اتوار , 19 اگست 2018

مائیک پمپیو نے بن سلمان کو اسکی اوقات دکھادی

(تسنیم خیالی)
امریکہ ایک ایسا ملک ہے جس کے اتحادی اور دشمن ممالک دونوں ہی موجود ہیں مگر امریکہ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ اپنے اتحادیوں سے ساتھ ضرور لیتا ہےالبتہ جب ساتھ دینے کی بات آئے تو امریکہ انہیں قدرے مایوس کرتے ہوئے ان ممالک کو انکی اصل اوقات دکھا دیتا ہے ، ایسا ہی حال ہی میں سعودی عرب کے ساتھ ہوگیا ہے سعودی عرب کچھ عرصے سے جوہری توانائی حاصل کرنے کی کوشش میںلگا ہوا ہے جس کے لئے سعودی حکام نے جوہری پلانٹس کی تعمیر کے لیے امریکی کمپنیوں سے بھی بات چیت کی، سعودی عرب کا دعویٰ ہے کہ وہ تیل پر اپنا انحصار کم کرنے کی غرض سے جوہری توانائی حاصل کرنا چاہتاہے،

امریکی انتظامیہ نے اب تک اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے کہ آیا سعودی عرب کو جوہری توانائی حاصل کرنے کی اجازت دی جائے یا نہیں ، جوہری توانائی حاصل کرنے کی اس بھاگ دوڑ میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے متعدد بار یہ کہا ہے کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کر لیتا ہے تو پھر سعودی عرب بھی ایران کے مقابلے میں بہت جلد اس قسم کے ہتھیارحاصل کرلےگا، بن سلمان کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی عرب جوہری توانائی جوہری ہتھیار بنانے کےلئے حاصل کرنا چاہتا ہے اور امریکہ کو اس بات کا اچھی طرح سے ادراک ہے، تبھی امریکی وزیر خارجہ مائیک پمپیو نے امریکی کانگریس کی،

خارجہ کمیٹی کے سامنے بناں دیتے ہوئے کہا ہے کہ ا مریکہ نے سعودی عرب (جوکہ اہم اتحادی ملک ہے) پر واضح کردیا ہے کہ سعودی عرب کو ’’یورینیم کی افزائش‘‘ کی اجازت نہیں اور اس پر بھی وہ تمام امریکی قوانین لاگو ہیں جو دیگر تمام ممالک پر جوہری توانائی کے معاملے میں لاگو ہیں، پمپیو کا کمیٹی کے سامنے کہنا تھا کہ ’’سعودی بارہا کہہ رہے ہیں کہ انکا جوہری پروگرام پر امن ہوگا اور ہم نے بھی ان پر واضح کردیا ہے کہ انہیں یورینیم کی افزائش کی اجازت نہیں دی جائے گی ، سعودی عرب اگرچہ دعویٰ کررہا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقصد کے لئے ہے البتہ وہ امریکی کمپنیوں کی خدمات حاصل کرنے،

کےلئے یہ شرط رکھی ہے کہ اسے یورینیم کی افزائش سے منع نہ کیا جائے امریکی کمپنیاں سعودی عرب میں جوہری پلانٹس کی تعمیر کی خواہاں ہےکیونکہ سعودی عرب نے اس کام کے لیے بیسوں ارب ڈالر مخصوص کررکھے ہیں جن پر امریکی کمپنیوں کی نظریں جمی ہوئی ہیں مگر دوسری جانب امریکی جوہری قوانین کے مطابق وہ ممالک جن کے ساتھ امریکہ جوہری معاملات میں تعاون کررہا ہے ان ممالک کو یورینیم کی افزائش کا حق حاصل نہیں ہوگا، انہی قوانین کے تحت امارات میں 4جوہری پلانٹس کی تعمیر کا کام جاری ہے یعنی امریکہ امارات کو محدود پیمانے پر جوہری توانائی سے استفادہ کرنے دے رہا ہے (ضروری ہے ۔

کہ بم ہی تیار کیا جائے)، خیر اس انکشاف سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ اپنے اتحادیوں پر صرف اور صرف اپنی مرضی مسلط کرتا ہے ، ہاں امریکہ کا ایک اتحادی ایسا بھی ہے جو امریکہ پر اپنی مرضی مسلط کرتا ہے اور وہ اتحادی اسرائیل ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر) قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری ...