منگل , 23 اکتوبر 2018

بحرینی حکام کو صدام حسین کے رشتہ داروں کا خیال اور اپنی عوام کا؟

(تسنیم خیالی)

بحرینی حکام نے اپنے مخالف شہریوں کی شہریت منسوخ کرنا اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اور گزشتہ کئی سالوں سے آل خلیفہ اپنے خلاف اٹھ کھڑے ہونے والے کو یا تو سزائے موت دےرہے ہیں یا انکی شہریت منسوخ کرکے انہیں ملک بدر کررہے ہیں ،ان اقدامات کے خلاف ہیومن رائٹس واچ نے بھی بارہا بحرینی حکام سے کہا کہ شہریت منسوخی کی سزا غیر قانونی ہے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، بحرین میں اب تک بے شمار شہریوں کی شہریت منسوخ کردی گئی ہے جن میں سے ایک بڑی تعداد کو ملک بدر بھی کردیا گیا ہے، بحرینی حکام اپنے شہریوں سے شہریت چھیننے کے بعد اب دوسروں کو شہریت پیش کررہے،

ہیں اور وہ بھی ایسے افراد کو جو اپنے ملک سے فرار ہوکر سیاسی پناہ لے کر زندگی بسر کررہے ہیں جی ہاں بحرینی حکام نے قطر میں سیاسی پناہ لے کر زندگی بسر کرنے والے سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کے سوتیلے بھائی ’’وطان التکریتی‘‘ کے اہل خانہ کو دورہ بحرین کی دعوت دیتے ہوئے بحرینی شہریت دینے کی پیش کش کی ہے، صدام حسین کے رشتہ داروں نے تو بحرینیوں کی آفر مسترد کرتے ہوئے بحرین سے مطالبہ کیا ہے وہ اپنے شہریوں کا خیال رکھے اور ان کی شہریت منسوخ نہ کریں۔
صدام حسین کے قریبی رشتہ داروں نے بحرینی حکام کے منہ پر اس جواب کے ذریعے زوردار طمانچہ دے ماراہے،

آل خلیفہ کی یہ کیسی حکومت ہے جو اپنے شہریوں کی شہریت منسوخ کرتی ہے اور غیر ملکی سیاسی پناہ لینے والوں کو اپنی شہریت کی آفریں دے رہی ہے ،بحرینی حکام نے شیخ عیسیٰ قاسم جیسے عظیم مذہبی رہنما اور عالم دین کی شہریت منسوخ کررکھی ہے مگر عراقی حکومت کو مطلوب افراد کی شہریت دینے پر آمادہ ہے!اس قسم کی حرکتوں سے واضح ہوتا ہے کہ آل خلیفہ اپنے مخالفین کےلئےکس قدر بغض رکھتے ہیں، اس قدر تضاد آپ کو شاید ہی کسی ملک میں دیکھنے کو ملے، اس ملک میں اصل شہریوں کی شہریت چھینی جارہی ہے اور ان کی جگہ غیر ملکی باشندوں کو بھارت، پاکستان، نیپال،

اردن اور متعدد دیگر ممالک سے لا کر ان کی جگہ آباد کیا جارہا ہے اور انہیں شہریت دی جارہی ہے، عزت دار بحرینی عوام کا پالا ایک انتہائی بے حس اور چالاک خاندان سے پڑا ہے جو اپنے اقتدار کو بچانے کےلئے کسی بھی حد تک جاسکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

کیا آل سعود 9 ستمبر کے واقعہ کی طرح خاشقجی کے معاملے سے بچ پائے گی؟

عبدالباری عطوان (ترجمہ تسنیم خیالی) خاشقجی کے قتل کے معاملے کے حوالے سے سعودی عرب ...