جمعہ , 22 جون 2018

سعودی عرب میں گرفتاریوں کی ایک نئی لہر شروع

(تسنیم خیالی)
سعودی عرب میں محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد حالات بدسے بدتر ہوتے جارہے ہیں، اور خاندانی اختلافات کھل کرسامنے آرہے ہیں، جسکا واضح ثبوت گزشتہ 21 اپریل کو الخزامی نامی علاقے میں واقع شاہی محل پر حملہ ہے، اس حملے کے حوالے سے یہ حتمی تھا کہ اس میں آل سعود خاندان کے کچھ افراد بھی ملوث ہیں اور واقعی میں ایسا ہی ہوا ہے، سعودی سکیورٹی اداروں نے سابق سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کے بیٹے اور سعودی نیشنل گارڈ کے سابق سربراہ متعب بن عبداللہ کو گرفتار کرلیا ہے، متعب کی گرفتاری سے بات ختم نہیں ہوتی کیونکہ آل سعود خاندان میں بن سلمان کے حامی کم اور مخالفین زیادہ ہیں اور آنے والے دنوں میں الخزامی حملوں میں ملوث اور بھی شہزادے گرفتار ہوں گے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان بھی مزید سختی برتیں گے جس کے تحت جہاں شہزادے گرفتار ہوں گے وہیں بعض شہزادوں کو چپ چاپ موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا، سعودی عرب کے اندرونی حالات بالخصوص ہزاروں افراد پر مشتمل آل سعودخاندان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا بےجا نہیں کہ بن سلمان کے لئے حکومت کرنا آسان نہیں ہوگا اسکی جان کو ہر وقت خطرہ رہے گا کیونکہ اس خاندان کا ہرفرد اقتدار کا بھوکا ہے اور مناسب موقعے کا منتظر رہتا ہے اس صورتحال کا اختتام کیسےہوگا؟

محمد بن سلمان کے اقتدار میں آنے کےبعد ، اسے کئی مرتبہ قتل کرنے کی کوشش کی گئی اور ہربار وہ بچ نکلے ، اسی لئے بن سلمان نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اقتدار اور تخت سعودی عرب سے صرف موت ہی جدا کرسکتی ہے، بن سلمان بخوبی جانتے ہیں کہ اس کے خاندان والے اس کی جان لیکر ہی دم لیں گے لہٰذا یہ کہنا بےجا نہیں کہ سعودی عرب میں پھر سے پرانا دور شروع ہوچکا ہے، وہ دور جس میں بادشاہ یا ولی عہد کو قتل کرنے کے بعد اقتدار حاصل کیا جاتا تھا، اور کچھ سال بعد اقتدار حاصل کرنے والے کو بھی قتل کرکے کوئی اور اقتدار پر براجماں ہوجاتاہے۔

یہ بھی دیکھیں

دس ہزار مسلمانوں کا قتل

(سید اسد عباس) دنیا میں انسانوں کی ایک کثیر تعداد بے حسی کی حدوں کو ...