جمعہ , 22 جون 2018

ہمارے ذہین بچے کہاں چلے جاتے ہیں؟

(یاسر پیرزادہ) 

آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ چلچلاتی دوپہر یا ٹھٹھرتی سردیوں میں سڑک کے کنارے ایک مرد اور با پردہ عورت اپنے چھوٹے سے بچے کے ساتھ بیٹھے ہیں، ساتھ میں مسواک کا ڈھیر لگا ہے جسے وہ بظاہر بیچنا چاہتے ہیں، کبھی کبھار کوئی گاڑی یا موٹر سائیکل والا اُن کی مدد کے لئے رُکتا ہے اور چند نوٹ تھما کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔اسی طرح بازار میں اپنے بچوں کو خریداری کرواتے وقت اچانک کوئی پانچ چھ سال کا بچہ آپ کے سامنے ہاتھ پھیلا دیتا ہے یا ٹریفک کے کسی سگنل پر دونوں پاؤں سے معذور انسان خود کو گھسیٹ کر آپ کی کار کے پاس آتا ہے اور بمشکل تمام آپ کا شیشہ کھٹکھٹا کر مدد کا طلب گار ہوتا ہے یا کوئی خواجہ سرا آپ کی صحت و سلامتی کی دعائیں دے کر اپنی جھولی پھیلا دیتا ہے یا کوئی آپ کے دروازے پر آکر،

کہتا ہے کہ وہ ضرورت مند ہے اسے افطار ی کروا دیں۔اِن میں سے کوئی سچا ہوگا کوئی جھوٹا، کوئی حقیقی ضرورت مند ہوگا کوئی پیشہ ور گداگر، کوئی واقعتاً مجبور ہوگا اور کوئی کام چور ۔حقیقت جو بھی ہو ہم لوگ اِن کی مدد کرتے ہیں، کرنی بھی چاہئے، چھ سال کے بچہ کو اگر کسی مشٹنڈے بھکاری نے لا کر سڑک پر بٹھا چھوڑا ہے تو اُس میں بچے کاتو کوئی قصور نہیں، دونوں ٹانگوں سے معذور شخص خود کو اگر سڑک پر نہ گھسیٹے تو اور کیا کرے، وہ کینیڈا میں تو رہتا نہیں جہاں ریاست اُس کی ذمہ دار ہو، خواجہ سرا اگر خوش و خرم جوڑے کو دعائیں دے کر پیسے نہ مانگے تو اور کیا کرے، یہ تھائی لینڈ تو ہے نہیں جہاں وہ،

ثقافتی پروگرا موں کے ذریعے با عزت روزگار کما سکے۔لیکن ایسے کسی بھی شخص کی مدد سے کوئی بڑا مسئلہ حل نہیں ہوتا، بھوکے کو روٹی کھلانے سے کسی ایک شخص کا ایک وقت کی بھوک کا مسئلہ ایک مرتبہ حل ہوتا ہے ،آٹھ گھنٹے بعد یہ مسئلہ دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے۔ یہی حال سڑک پر بھیک مانگنے والے بچے، اپاہج شخص اور خواجہ سرا کا ہے۔ ایک مرتبہ کی امداد اِن کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی ۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ ضرورت مند کو کوئی پیسہ نہ دیا جائے اور نہ ہی اس کا مطلب یہ ہے کہ پیشہ ور گداگری کی حوصلہ افزائی کی جائے بلکہ معاشرے میں بہتر ی کا کوئی ایسا طریقہ ڈھونڈا جائے جس سے بڑے پیمانے پر تبدیلی کی گنجائش پیدا ہو سکے۔اس ضمن میں ہمارے پاس تین ماڈل ہیں۔ پہلا ماڈل ذاتی،

عطیات کا ہے، ہم لوگ ٹیکس دیں یا نہ دیں اپنے گناہوں کو دھونے کے لئے عطیات ضرور دیتے ہیں، چندہ و خیرات کرتے رہیں ۔ہمیں اپنے عطیات کو دو حصوں میں تقسیم کرلینا چاہئے، ایک حصہ اُن ضرورت مندوں کو دیں جو آپ کے ارد گرد رہتے ہیں، جنہیں آپ جانتے ہیں، جو آپ کے خدمتگار ہیں، آپ کے ملازمین کا حق پہلے ہے پھر کسی دوسرے کا اور دور نزدیک کے ایسے سفید پوش رشتہ دار جن کی تنگ دستی سے آپ واقف ہیں، یہ تمام لوگ آپ کے عطیات اور زکوٰۃ کے حق دار ہیں، سفید پوش سے زیادہ اذیت کی زندگی کوئی نہیں گزارتا۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے معاشرے میں ملنے ملانے کا بھرم بھی رکھنا ہے اور کسی کے،

