منگل , 23 اکتوبر 2018

راہبری کا ہے علم ‘ اب راہزنوں کے ہاتھ میں

(جسٹس(ر) نذیر غازی)

کتنی جرأت بڑھتی جا رہی ہے ہندو بنئے کی زبان اور ہاتھ کی۔ روزانہ اشتعال انگیز فائرنگ ہے ‘پاک سرحدوں پر‘ بے گناہ خواتین‘ معصوم نونہال اور ضعیف الوجود بوڑھے زخمی ہوتے ہیں اور بہت سے تو جام شہادت نوش کر جاتے ہیں اور کتنا خمار ہے جو انڈیا کے ذمہ دار افسران کے دماغ پر چھایا ہوا ہے وہ پوری ڈھٹائی اور بے شرمی سے کہتے ہیں کلبھوشن صحیح سلامت اپنی جنم دھرتی کو لوٹے گا ،ہم خبریں سنتے ہیں اخبار پڑھتے ہیں کچھ اثر قبول نہیں کرتے۔ ہم اور ہمارے سیاسی لیڈران اپنی کسی بھی ذاتی راگنی میں مدہوش ہیں، روزانہ کشمیر میں تاریخ کا بدترین تشدد بے کس اور پاکباز مسلمان نوجوان بیٹے‘ بیٹیوں پر ہوا کرتا ہے۔

ان کو اپاہج کر دیا جاتا ہے یا پھر وہ دھرتی اوڑھ کر ہمیشہ کے لیے عدم آباد کے باشندے بن جاتے ہیں ہم پر اور ہمارے سیاسی نیتائوں پر ذرہ برابر جنبش نہیں ہوتی۔ ہمارے احساس کے سوتے بند ہو گئے ہیں۔ ہم بالکل ہی پتھر دل ہوتے جا رہے ہیں دریائوں کا پانی بند ہوا۔ ہمارے دریا صحرا میں بدل رہے ہیں۔ دھول اڑتی ہے موجیں مارتے دریائوں کے پیٹ پر اور حسرت کی تصویر ہیں ہماری اجڑتی کھیتیاں‘ ہندو ہمارا پانی بند کر رہا ہے اور ہم اپنے ہم وطنوں پر زندگی کے اسباب بند کر رہے ہیں۔ زرخیز زرعی زمینوں کے سینے پر پتھر اور سریے کے وہ بے نور محلات بنائے جا رہے ہیں جن میں بالآخر الو بولیں گے۔ غریب مزدور کسان ہنر مند اور پیشہ ور دو مرلے کی چھت کو بھی ترس گئے ہیں۔ زمین سے دانہ رزق اگے بھی تو مجبور کا چولہا بہرحال نہیں،

گرم ہوتا‘ جانووں کو بیرون ملک بھیجا جاتا ہے اہل وطن ایک لقمہ لحم کو ترستے ہیں۔ یہودی ڈالر پھینکتا ہے اور ڈالر کا مقناطیس میرے وطن کے روپے کو اپنے سے چمٹا لیتاہے۔ ہندو کا ٹماٹر ‘ پیاز اور لیموں پاک سرزمین پر فروخت ہوتا ہے۔ میرے وطن کی نقدی لالہ کے حیلوں سے اس کے کارخانے کی کنیز بنتی ہے۔ یوں میرے وطن کا خزانہ فالج زدہ ہو کر مردنی کی طرف بڑھتا جاتا ہے۔ ہاتھ میں خزانے کی چابی ہے انہوں نے یہودیوں سے پیسے مانگ مانگ کر نئے زرخانے علیحدہ سے کھول لیے ہیں۔ ایک خبر کئی کہانیوں کو جنم دیتی ہے کہ خزانے کو لوٹنے والوں کا سانس نہیں ٹوٹتا۔ وہ برابر پوری طرح سے خزانے کو لوٹتے ہیں۔

ڈرتے نہیں‘ شرماتے بھی نہیں‘ کھربوں روپے کے قرضے بنام پاکستان لیتے ہیں۔ شور مچتا ہے تو بھیک لینے کے لیے دوسرے کے دروازے پر چلے جاتے ہیں۔ قرضہ امریکہ سے لیں یا چین سے۔ قرضہ تو سر پر چڑھ کر سود طلبی کے ہتھوڑے برساتا ہے۔ اور مسلسل برساتا ہے۔سی پیک کے بجائے کس کس کے مقدر کھلیں گے اور کس کس کے رزق کے دروازے بند ہوں گے اور کس کس کی آزادی گرفتاری ہو گی۔ ابھی کچھ اتنی دھندھلاہٹ ہے کہ مستقبل پوری طرح سے حجاب کامل میں مستورہے۔ چین سے کتنا قرضہ لیا اور کن مدات میں کتنی شفافیت سے خرچ ہوا؟ کوئی راز میں رہے گا جب مہاجن سر پر آ کر چلائے گا اور قرضہ باز،

