منگل , 19 جون 2018

امریکی سفارتخانے کی بیت المقدس منتقلی اور بین الاقوامی قانون

(سید مصطفی میر محمدی)

14 مئی 2018ء کے دن امریکہ نے باقاعدہ طور پر بیت المقدس میں اپنے سفارتخانے کا افتتاح کیا اور اس طرح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صدارتی مہم کے دوران کئے گئے ایک اور وعدے کو جامہ عمل پہنا دیا۔ امریکی وزیر خارجہ نے نئے سفارتخانے کے افتتاح کے موقع پر جشن کی مناسبت سے اعلامیہ جاری کیا جس میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام امریکی صدر کے وعدے کے مطابق انجام پایا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی صدارتی مہم کے دوران 6 دسمبر 2017ء کو اعلان کیا تھا: "70 سال قبل صدر ٹرومین نے اسرائیل کا وجود تسلیم کیا تھا اور اس وقت سے اسرائیل بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دیتا ہے۔ لہذا مناسب ہے۔

کہ امریکہ بھی اس شہر کو اسرائیل کا دارالحکومت مان لے۔امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقلی کے خلاف فلسطینیوں نے شدید احتجاجی مظاہرے شروع کر رکھے ہیں۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ان پرامن مظاہروں کے خلاف طاقت کا بیجا استعمال کیا جس کے نتیجے میں اب تک 120 فلسطینی شہید اور ہزاروں دیگر زخمی ہو چکے ہیں۔ اس اعتبار سے بیت المقدس میں امریکی سفارتخانے کا افتتاح دنیا کا خون آلود ترین افتتاح تصور کیا جاتا ہے۔ گذشتہ سال کے آخر میں جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فلسطین اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کیا تو انہوں نے خبردار کیا کہ،

ایسا فیصلہ خطے میں انتشار کا باعث بن سکتا ہے۔ امریکہ کی جانب سے اس اقدام کے بعد فلسطینیوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ بہت زیادہ ممالک نے اس امریکی اقدام کی مذمت کی ہے۔
بل کلنٹن کے دورہ صدارت سے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا یہ فیصلہ تاخیر کا شکار ہوتا آیا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ فلسطین اتھارٹی اور اسرائیل کے درمیان جاری امن مذاکرات تھے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیا۔ بین الاقوامی قانون کی روشنی میں اس امریکی اقدام کا جائزہ لینے کیلئے درج ذیل نکات پر توجہ ضروری ہے:

1)۔ امریکی کانگریس نے 23 سال پہلے اپنا سفارتخانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کا قانون منظور کیا۔ یہ قانون بنانے میں ڈیموکریٹک سینٹر باب ڈول نے بنیادی کردار ادا کیا۔ باب ڈول 1996ء میں امریکہ میں صدارتی امیدوار بھی تھے۔ امریکی کانگریس میں منظور ہونے والے اس قانون میں اس حقیقت کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کی رو سے بیت المقدس مقبوضہ سرزمین ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کی روشنی میں کوئی بھی طاقت کے زور پر کسی سرزمین کا مالک نہیں بن سکتا۔ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل قرارداد نمبر 478 کی رو سے مشرقی بیت المقدس کو مقبوضہ سرزمین قرار دیتی ہے لہذا اس کا اسرائیل سے الحاق ایک غیر قانونی اقدام ہے۔

2)۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس فیصلے نے مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی راہ حل کو بھی مکمل طور پر نظرانداز کیا ہے۔ اس راہ حل کے مطابق اسرائیل اور فلسطین دو خودمختار ریاستیں تشکیل پانی ہیں جنہوں نے پرامن طریقے سے ایکدوسرے کے ساتھ رہنا ہے۔ اس راہ حل کو اقوام متحدہ کی حمایت حاصل تھی اور امریکی صدر کے حالیہ اقدام نے خطے میں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو شدید دھچکہ پہنچایا ہے۔

3)۔ امریکی حکومت تصور کرتی ہے کہ امریکہ کا آئین بین الاقوامی قانون اور امریکہ کی سپریم کورٹ بین الاقوامی عدالت ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ کے فیصلے امریکی حکومت کی نظر میں بین الاقوامی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ امریکی کانگریس کی جانب سے عالمی ایشوز کے بارے میں انجام پانے والے فیصلوں کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ امریکی حکومت کی نظر میں اقوام متحدہ کو امریکہ کی پیروی کرنی چاہئے نہ کہ امریکہ اقوام متحدہ کی پیروی کرے۔

4)۔ حال ہی میں اسلامک کانفرنس نے استنبول میں فلسطین کے بارے میں ہنگامی اجلاس منعقد کیا۔ اس اجلاس میں مشرقی بیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔ اسلامک کانفرنس کے 2008ء چارٹر کی شق نمبر 21 کی رو سے اس کا مستقل ہیڈکوارٹر بھی مشرقی بیت المقدس میں ہو گا لیکن جب تک اس پر اسرائیل کا قبضہ ہے یہ ہیڈکوارٹر عارضی طور پر جدہ میں ہے۔ یاد رہے اسلامک کانفرنس کی تشکیل اس وقت عمل میں آئی جب پچاس سال قبل مسجد اقصی کو آگ لگا دی گئی تھی۔

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...