جمعہ , 14 دسمبر 2018

سید محمد باقر الحکیم کی زندگی کی مختصر داستان

پورا نام: سید محمد باقر محسن الحکیم الطباطبائی
تاریخ پیدائش: 8جون 1939ء
جائے پیدائش: نجف اشرف ، عراق
والد: سید محسن الحکیم (دین مرجع تعلیہ )
تاریخ شہادت: 29 اگست 2003ء
جائے شہادت: نجف اشرف ،عراق

سید محمد باقر الحکیم عراق کے نامور مذہبی اور سیاسی رہنما کے طور پر جانے جاتے تھے انہوں عراق میں ’’سپریم اسلامی کونسل برائے انقلاب‘‘ کی بنیاد رکھی جو کہ عراق میں صدام حسین اور ان کی جماعت ’’البعث پارٹی‘‘ کے شدید مخالف تھے۔

سید محمد باقرالحکیم نے نجف کے حوزہ ہائے علمیہ میں تدریس کے فرائض سرانجام دیے، نجف کے علاوہ الحکیم نے بغداد اور تہران میں بھی تدریس کا کام سرانجام دیا ہے، عراق میں حکمران جماعت’’البعث پارٹی‘‘ اور ڈکٹیٹرصدام حسین کی مخالفت کے باعث الحکیم عراق سے ایران ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے کیونکہ عراق میں ان کی جان کو کافی خطرات لاحق تھے، ان کی ہجرت سید محمد باقر الصدر کی شہادت کے بعد ہوئی جب پہلے الحکیم عراق سے شام چلے گئے جہاں مختصر مدت کےقیام بعد وہ ایران چلے گئے جہاں سے انہوں نے عراقی نظام کی بھرپور مخالفت کی اور عراقی عوام کو اس نظام کے خلاف متحد کرنے کی کوشش کی ۔

شہادت:
10 مئی 2003ء میں دہائیوں سے زائد عرصہ گزر جانے کے بعد سید محمد باقر الحکیم واپس عراق آگئے، عراقی عوام نے انکا فقید المثال استقبال کیا وہ جس شہر جاتے اس شہر کے لوگ ان کے استقبال کےلئے سڑکوں پر نکل آتے حتیٰ کہ عراق پر قابض امریکہ اور اس کے اتحادی بھی الحکیم کی مقبولیت سے پریشان ہوگئے تھے، نجف لوٹنے کے بعد الحکیم نے اپنی سیاسی ذمہ داریوں کے علاوہ حرم امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب( علیہ السلام )میں نمازجمعہ کی امامت شروع کی، 14جمعوں کے بعد یکم رجب 1424ہجری (29اگست 2003ء) بروز جمعہ نماز کے اختتام کے بعد جب الحکیم صحن حیدری سے نکل کر واپس جارہے تھے تو ایک زور دار دھماکہ ہوا جس میں شہید محمد باقر الحکیم سمیت 83 افراد شہید جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے تھے دھماکہ پارکنگ میں کھڑی ایک گاڑی میں نصب دھماکہ خیز مواد کے چھٹنے کے باعث ہوا، ان کی شہادت پر ہر عراقی آنکھ اشکبار ہوئی اور عراق کو بہت بڑا نقصان لاحق ہوا جس کی تلافی کسی بھی طور ممکن نہیں ۔

سید محمد باقرالحکیم کے اساتید میں انکے والد سید محسن الحکیم ، سید ابوالقاسم الخوئی، شیخ حسین الحلی اور انکے بھائی سید یوسف الحکیم شامل ہیں، ان کے شاگردوں میں ان کے چھوٹے بھائی سید عبدالصاحب الحکیم شہید، سید محمد باقر المہری، سید عباس الموسوی شہید (حزب اللہ کے پہلے جنرل سکرٹری ) سمیت بہت سے نامور حضرات شامل ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

دوھرا معیار

الوقت نیوز (ترجمہ تسنیم خیالی) ایک بندہ قتل ہوا تو پوری دنیا کہہ رہی ہے ...