آگے ہاتھ پھیلانے کا تصور بھی نہیں کرنا۔اپنے ارد گرد نظر دوڑائیں اور ایسے سفید پوش تلاش کرکے اُن کی مدد کریں۔ دوسرا ماڈل اُن غیر سرکاری اداروں کا ہے (سرکار اِس ضمن میں جو کام کر رہی ہے فی الحال اسے چھوڑ دیں)جو غربت دور کرنے کے لئے کام کر رہے، اِن میں ’’اخوت ‘‘ سر فہرست ہے۔ ڈاکٹر امجد ثاقب کی یہ تنظیم لاکھوں افراد کو اربوں روپے قرض حسنہ دے کر اپنے پاؤں پر کھڑا کر چکی ہے ۔اسی طرح بے شمار رفاہی ادارے ایسے ہیں جو غریبوں کے لئے کھانے کا اہتمام کرتے ہیں یا اسپتالوں میں مفت ادویات فراہم کرتے ہیں ۔تیسرا ماڈل اُن رفاہی اداروں کا ہے جوغریبوں کومفت تعلیم کی سہولت فراہم کر رہے ہیں،

پاکستان میں ’’کاروان علم فاؤنڈیشن ‘‘یہ ماڈل نہایت خوبصورتی سے چلا رہی ہے۔ اس ماڈل کے روح رواں اردو ڈائجسٹ والے ڈاکٹر الطاف حسن قریشی اور ان کے دست راست بے حد قابل نوجوان خالد ارشاد صوفی ہیں۔یہ لوگ کیا کرتے ہیں، اسے جاننے کے لئے ضروری ہے کہ پہلے اِس ماڈل کو سمجھا جائے۔ہر معاشرے میں قابل اور ذہین بچوں کی تعداد تقریباً برابر ہوتی ہے، یہ بچے امیر غریب، بادشاہ غلام، جاگیر دار مزارع، کسی کے بھی گھر پیدا ہو سکتے ہیں ،ایسا نہیں ہے کہ ذہین بچہ ارب پتی کے گھر ہی پیدا ہوگا اور غبی ہمیشہ کسی غریب کے گھر، قدرت کے نظام کے تحت ذہین بچے randomlyپیدا ہوتے ہیں اور کسی،

بھی ملک میں ایسے بچوں کا تناسب پانچ سات فیصد ہوتا ہے، باقی بچے اوسط یا اُس سے کم دماغ لے کر پیدا ہوتے ہیں ۔امیروں کے بچوں کو چونکہ بہترین اسکول میسر آتے ہیں، اخراجات کی انہیں پروا نہیں ہوتی سو اُمرا کے حصے کے پانچ فیصد ذہین بچے ضائع نہیں ہوتے اور ہم دیکھتے ہیں کہ وہ زندگی میں کامیابی سے آگے نکل جاتے ہیں۔دوسری طرف غریبوں کے حصے کے پانچ فیصد ذہین بچوں میں سے بمشکل ایک آدھ فیصد ہی اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ کوئی وظیفہ حاصل کر پائیں اور پھر انہیں کوئی ڈھنگ کاا سکول، کالج اور استاد میسر آ جائے جس کے بعد وہ کامیاب ہو پاتے ہیں ۔گویا ہمارے جیسے ملکوں میں اپنے حصے،

کے پانچ فیصد ذہین بچے ،جو قدرت ہمیں دیتی ہے، اُن میں سے وہ ہم ضائع کر دیتے ہیں جو غریب گھرانوں میں پیدا ہوتے ہیں، جبکہ مغربی ممالک میں ایسا نہیں ہوتا ۔برطانیہ میں پانچویں جماعت تک حکومت ہر بچے کو مفت تعلیم دیتی ہے اور اُس کے بعد اُن میں سے پانچ فیصد غیر معمولی ذہین بچوں کی چھانٹی کرکے انہیں ایسے سرکاری اسکولوں میں داخل کر دیتی ہے جو معیار میں وہاں کے مہنگے ترین پرائیویٹ اسکولوں کے برابر ہوتے ہیں۔ اِن ذہین بچوں کا خرچ حکومت اٹھاتی ہے، یوں قدرت نے انہیں جس ذہین بچے کا تحفہ دیا ہوتا ہے وہ ضائع نہیں ہو پاتا، چاہے وہ امیر ہو یا غریب۔کسی بھی معاشرے میں زیادہ تعداد عام،

لوگوں کی ہوتی ہے، اس کے بعد منیجرز قسم کے لوگ آتے ہیں اور پھر ٹاپ لیڈرز۔ یہ لیڈرز اُن پانچ فیصد ذہین بچوں میں پیدا ہوتے ہیں اور وہ کوئی ایسا کام کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اُن لاکھوں بچوں کی زندگیاں بہتر ہوتی ہیں جو اُن سے کم ذہین تھے ۔سو یہ وہ واحد ماڈل ہے جس کے تحت ایک صحیح شخص کی مدد کرکے لاکھوں زندگیاں بہتر کی جا سکتی ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

ہتھیار ڈال کر سر تسلیم خم کرنا انصار اللہ کی قاموس میں نہیں پایا جاتا: عطوان

خیبر صہیون تحقیقاتی ویب گاہ کے مطابق، عالم عرب کے مشہور صحافی عبدالباری عطوان نے ...