای اے انسپکٹروں کو ملک بھر میں اپنی تمام سائٹس کا دورہ کرنے کی اجازت دے۔
کیا امریکی وزیر خارجہ جو سی آئی اے کا سربراہ بھی رہ چکا ہے، کیا اس بات سے لاعلم ہے کہ ایران کی تمام سائٹس کا شیڈول کے مطابق آئی اے ای اے کے انسپکٹرز دورہ کرتے رہتے ہیں۔

4۔ ایران بیلسٹک میزائل پروگرام کو ختم کرے اور ایٹمی ہتھیار لے جانے کی صلاحیت رکھنے والے میزائلوں کی تیاری اور آزمائش کو روک دے۔کیا یہ قانون دنیا کے تمام ممالک کے لئے اقوام متحدہ نے متعارف کرایا ہے یا ایران کو نہتا کرنے کی یہ امریکی خواہش خصوصی ہے۔؟ گذشتہ چند برسوں میں بھارت اور امریکہ نے سب سے زیادہ بیلسٹک میزائل کے تجربات کئے ہیں جبکہ بھارت امریکی ہتھیاروں کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ تو ایسی صورت میں ایران پہ اس پابندی کی خواہش چہ معنی دارد؟۔

5۔ ایران میں موجود امریکی یا امریکی اتحادیوں کے شہریوں کو جو قید میں ہیں یا پھر مسنگ ہیں کو رہا کر دے۔
جن امریکی نژاد ایرانیوں کی بات امریکہ کر رہا ہے وہ ایران میں مختلف غیر قانونی سرگرمیوں، بشمول جاسوسی کے الزامات کا سامنا کر رہے ہیں، ان میں وہ افراد بھی شامل ہیں کہ جنہوں نے ایران میں بدامنی پھیلانے کے مذموم منصوبوں پہ کام کیا۔

6۔ ایران مشرق وسطٰی میں (دہشتگرد گروہ) حزب اللہ، حماس، جہاد اسلامی فلسطین کی حمایت کرنا چھوڑ دے۔
یعنی اسرائیل کے مقابل جو بھی کھڑا ہے اس کی حمایت نہ کی جائے۔ چاہے ان میں سے بیشتر کو ان ممالک کے عوام کی بھرپور حمایت بھی حاصل کیوں نہ ہو جیسا کہ لبنان کے انتخابات میں حزب اللہ نے نمایاں کامیابی حاصل کی ہے۔

7۔ ایران عراقی کو حکومت کو اجازت دے کہ و ہ (حشد الشعبی) مسلح افراد سے اسلحہ واپس لیں۔
کیا امریکہ عراق میں پھر سے داعش یا اس کی طرح کوئی اور مسلح دہشتگرد تنظیم کو حکومت اور وہاں کے عوام کے خلاف کھڑا کرنا چاہتا ہے کیونکہ دہشتگردی کے خلاف عراق کی حکومت نے ایران سے ساتھ مانگا ہے، جبکہ امریکہ اس فورس کو نہتا کرنے کا مطالبہ کررہا ہے کہ جس نے عراقی حکومت کے ساتھ ملکر دہشتگردوں کیخلاف اہم ترین جنگ لڑی اور تاحال عراق کے استحکام میں اہم کردار انجام دے رہی ہے۔

8۔ ایران یمن میں انصار اللہ الحوثی کی حمایت بند کردے اور اس ملک میں امن کے لئے کوششیں کرے۔اس کا مطلب ہے کہ یمن پہ حملہ آور کثیر ملکی اتحاد نے بذبان امریکہ اپنی شکست کا اعلان کردیا ہے کیونکہ گذشتہ کئی برس سے پورا یمن ان افواج کے محاصرے میں ہے اور فضا، خشکی اور پانی کے تمام راستے انہوں نے مسدود کر دیئے ہیں تو ایسی صورت میں کیا ایران سمندر کے نیچے سے سرنگوں کے ذریعے یمنیوں تک کوئی کمک پہنچا رہا ہے۔ البتہ ایران یمنیوں کی اخلاقی و سفارتی مدد ضرور کررہا ہے اور بے گناہ یمنییوں کا مقدمہ دنیا کے سامنے اچھے انداز میں پیش کر رہا ہے، تو امریکہ چاہتا ہے کہ بے گناہ مظلوم یمنییوں کو حاصل اس اخلاقی مدد کا بھی سدباب کرے۔

