اتوار , 15 ستمبر 2019

اردن کا معاشی بحران، خلیجی ممالک نے 2.5 ارب ڈالرز کی امداد کا اعلان کردیا

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) اردن کی معاشی بد حالی اور مہنگائی کے خلاف ملک گیر احتجاج پر سعودی بادشاہ سلمان بن عبدالعزیز نے یو اے ای اور کویت کے ساتھ ملکر اردن کے لیے 2.5 ارب ڈالرز کے امدامی پیکج کا اعلان کردیا۔تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے سربراہی میں گذشتہ روز چار ممالک کا اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت سعودی حاکم شاہ سلمان بن عبد العزیز کررہے تھے،اجلاس میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر ودبئی کے حاکم شیخ محمد بن راشد المکتوم، کویت کے فرمانروا شیخ صباح الاحمد الصباح اور اردن کے فرمانروا شاہ عبد اللہ دوّم بن حسین نے شرکت کی۔

چار ممالک کے اجلاس کے دوران سربراہان مملکت نے اردن میں پیدا ہونے والی معاشی بدحالی، تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگاہی کے خلاف ملک میں چلنے والی احتجاجی تحریکوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سعودی فرمانروا کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں چاروں خلیجی ممالک کے سربراہان نے مشکلات میں گھرے برادر ملک اردن کو 2.5 ارب ڈالرز امداد دینے کا عزم کیا، جس میں مذکورہ چیزیں شامل ہوں گی۔

خلیجی ممالک کی جانب سے اردن کے لیے پیش کیے گئے پیکج میں اردن کے مرکزی بینک میں رقم جمع کروانا، اردن کے حق میں عالمی بینک کو ضمانت دینا، ترقیاتی فنڈز سے نئے ترقیاتی منصوبوں کے لیے رقم کی فراہمی کو یقینی بنانا اور پانچ سال تک اردن کے حکومتی بجٹ میں سرکار کو مدد فراہم کرنا شامل ہے۔

خلیجی ممالک کے سربراہوں کا اجلاس اختتام ہونے پر شاہ عبد اللہ دوّم نے شاہ سلمان بن عبد العزیز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کے جذبات کو خوب سراہا اور ساتھ ہی ساتھ تعاون کرنے پر اماراتی نائب صدر اور کویتی امیر کا بھی شکریہ ادا کیا۔

اردن کے حاکم نے معاشی بدحالی کا شکار اردن کی حکومت کے ساتھ تعاون کرنے اور 2.5 ارب ڈالرز کی بھاری رقم پیش کرنے پر شکریہ ادا کیا۔خیال رہے کہ چاروں ممالک کے سربراہان اجلاس میں شرکت کرنے سے پہلے مکہ مکرمہ میں واقع قصر صفا میں تشریف لائے۔

یہ بھی دیکھیں

ایران کشمیری عوام کو انسان دوستانہ امداد فراہم کرنے کے لئے تیار

تہران (مانیٹرنگ ڈیسک)اسلامی جمہوریہ ایران کی انجمن ہلال احمر نے پاکستان کی جمعیت ہلال احمر …