اتوار , 19 اگست 2018

مسئلہ فلسطین اور او آئی سی کا کردار

(صابر ابو مریم)

اسلامی ممالک کی تعاون کی تنظیم یعنی او آئی سی کا قیام دراصل ایسے وقت میں عمل میں لایا گیا تھا، جب 21 اگست 1969ء میں غاصب صیہونیوں نے مسجد اقصٰی (قبلہ اول) کو نذر آتش کرنے کی گھناؤنی کوشش کی تھی، جس کے نتیجہ میں مسجد کو شدید نقصان بھی پہنچا تھا، تاہم ضرورت پیش آئی تھی اور مفتی امین الحسینی کی اپیل پر پہلی مرتبہ 24 اسلامی ممالک پر مشتمل یہ فورم تسکیل پایا، جو بعد ازاں 57 ممالک تک جا پہنچا تھا۔ ویسے تو اس تنظیم کے اغراض و مقاصد کا مطالعہ کیا جائے تو ہمیں بہت سے مقاصد نظر آتے ہیں، لیکن چونکہ فلسطین میں مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کئے جانے کے،

حادثہ نے ہی اس تنظیم کو جنم دیا، لہذا اس تنظیم کی سب سے اہم ذمہ داریوں میں مسئلہ فلسطین شامل ہے اور یقیناً مسئلہ فلسطین تمام تر مسائل سے اولین مسئلہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اسلامی ممالک کی یہ تنظیم بھی اقوام متحدہ کی طرح مسئلہ فلسطین کے حل اور فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع کرنے میں ناکام رہی ہے۔ مسئلہ فلسطین کے عنوان سے او آئی سی نے متعدد اجلاس بلائے، جن میں سربراہی اجلاس بھی شامل تھے اور ابھی حالیہ اجلاس تو ایک مرتبہ پھر ترکی میں مورخہ 18 مئی کو انجام پایا ہے۔ اسی طرح افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے،

کہ او آئی سی اپنے اہداف و مقاصد میں اس لئے بھی کامیاب نہیں ہو پائی، کیونکہ متعدد اسلامی ممالک کے حکمران ہمیشہ سے ہی امریکی کاسہ لیسی میں مصروف عمل رہے ہیں اور امریکہ کی ناجائز اولاد اسرائیل کے خلاف کسی بھی عملی اقدام کو کرنے سے گریزاں ہیں۔ماضی میں ہونے والے فلسطین سے متعلق اجلاس کی بات نہیں کرتے، چونکہ بحث طویل ہوتی چلی جائے گی، تاہم گذشتہ برس اور حالیہ دنوں ہونے والے دو اہم ترین اجلاس پر تبصرہ ضرور کیا جائے گا۔ گذشتہ برس 13 دسمبر 2017ء کو ترکی کے صدر اردگان نے او آئی سی کا اہم ترین اجلاس اس وقت بلا لیا، جب امریکی صدر ٹرمپ نے یروشلم،

(القدس) سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے اسے غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی امریکی سفارتخانہ کو تل ابیب سے القدس منتقل کرنے کا اعلان بھی کیا تھا، جسے حالیہ دنوں مورخہ 14 مئی کو عملی جامہ پہنایا گیا ہے۔ بہرحال اس موقع پر ترک صدر نے انتہائی عجلت کا مظاہرہ کیا اور فلسطینیوں کا درد سینے میں لئے سب سے پہلے آگے بڑھ کر او آئی سی کا اجلاس طلب کر لیا، لیکن ااس اجلاس کے فیصلوں نے جہاں فلسطینیوں کے درد کا مداوا کرنا تھا، وہاں نہ صرف فلسطینیوں کی پیٹھ پر خنجر گھونپ دیا گیا بلکہ پوری مسلم امہ کو بھی حیران کن صورتحال میں لاکھڑا کیا۔

اس اجلاس میں کہ جس کا مقصد قبلہ اول بیت المقدس کی شناخت کو امریکی فیصلوں کے سامنے محفوظ کرنا اور دفاع کرنا تھا، اس میں کہا گیا کہ مشرقی القدس فلسطین کا ابدی دارالحکومت ہے، جبکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو القدس شہر جو مشرقی و مغربی حصوں پر مشتمل ہے، دراصل پورے کا پورا ہی فلسطین کا ابدی دارالحکومت رہا ہے، جبکہ 1948ء سے مغربی القدس کا علاقہ پہلے ہی غاصب صیہونی ریاست کے تسلط میں ہے۔ لہذٰا او آئی سی کی اس قرارداد نے جہاں ایک طرف 48ء کے صیہونی غاصبانہ تسلط کو بھی قانونی شکل دے ڈالی، وہاں قبلہ اول کے تشخص کے عنوان سے فلسطینی،

مسلمانوں اور مسلم دنیا کے جذبات بھی مجروح کر ڈالے۔ افسوس ہے کہ اگر اس اجلاس میں مسلم دنیا کے یہ حکمران واضح اور شفاف فیصلہ کرتے تو شاید آج امریکہ کو یہ ہمت نہ ہوتی کہ وہ فلسطینیوں کی لاشوں پر سے ہوتا ہوا القدس میں اپنا سفارتخانہ منتقل کر لیتا۔ واضح رہے کہ او آئی سی کے اس اجلاس میں چند ایک مسلمان ممالک نے مشرقی القدس سے متعلق قرارداد کی مخالفت کی تھی، تاہم متعدد عرب ممالک اور میزبان ترکی اس بات پر متفق تھے۔اب ذرا حالیہ دنوں ہونے والے او آئی سی کے اجلاس کی روئیداد بھی سن لیتے ہیں کہ آخر امریکی سفارتخانہ کے قیام کے بعد او آئی سی نے ایسا،

کون سا کارنامہ انجام دیا ہے کہ جس کے باعث امریکہ اپنا سفارتخانہ القدس سے واپس لوٹا دے گا، یقیناً ایسا کچھ بظاہر نظر نہیں آرہا ہے اور شاید فلسطینی بھی اس بات کو اسی دن ہی سمجھ چکے تھے کہ او آئی سی سے ان کو مزید کوئی توقعات نہیں رکھنی چاہئیں۔ جب اسی او آئی سی نے مسئلہ فلسطین کے امریکی راہ حل کہ جس میں دو ریاستی حل کا فارمولا تسلیم کیا تھا۔ اس مرتبہ کے اجلاس میں ترک صدر نے آگے بڑھ کر اسرائیل کو دہشت گرد ریاست کا لقب دیا ہے، لیکن یہ نہیں کہا ہے کہ اسرائیل کا وجود ایک غاصب اور جعلی وجود ہے، کیونکہ شاید اس میں ان کی مجبوریاں شامل حال ہوں گی، کیونکہ ترکی،

نے اسرائیل کے ساتھ فری ٹریڈ کا سلسلہ بنا رکھا ہے اور اسی طرح فلسطینی عوام کا حق یعنی فلسطین سے نکلنے والی گیس کو اسرائیل سے ترکی ہی خرید رہا ہے اور جبکہ اسرائیل اور ترکی مابین متعدد منصوبے جاری ہیں، حال ہی میں ترک صدر ہی تھے کہ جنہوں نے کہا تھا کہ ترکی کو اسرائیل جیسی ریاست کی ضروررت ہے اور اسرائیل کو بھی ترکی جیسی ریاست کی ضرورت ہے۔ جب اس طرح کے بیانات اور جذبات مسلمان حکمران غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے لئے رکھیں گے تو پھر امریکہ کے لئے فلسطینیوں کی لاشوں پر سے گزرتے ہوئے اپنا سفارتخانہ منتقل کرنا کون سا بڑا کام ہے۔

اس مرتبہ بھی او آئی سی میں صرف امریکہ کی لفاظی مذمت کی گئی ہے اور فلسطینی عوام کے قتل عام پر اسرائیل کو دہشت گرد کا لقب دیا گیا، ایسا کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہو کہ مسلم دنیا کے حکمران امریکہ کے سفارتخانوں کو اپنے اپنے ممالک میں اس وقت تک بند کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، جب تک امریکہ فلسطین کے ابدی دارالحکومت یروشلم (القدس) سے اپنا سفارتخانہ واپس نہیں ہٹا لیتا۔ واضح رہے کہ ترکی نے چند روز قبل فلسطین میں ہونے والے صیہونی مظالم کے عنوان سے ترکی کے سفیر کو اسرائیل سے واپس بلا لیا تھا اور اسرائیل کے سفیر کو ترکی سے واپس بھیج دیا تھا،

لیکن او آئی سی کے اجلاس کے اختتامیہ میں مسلمان دنیا ترک صدر کی زبان سے یہ الفاظ سننے کے مشتاق تھے کہ ترکی میں موجود اسرائیل کے سفارتخانہ کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے بند کرکے اس عمارت کو منہدم کیا جا رہا ہے یا پھر یہ کہ فلسطینی سفارتخانہ اس مقام پر منتقل کر دیا جائے گا۔
خلاصہ یہ ہے کہ مسلمان دنیا کے حکمرانوں کے دل فلسطینی عوام کے ساتھ ہیں، لیکن ان کی تلواریں غاصب صیہونیوں کے خلاف نہیں ہیں، ان حکمرانوں میں تو اتنی بھی جرات اور ہمت باقی نہیں ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات ہی کو ختم کر دیں اور دوسرے مرحلہ میں امریکی سفارتکارں کو مسلم دنیا کے،

ممالک سے نکال باہر کریں، تاکہ امریکہ اور اس کے حواریوں کو بھی اندازہ ہوسکے کہ مسلم دنیا کے حکمران فلسطین کی مظلوم عوام کی پشت پر عملی طور پر ہیں، نہ کہ زبانی کلامی دعووں کے ذریعے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم دنیا کے حکمران فلسطین کے مظلوم عوام کی پش پناہی کے لئے عملی راستہ اختیار کریں، مسلم دنیا کی افواج کو یمن کے مظلوم عوام کے خلاف استعمال کرنے کی بجائے فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع کے لئے استعمال کریں۔

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر) قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری ...