جمعہ , 22 جون 2018

اردن پر اچانک کرم نوازی ؟ آخر ماجرا کیا ہے؟

(تسنیم خیالی)
مکہ کے شہر میں سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اپنے زیر صدارت اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ ، امیر کویت شیخ صباح الاحمد الصباح اور اماراتی وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم کے ساتھ اردن میں جاری اقتصادی بحران کے حل کےلئے بات چیت کی، اس گفتگو کے نتیجے میں اردن کو 25ارب ڈالر امداد دینے کا فیصلہ کرلیاگیا ہے، مگر اردن پر اچانک یہ کرم نوازی کیوں؟

اردن ایک ایسا ملک ہے جو دہائیوں سے (قیام سےابتک) امداد پر گزارا کرتا آرہا ہے؟ اس امداد میں خلیجی ریاستوںکا بہت بڑا حصہ شامل ہوتا ہےالبتہ آخری چند سالوں خلیجی ریاستوں نے اردن کو ’’لفٹ‘‘ نہیں کرائی جس کی وجہ سے ملک شدید اقتصادی ومالی بحران کا شکار ہوا جو آج بھی جاری ہے اور اس صورتحال کے خلاف اردنی عوام بھی سڑکوں پرآگئی، اس بات کو آپ سب یاد رکھیں کہ خلیجی ممالک کو ارد ن کی کوئی فکر نہیں بات صرف اتنی ہے کہ ان ممالک کو اردن سے خوف لاحق ہوگیاہے تبھی تو وہ اس کی امداد کیلئے تیار ہوگئے، اچانک سے ہونے والی اس کرم نوازی کی بنیادی طور پر 6 وجوہات ہیں۔

نمبر۱: خلیجی ریاستوں کو اس بات کی فکر لاحق ہوگئی ہے کہ اردن میں ہونے والے عوامی احتجاج کی لہر ان کے ممالک میں داخل نہ ہو جائے، کیونکہ ان ممالک میں بھی اقتصادی بحران موجود ہے اور عوام مہنگائی، بیروزگاری اور تنگدستی سے بیزار ہوچکی ہے۔

نمبر۲: خلیجی ممالک کو یہ فکر لاحق ہے کہ اردن خود کفیل ملک میں تبدیل ناہوجائے کیونکہ ایسا ہونے سے یہ ملک سعودی عرب اور دیگر خلیجی ریاستوں کے تسلط سے آزاد ہوجائےگا اورسیاسی طور اپنے فیصلے خود طے کریگا جو کہ بالخصوص سعودی عرب وامارات کو قابل قبول نہیں۔

نمبر۳:اردنی نظام کے خاتمے سے مشرق وسطیٰ میں خلفشار پیدا ہوسکتا ہے اس نظام کی وجہ سے جہاں اسرائیل محفوظ ہے،وہیں سعودی عرب کو بھی محفوظ رکھا۔

نمبر۴: خلیجی ریاستوںکا اردن کے ساتھ رویہ، 2سال امداد کی بندش اور ان ممالک کی اسرائیل کے ساتھ اردن کو بنا اعتماد میں لیے تعلقات استوار کرنیکی کوشش کےساتھ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ‘‘صدی کی ڈیل‘‘ پر آمادگی نے اردنیوں کے دلوں میں ان ممالک کیلئے نفرت ۔

نمبر۵: اردنی قیادت پر کافی عرصے سے دبائو تھا کہ وہ اپنے اتحادی بدل دے اور سعودی گروپ کو خیرآباد کہتے ہوئے ایران اور مزاحمتی گروپ کے ساتھ اتحاد کر ے نیز ترکی اور قطر سے ہاتھ ملالے، لہٰذا اس قسم کے کسی بھی اقدام کو روکنےکیلئے سعودی عرب اور امارات حرکت میں آئے ہوئے ہیں۔

نمبر۶: خلیجی ریاستوں کو یہ فکر لاحق ہےکہ بدترین اقتصادی صورت حال کے خلاف اردنی عوام کا احتجاج سیاسی احتجاج میں تبدیل نا ہوجائے، جس کے اثرات پڑوسی ممالک (بالخصوص سعودی عرب) پر بھی پڑسکتے ہیں۔

قابل غور بات یہ ہے کہ سعودی عرب نے اردن کو امداد دینے کیلئے دس دن کا انتظار کیا تاکہ اردن کمزوری کی صورت حال میں امداد کا مطالبہ کرے جس کے باعث اردن پر اپنی مرضی کی شرائط مسلط کرنے کا موقع فراہم ہوجانا تھا، البتہ اردن کی قیادت اور عوام ڈٹے رہےا ورکسی سے مدد طلب نہ کی، جس کے بعد بگڑتی صورتحال اور اپنے مفادات کو ملحوط خاطر رکھتے ہوئے سعودی عرب اور امارات نے اردن کوامداددینے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی دیکھیں

دس ہزار مسلمانوں کا قتل

(سید اسد عباس) دنیا میں انسانوں کی ایک کثیر تعداد بے حسی کی حدوں کو ...