اشتہار پسند سیاستدان دیار غیر میں گلچھڑے اڑا رہے ہوں گے۔ خیر یہ تو ایک خاموش احساس ہے جو کسی دن جادو بن کر سر چڑھے گا اور وطن فروش تاجر اپنے کسی بھی لالہ یار کی بیٹھک میں ہرے رام ہرے ہرے کرشنا کی جے بول رہے ہوں گے۔ پیسے جمع کرنے کا شوق اتنا وزنی ہو گیا ہے کہ اب جان چھڑائے نہیں چھوٹتی۔ انہوں نے اپنے ذوق فراواں کو جنون کی بام بے ثمر تک پہنچایا ہے۔ کسی بھی محکمے کی ملازمت کا ظاہری میرٹ کسی اور طرز کا ہے اور روپیہ چھین میرٹ کسی اور انداز میں صاحبزادوں کی میز پر طے ہوتا ہے تعلیمی اداروں کی لائبریریاں بے ثمر ہوتی ہیں کہ کتابوں کی خریداری کا،

فنڈ کبھی کسی بے ثمر سکیم نے نگل لیا اور اساتذہ کی اسامیوں کا فنڈ کسی بگڑے دل بے نور شہزادے نے اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ تقرری اور تبادلوں کا ایک علیحدہ خفیہ حساب ہے جو نچلے طبقے سے شروع ہو کر کسی بھی ذمہ دار تک حسب مرتبہ تقسیم ہوتا ہے۔ تعلیمی اداروں کی کوکھ کو بے ثمر کرنے والے یہی ضابطہ پرست ہیں۔ بڑے تعلیمی اداروں کو اپنے مفادات کی نرسری ہی نہیں بلکہ چونگی محصولی کا مرکز بنایا گیا۔ مختلف تعلیمی اداروں تک اپنے مفاداتی نگران بٹھا دیے گئے۔ لیپ ٹاپس کی تقسیم کے نام پر نوخیز دماغوں کی خریداری کے لیے سربراہان ادارہ کو اپنا نقیب محفل بنا کر تعلیمی،

اداروں میں جلسہ عام برائے شہرت دوام منعقد کرنا بھی خود پرست بزعم خویش صالحین حکمرانوں کا پسندیدہ مشغلہ رہا ہے۔ لوگ حیران ہوتے تھے کہ کسی بھی بڑے تعلیمی ادارے کا ذمہ دار جب سٹیج پر کھڑے ہو کر ایک سیاستدان کے لیے تالیاں بجائے اور تالیاں بجوانے پر اصرار کرے تو باقی قوم کیا کرے پاکستان میں تعلیمی گراوٹ کا ایک اہم سبب یہ بھی ہے کہ تعلیمی ادارے کے باوقار اساتذہ کو بے وقار کرنے کے لیے ان مہمات پر بھیجا جاتا ہے جن سے ان اساتذہ کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ سکولوں کے اساتذہ کبھی مردم شماری کے لیے لوگوں کے دروازے پر کھڑے گنتی کر رہے ہوتے ہیں اور کبھی کسی بھی وزیر،

زادے یا بگڑے مزاج وزیر اعلیٰ زادے کی تقریب میں بچوں کو ہانک کر لے جاتے ہیں اور غریب عوام کے غریب بچے سرکاری ادارے کے طلبہ و طالبات ہونے کی سزا بھگت رہے ہوتے ہیں۔ دھوپ میں پیاس اور بھوک کے مارے بچے روبوٹ بنے قریب المرگ ہوئے تالیاں بجاتے ہیں۔ شہروں کے سکولوں میں اساتذہ اکثر غیر تعلیمی سرکاری سرگرمیوں کی بجا آوری میں بالجبر مشغول ہوتے ہیں۔ سربراہان ادارہ ہر وقت خطبہ قصیدیہ پڑھنے کے لیے جیب میں ایک کاغذ رکھتے ہیں۔ ہیڈ ماسٹر نہیںکسی شاہانہ دربار کا وہ قصیدہ گو شاعر بدنہاد ہے جو بادشاہ کے مظالم کو انسان پرستی کی تاریخ بیان کرتا ہے۔ پھرہر بدنیت کا اپنی ضمیری میدان ہوتا ہے۔