9۔ ایران شام سے اپنے کنٹرول میں موجود تمام فورسز کو باہر نکالے۔ایک طرف تو امریکہ شام پہ حملے کرتا ہے، دوسری جانب وہاں دہشتگرد گروہ باقاعدہ ترتیب دیتا ہے، پھر اعلانیہ ان کی حمایت کرکے انہیں کمک فراہم کرتا ہے، شام کی آئینی و قانونی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ اس کے مقابلے میں شام کی قانونی حکومت دہشتگردی کے خلاف ایران سے باقاعدہ مدد طلب کرتی ہے اور اس مدد کے نتیجے میں ہی شام کے بیشتر کثیر آبادی والے علاقے غیر ریاستی عناصر سے پاک ہوتے ہیں۔ یہ مطالبہ اس امر کا غماز ہے کہ امریکہ شام کو غیر ریاستی عناصر یعنی دہشتگردوں کے رحم و کرم پہ چھوڑنا چاہتا ہے اور وہاں سے ہر اس قوت کو بیدخل کرنے کے درپے ہے کہ جو اسرائیل کو ناگوار ہو۔

10۔ ایران افغانستان میں طالبان اور خطے میں دیگر شدت پسند گروہ کی حمایت بند کر دے۔مطلب امریکہ اپنے کرتوتوں کا ہار کسی اور گلے میں فٹ کرنا چاہتا ہے۔ شام، عراق، پاکستان، افغانستان، ترکی، افریقہ غرض ہر جگہ امریکہ نے مسلح دہشتگرد دستے ترتیب دیئے اور اپنا الو سیدھا کرنے کے بعد وہاں کی حکومتوں سے مطالبہ شروع کردیا کہ شدت پسندی، دہشتگردی کا خاتمہ کرو، اور جب وہ حکومتیں کوشش کرکے کامیاب ہونے کے قریب پہنچتیں تو امریکہ پھر سے ان گروہوں کی ڈھال بن جاتا۔ پاکستان کے ساتھ یہی ہوا۔ افغانستان میں امریکہ خود موجود ہے اور ٹی ٹی پی، جنداللہ سمیت کئی دہشتگرد گروہ اسی کی چھتر چھایا میں پروان چڑھ رہے ہیں۔ اس کے باوجود امریکی وزیر خارجہ ایران سے یہ مضحکہ خیز مطالبہ کررہے ہیں، حالانکہ انہیں ایران سے یہ مطالبہ کرنے کی بجائے اپنے کارندوں کو یہ حکم دینا چاہیئے کہ داعش، ٹی ٹی پی، جنداللہ، ایسٹ ترکمان موومنٹ، جبۃ النصرہ، فری سیرین آرمی، لشکر جھنگوی کی ہر قسم کی امداد فوری طور پر بند کرکے ان کی قیادت کو فی الفور متاثرہ ممالک کے سپرد کریں اور وہاں کے عوام کو پرسکون زندگی جینے کا حق دیں۔

11۔ ایران سپاہ پاسدران کے ذریعے خطے میں دہشتگرد گروہوں کی حمایت بند کر دے۔اونٹ کی طرح امریکہ کی بھی کوئی کل سیدھی نہیں۔ امریکی وزیر خارجہ یہ کہنا چاہتے تھے کہ ایران سپاہ پاسداران کے ذریعے خطے میں امریکی دہشتگرد گروہوں کی خبر لینا بند کرے کیونکہ اس سے امریکی مفادات کی راہ میں روکاوٹیں کھڑی ہوتی ہیں۔

12۔ ایران اپنے ہمسائیوں کے بارے میں دھمکی آمیز رویہ چھوڑ دے ،کیونکہ ان میں سے بہت سے امریکی اتحادی ہیں۔ایران کے ہی پڑوسی ملک (پاکستان) نے دو روز قبل ہی ایران پہ امریکی پابندیوں کو اعلان کو مسترد کیا ہے اور اسی ملک نے امریکی سفارتکاروں پہ کئی انواع و اقسام پابندیاں عائد کی ہیں، یہاں تک کہ امریکی سفارتی بیگز کی سکینگ کا اعلان بھی کیا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ ایران کا یہ پڑوسی درحقیقت امریکہ کا اہم اور نان نیٹو اتحادی بھی ہے اور خطے میں ہونے والے سیاہ و سفید میں ماضی قریب تک امریکہ کا رفیق کار بھی رہا۔ یہ الگ بات ہے کہ اتنی امریکی قربت کے باوجود بھی ایران دوستی کا دامن اس نے ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیا۔ ایران کا ایک اور پڑوسی یعنی عراق خود ایران سے تقاضہ کرتا ہے کہ قیام امن میں اس کا ساتھ دے اور اپنا کردار ادا کرے۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے پڑوسیوں کو تکلیف ایران سے نہیں بلکہ امریکہ سے ہے۔

تجزیہ کار ایران کے خلاف ان امریکی شرائط کا بنیادی ہدف اسرائیل کی مدد قرار دے رہے ہیں ان شرائط سے نہ صرف اسرائیل کی مدد ہوتی ہے بلکہ اس کے اثرورسوخ کو بڑھاوا بھی ملتا ہے۔ امریکہ ہر اس قوت کو کمزور اور ہر اس رکاوٹ کے خاتمے کے درپے ہے جو اسرائیلی ایجنڈے کی راہ میں حائل ہو۔ ان شرائط کے بارے میں خود امریکی کہتے ہیں کہ ’’وزیر خارجہ نے انتہائی غیر حقیقی باتیں اس لسٹ میں شامل کیں ہیں‘‘۔ سی آئی اے کے سابق چیف پیمپیو کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ ایران کو لیکر ہمیشہ یہ کہتا آیا ہے کہ ’’ایران کا پہلے اقتصادی محاصرہ کرو اور پھر نظام کو بدلو‘‘۔ یعنی امریکہ ایران پہ ایک مرتبہ پھر شدید پابندیاں عائد کرکے اسے دباؤ میں لانا چاہتا ہے۔

تاہم یہ حقیقت بھی اپنی جگہ کہ ان امریکی ہتھکنڈوں نے جہاں ایران کی مالیات کو نقصان پہنچایا ہے وہاں دنیا بھر کے عوام کے دلوں میں ایران کے وقار اور محبت میں اضافہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی مخالفت اور ایران کے حق میں اٹھنے والی بیشتر تحریکیں عوامی اور رضاکارانہ رہی ہیں، جو طویل المدت ایران کیلئے مفید ثابت ہوئیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان پابندیوں سے کچھ عرصے کے لئے ایران کی معیشت جزئی طور پر شدید دباو کا شکار ہوجائے لیکن آہستہ آہستہ وہ اپنی راہ پر چل نکلنے میں کامیاب ہونگے جس کا واضح ثبوت ابتک کی صورتحال ہے۔ یورپ کی کوششوں کے باوجود بہت سی وہ کمپنیاں جو ایران میں سرمایہ کاری یا مختلف تجارتی معاہدے کررہی تھیں یک بعد دیگر واپسی کا رخ اختیار کر رہی ہیں۔ یورپ کی جانب سے بھی تاحال یہ واضح نہیں کہ امریکہ کے بغیر اس نے۔

اس معاہدے کو کیسے آگے لیکر چلنا ہے کہ ایران کو وہ تمام آزادی حاصل ہو کہ جس کی ضمانت اس معاہدے میں دی گئی تھی۔ قرین قیاس یہی ہے کہ امریکہ کا یہ رویہ چین اور روس کو ایران کے زیادہ قریب کرکے خطے میں نئے تعاون کی داغ بیل ڈالے گا۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...