جمعہ , 22 جون 2018

اگر ایسا ہی چلتا رہا تو عالمی برادری کو کچھ کرنا ہوگا

(تسنیم خیالی)
8مئی کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام عالمی واخلاقی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے 2015ء میں ایران کے ساتھ طے پا جانے والے جوہری معاہدے سے دستبرداری کا اعلان کیا اور ایران کے خلاف دہشت گردی کے حوالے سے بے بنیاد الزامات عائد کیے، ٹرمپ کے اس فیصلے سے عالمی برادری کو سخت مایوسی ہوئی اور دنیا بھر میں امریکہ کی ساکھ ایک بار پھربری طرح متاثر ہوئی کیونکہ امریکہ ایک عالمی معاہدے سے دستبردار ہوگیا ہے جس کا اسے حق حاصل نہیں، اس واقعہ کے چند دن بعد خبر آئی کہ شمالی کوریا امریکہ کے ساتھ جاری تنازعے کو مذاکرات کے،

ذریعے حل کرنے کےلئے تیار ہے، شمالی کوریا کےاس اعلان کے بعدامریکی وزیر خارجہ شمالی کوریا کے دورے پر گئے اور شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اون سے ملاقات کی ، ملاقات کے بعد اعلان کیا گیا کہ ٹرمپ اور اون کے درمیان جو ن کے مہینے میں سنگاپور میں ملاقات ہوگی، خیر سگالی کے طور پر شمالی کوریا نے اپنی جیلوں میں قید 3امریکی قیدیوں کو بھی رہا کرکے امریکہ کے حوالے کیا اور دو روز قبل دنیا کو اپنامثبت موقف دکھاتے ہوئےاپنی زیر زمین اہم جوہری تجربے گاہ کو چین ، امریکہ ، جنوبی کوریا اور دیگر ممالک سے مدعو کیے گئے صحافیوں کے سامنے،

دھماکوں سے تباہ کردیا۔ شمالی کوریا کے ان مثبت اقدامات کے بعد امریکی صدر نے اپنی چال چلتے ہوئے اعلان کیا ہے وہ کم جونگ اون سے ملاقات نہیں کریں گے، وجہ بتاتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کا رویہ ’’ٹھیک‘‘ نہیں اور دشمنی پر مبنی ہے اور شمالی کوریا سے جاری ہونے والے دھمکی آمیزبیانات پر افسوس ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹرمپ نے یہ اعلان اپنے وزیر خارجہ مائیک پمپیو کے اعلان کے ایک روز بعد کیا جس میں پمپیونے دنیا بھر کو یقین دلایا تھا کہ ٹرمپ اور اون کے درمیان ملاقات کسی تاخیر کے بغیرشیڈول کے مطابق 12 جون کو ہوگی ،

ٹرمپ کی اس حرکت نے امریکیوں کی زبان اور وعدوں کے تابوت میں آخری کیل لگا دی ہے ،ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد اگر کوئی امریکی حکومت اور عہدیداروں کی باتوں اور وعدوں پر یقین کرے گا تو اس سے بڑا بیوقوف اور کوئی نہیں ہوگا،ٹرمپ جو کچھ کررہے ہیں وہ سیاست کے زمرے میں نہیں آتا بلکہ اسے فراڈ، دھوکہ دہی ، جھوٹ اور بےغیرتی کہتے ہیں ، ویسے تو بےہودگی اور بےحسی بیشتر امریکی صدور کا وطیرہ رہی ہے البتہ ٹرمپ اپنے سے قبل تمام امریکی صدور کو اس معاملے میں پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔ٹرمپ کی طرف سے اس قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ دنیا،

بھر کےلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے، اس قسم کے رویے سے تنازعات اور جنگیں بھی شروع ہوسکتی ہیں، لہٰذا ٹرمپ جیسے پاگل صدر کو روکنے کےلئے عالمی برادری کو کچھ کرنا ہوگا وگرنہ بہت دیر ہوجائے گی کیونکہ اس قسم کے نفسیاتی مریض صدر کا کچھ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ کب کیا فیصلہ کرتے ہیں اور کس کے خلاف جنگ کا اعلان کرتے ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...