دینے والے اور لینے والے بدنیتی کے ترازو میں مردہ ضمیروں کے لاشے وزن کرتے ہیں۔۔ بدعنوانی کی دنیا میں ایک سادہ اصول ’’کچھ لو اور کچھ دو‘‘ بھی پوری مہارت سے استعمال کیا جاتا ہے بدعنوان اور بدقماش کچھ لو اور کچھ دو میں اپنا کچھ بھی استعمال نہیں کرتے۔ بلکہ حلوائی کی دکان پر نانا جی کی فاتحہ پڑھتے ہیں۔ اورنج ٹرین بنی تو حکومت کی نظریں پنجاب یونیورسٹی کے رقبہ پر تھی ایک فساد کھڑا ہوا کہ حکومت یہ جگہ کسی محبوب حلیف کے مدرسے کو دینا چاہتی تھی۔ شور مچا اور پھر نجانے کون غالب رہا ۔شنید یہ ہے کہ 13کنال بحق اقتدار یونیورسٹی سے سلب ہو گئے پنجاب یونیورسٹی نیو کیمپس کی زمین دو مربع سے زیادہ ایک نئی سڑک کی تکمیل کی نذر ہو گئی۔ اساتذہ اور طلبہ چلاتے رہے لیکن ظلم ہو کر رہا۔

وی سی تو پابند و صوم تھے۔ آنکھ تک نہ جھپک سکے اور قوم کی امانت کو بے اختیاری کے عالم میں زینت طشتری کر کے ہوس پرستوں کے قدموں میں ڈھیر کر دیا اور علم و تعلیم کے حقوق کو اقتدار کے جابرانہ قدموں تلے روند دیا۔ یہ ملک اور یہ سلطنت اور عوام ایک بہت بڑی نعمت ہیں۔ قوت ہیں اقوام کی امامت ان کی ذمہ داری ہے لیکن اس بلند مرتبت عظیم الشان ذمہ داری کے لیے قوم کو علم کی حقیقی حیثیت سے آشنا کرنا ضروری ہو گا جب قومی تعلیمی اداروں کو منڈی کا مال سمجھ کر اپنے سفلی جذبات کی تکمیل کے لیے استعمال کیا جائے تو عظمت قوم کی ردائے حرمت تار تار ہو جائے گی۔ قوم کے خفیہ دشمن وہ جابر اہل اقتدار ہیں جو قوم کے بچوں کو زینت علم سے محروم کرتے ہیں اور وہ اب اپنے کاروباری،

مقاصد کے حصول کے لیے محراب و منبر کو بھی خیردیتے ہیں۔ وہ خطیب کو نقدی نذر کرتے ہیں۔ مدبر کا قلم خریدتے ہیں۔ استاد کی صفات بھی حس ذات بھی خریدتے ہیں۔ یہ سب ماہرین فن جعلی استاد خریدتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ایک نیا واویلا اٹھا کہ پاکستان کی بڑی یونیورسٹیوں میں ایسے نابغہ روزگاربھی ہیں جو محض سو صفحات سے کم مقالہ پر 2سال میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کر لیتے ہیں۔ ایک یونیورسٹی ہو تو بتائیں پاکستان کے وقیع ترین اور قدم ترین تعلیمی اداروں کے اہم ترین کالجز کے شعبہ جات کے ڈین اور پرنسپلز کے بارے میں طلبہ و طالبات منہ کھول لیتے ہیں کہ ہم پر جعلی ڈگری ہولڈر،

مسلط کر دیے گئے ہیں۔ وہ دشمن علم و تعلیم ہیں‘ ٹیکنالوجی میں اور سب سے بڑھ کر وطن پرستی اور قوم پرستی میں ہم سے کہیں زیادہ ہیں۔ان کا حکمران اور ان کے عوام پاکستان دشمنی اور مسلمان دشمنی کے لیے اپنے آپ کو تعلیم و عمل اور تدبر کے میدان میں ہر لمحہ مستحکم کرتے ہیں اور متحد ہو کر اپنا حق دشمنی ادا کرتے ہیں۔ اس قوم میں علم و عمل کی صلاحیت بدنیتی اور بدعملی کا شکار ہو جاتے تو وہ منتشر ہو جاتی ہے۔ جب کسی قوم کا استاد زلف اقتدار کا اسیر ہو جائے تو اس قوم سے اعتماد اور اتحاد کی قوت فطرت میں لیتی ہے۔ ہوش ذرا ہوش اے اہل مدرسہ‘ خبردار اے مرکب اقتدار کے سوارو! ان کے انتقام کے مزاج کو دیکھ ۔

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...