اتوار , 19 اگست 2018

سعودی اشیائے خوردونوش اب اسرائیل میں بکنے لگیں

(تسنیم خیالی)
سعودی عرب میں غذائی مواد بنانے والی متعدد کمپنیاں موجود ہیں جن کی پروڈکٹس متعدد ممالک میں بھی فروخت کی جاتی ہیں، ان کمپنیوں میں سے ایک کمپنی کا نام ’’المراعی‘‘ ہے جو ڈیری مصنوعات کے حوالے سے مشہور اور کافی مقبول کمپنی ہے، اس کمپنی میں تیار ہونے والا دودھ ، دہی ، مکھن ،پنیروغیرہ ناصرف سعودی عرب بلکہ تمام خلیجی اور بیشتر عرب ممالک میں یکساں مقبول ہے ۔ کمپنی کے مالک کا تعلق سعودی عرب میں حکمران خاندان آل سعود سے ہے جو آل سعود کی شاخ ’’سعود الکبیر‘‘ کا فرد ہے، گزشتہ سال جون میں قطر بائیکاٹ کے آغاز کےساتھ کمپنی کی مصنوعات قطر کےلئے،

روانہ ہونی بند ہوگئی اور یہ بندش آج بھی جاری ہے، شروع میں قطر کواس وجہ سے کافی مشکلات کا سامنا ہوا کیونکہ ڈیری پروڈکٹس میں ’’المراعی‘‘ کی اشیاء فروخت ہونے میں سرفہرست تھیں، اس مشکل سے بچنے کےلئے قطر نے ڈیری پروڈکٹس ترکی سے درآمد کرنا شروع کردیا۔قطر روزانہ کی بنیاد پر سعودی عرب سے 450 ٹن پر مشتمل ’’ المراعی‘‘ کی تیار کردہ اشیاء درآمد کرتا تھا مگر اب قطر کے بائیکاٹ کے بعد المراعی کو کافی نقصان پہنچا اور اب بھی پہنچ رہا ہے مگر المراعی کی تیار کردہ اشیاء اب صہیونی ریاست کی سپر مارکیٹوں میں بکنا شروع ہوگئی ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب نے،

چپ چاپ اسرائیل کے ساتھ اقتصادی وتجارتی تعلقات شروع کردیے ہیں ، جو کہ عالم اسلام کے ساتھ کسی غداری اور دھوکے بازی سے کم نہیں، اسرائیل کے متعدد شہروں کی سپر مارکیٹس میں ’’المراعی ‘‘ کی اشیاء اس وقت فروخت ہورہی ہیں ، افسوس اس بات کا ہے کہ سعودی عرب نے اپنے پڑوسی اور بھائی ملک قطر کو المراعی کی اشیاء سے محروم کردیا ہے اور اس کے بدلے دشمن اور مسلمانوں کے قاتل ریاست کو اپنی مصنوعات بے دریغ فروخت کررہا، اسرائیل کی بات کی جائے تو وہ بھی سعودی مصنوعات کی ترویج کےلئے اقدامات اٹھا رہا ہے، اسکی ایک مثال ہمیں اسرائیلی سپر مارکیٹس میں ملتی ہے۔

جہاں المراعی کی مصنوعات پر اسپیشل ڈسکائونٹ دیا جارہا ہے ، اسرائیل میںالمراعی کی اشیاء فروخت ہونا میرے لیے حیرانگی کی بات نہیں البتہ بیشترلوگوں کےلئے یہ حیران کن ہے کیونکہ بیشتر مسلمانوں کے نزدیک سعودی عرب عالم اسلام کی قیادت کرتا ہے اور اسلام میں اس کا خاص مقام ہے وغیرہ وغیرہ (جو ہم دہائیوں سے سعودی عرب کے بارے میں سنتے آرہے ہیں) حقیقت میں ایسا کچھ بھی نہیں آل سعود نے سرزمین حجاز کی ساکھ کو بری طرح متاثر کردیا ہے اور ایسا تب تک رہےگا جب تک آل سعود اقتدار میں رہیں گے، اگر یقین نہیں آتا توآنے والا وقت اور آل سعود کی مزید حرکتیں آپ کو شاید باور کرا دیں۔

یہ بھی دیکھیں

نئے پاکستان کے سعودی عرب سے نئے تعلقات کی امید

(ثاقب اکبر) قبل ازیں ہم نو منتخب وزیراعظم عمران خان کی 26جولائی 2018ء کی وکٹری ...