پیر , 18 جون 2018

پاکستان کی بدقسمتی

(ظہیر اختر بیدری) 
پاکستان کی 70 سالہ تاریخ میں اشرافیہ نے جس کروفر اور رعب داب سے حکومت کی اس کے پس منظر میں اشرافیہ کے خلاف احتساب کو اشرافیہ اپنی ایسی ذلت سمجھ رہی ہے کہ وہ احتساب کی زنجیر کو ہر حال میں توڑنے پر تلی ہوئی ہے، اس حوالے سے وہ اس حد تک باغی ہوگئی ہے کہ اعلیٰ اداروں کی کھلی توہین پر اتر آئی ہے اور عوام حیران ہیں کہ اعلیٰ ادارے اپنی کھلی توہین کس طرح برداشت کر رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں کرپشن کا حال یہ ہے کہ حکمرانوں کی ناک کے نیچے انتظامی اداروں کے سربراہ اربوں روپوں کی کرپشن کر رہے ہیں۔ یہ نفسیات اس لیے پرورش پاتی رہی کہ انتظامی سربراہوں کو یقین تھا کہ اوپر والوں کا سایہ جب تک ان کے سروں پر موجود ہے ان کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا۔ لوٹ مار کی انتہا یہ ہے کہ انتظامی اداروں کے سربراہوں کے گھروں اور دوستوں کے گیراج میں سے کروڑوں روپے برآمد ہو رہے ہیں اور کروڑوں کی مالیت کی لگژری گاڑیاں بھی گیراجوں سے برآمد ہو رہی ہیں۔

ہر حکومت کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ قومی اداروں کی سربراہی اپنے دوستوں، یاروں اور وفاداروں کے ہاتھوں میں رہے تاکہ کھل کھیلنے میں آسانی رہے اور اچھے برے وقتوں میں یہ حضرات ان کے لیے مددگار ثابت ہوں۔ ہماری حکومت کا یہ ریکارڈ ہے کہ وزراء اپنی وزارت سنبھالنے کے ساتھ ساتھ عرب ملکوں کی کمپنیوں میں پارٹ ٹائم جاب کرکے 18-18 لاکھ تنخواہ حاصل کرتے رہے ہیں۔ یہ بداخلاقی کسی اور ملک میں ہوتی تو مرتکبین کو کان پکڑ کر باہر نکال دیا جاتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ کچھ عرصے تک یہ احساس ہوتا رہا کہ احتساب امتیازی ہو رہا ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ ایک منظم پالیسی کا حصہ تھا، اب جیسے جیسے احتساب کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے یہ غلط فہمی دور ہوتی جا رہی ہے کہ احتساب امتیازی ہے۔ کرپشن ہماری نچلی سطح سے اعلیٰ سطح تک ایک وبائی بیماری کی طرح پھیلتا جا رہا ہے اور احتساب نام کی کوئی چیز نظر ہی نہیں آتی تھی۔ مجرم کچھ دے دلا کر یا سورس لگا کر چھوٹ جاتے تھے۔

یہ سلسلہ نچلی سطح پر اب تک جاری ہے، لیکن اعلیٰ سطح پر جس جرأت سے احتساب کا عمل جاری ہے اس سے یہ اندازہ ضرور ہو رہا ہے کہ شاید کرپشن کے خلاف ایک سخت گیر پالیسی پر عمل کیا جائے گا، لیکن احتساب کے خلاف جارحانہ رویوں کی وجہ احتساب کا عمل شکوک و شبہات کی زد میں آرہا ہے، پھر انصاف اگر غیر جانبدار اور قومی مفادات کے مطابق ہوتا ہے تو کسی کے ساتھ نرمی برتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ہمارے ملک کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری اپوزیشن قومی مفاد میں کی جانے والی کارروائیوں کی حمایت کرنے کے بجائے یا تو مکمل خاموشی اختیار کرلیتی ہے یا زبانی کلامی حمایت کے دو بول بول کر اپنا حق اپوزیشن ادا کر دیتی ہے، ہمارے علما حضرات اپنے وعظوں میں مسلم حکمرانوں کے بے لاگ اور غیر امتیازی احتساب کے قصے تو بڑے فخر سے سناتے ہیں لیکن اپنی عملی سیاست میں اس طرح کی پالیسی اپناتے ہیں کہ سانپ بھی بچ جائے اور لاٹھی بھی سلامت رہے۔ اس دوغلی اور جانبدارانہ پالیسی کی ایک وجہ تو یہ نظر آتی ہے کہ اپوزیشن میں بھی بڑے بڑے کلاکار بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی بھی فائلیں کھل رہی ہیں۔ اگر یہ ’’احتیاط‘‘ جاری رہی تو احتساب کی راہ میں بڑی مشکلات حائل ہوسکتی ہیں۔

ہمارے اعلیٰ ریاستی اداروں میں یقیناً مدبر لوگ بیٹھے ہوں گے اور آج کے ساتھ آنے والے ممکنہ مشکل کل پر بھی ان کی نظر ہوگی۔ انتخابات لگ بھگ صرف دو ماہ کی دوری پر ہیں اور زیر عتاب جماعتوں کی پوری پوری کوشش ہے کہ ’’کسی نہ کسی‘‘ طرح انتخابات جیت جائیں، اگر ایسا ہوا اور انتخابات تک کرپشن کیسز کے فیصلے نہ ہوسکے تو ریاست کے اعلیٰ اداروں کے لیے ایسی مشکلات پیش آسکتی ہیں جس کے نتیجے میں سارے کیے کرائے پر پانی پھر سکتا ہے۔

اس ممکنہ صورتحال کا تقاضا یہ ہے کہ کیسز کے فیصلے انتخابات سے پہلے پہلے کیے جائیں اور انتظامیہ کو ہائی الرٹ رکھا جائے تاکہ کسی ممکنہ ناخوشگوار صورتحال سے آسانی سے نمٹا جاسکے۔ سیاسی جماعتیں خاص طور پر زیر عتاب سیاسی جماعتیں بھرپور طریقے سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں اور اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، ہماری عوام سیاست کے اسرار و رموز سے ناواقف ہے اور بہت جلد لچھے دار تقریروں سے متاثر ہوجاتے ہیں اور اگر کوئی اپنے آپ کو مظلوم ثابت کرنے میں کامیاب ہوجائے تو عوام کی غیر مشروط حمایت اسے حاصل ہوجاتی ہے.

اس حوالے سے بینظیر بھٹو کا بہیمانہ قتل کا سلسلہ ہمارے سامنے ہے، بینظیر ملک کی ایک مقبول عوام لیڈر تھیں، ان کے قتل سے عوام کی ہمدردیاں پیپلز پارٹی کے ساتھ ہوگئیں اور 2008ء کے الیکشن میں پیپلز پارٹی کو ہمدردی کے ووٹ ملے، اگر پیپلز پارٹی کی قیادت بردبار ہوتی تو عوام کا احسان اتارنے کے لیے عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتی، لیکن ایسا نہ ہوا، اس کے برخلاف 2008ء سے 2013ء تک جو کچھ ہوا اس کے نتیجے میں عوام بددل ہوگئے اور 2013ء میں پی پی کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت کی ماہر پبلسٹی ٹیمیں انتہائی مشکل حالات میں بھی بڑی مہارت اور دانشمندی سے حکومتی پارٹی اور حکمران خاندان کو مظلوم ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں، پنجاب میں تو اس حوالے سے اتنا پروپیگنڈا کیا گیا ہے کہ پنجاب کے عوام کی ہمدردیاں بڑی حد تک حکمران جماعت کے ساتھ نظر آتی ہیں۔

اگر یہ خیال درست ہے تو اس کا فائدہ حکمران جماعت بھرپور طریقے سے اٹھائے گی، اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان اس وقت حکمران جماعت کا سب سے بڑا حریف ہے اور مقبولیت میں بھی سرفہرست ہے لیکن عمران خان کی سیاسی بدبختی یہ ہے کہ نہ اس کے پاس ایسی بڑی سیاسی شخصیات موجود ہیں نہ میڈیا ٹیم ایسی موجود ہے جو ان کی میڈیا ٹیموں کا مقابلہ کرسکے، اگر عمران خان کو سیاسی دانشوروں کی سپورٹ ہوتی اور میڈیا ٹیمیں ماہر پروپیگنڈا ہاتھوں پر مشتمل ہوتیں تو بلاشبہ 2018ء کے انتخابات میں عمران خان سوئپ کرجاتے۔

عوام بلاشبہ ملکی سیاست میں ایک بامعنی تبدیلی چاہتے ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ عوام عمران خان کو ایک بہتر متبادل سمجھتے ہیں لیکن عمران خان کی دو چار افراد پر مشتمل میڈیا ٹیم اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پا رہی ہے جس کی توقع کی جا رہی تھی۔ عمران خان کا فرض تھا کہ وہ ملک بھر میں جلسوں سے خطاب کرتے اور قومی اور عوامی مسائل پر اپنا ایک واضح پلان عوام کے سامنے رکھتے خاص طور پر پنجاب میں شہر شہر جلسے کرکے اپنا منشور اپنا پروگرام عوام کے سامنے رکھتے لیکن ایسا نہیں ہو رہا ہے، ابھی الیکشن میں لگ بھگ دو ماہ ہیں ان دو مہینوں میں عوام کو اگر مطمئن کرسکے تو2018ء کا میدان عمران خان کے ہاتھ میں آسکتا ہے۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

یہ بھی دیکھیں

فتنوں کے دور میں اتحاد کی درست نہج

(ڈاکٹر شفقت شیرازی) ہم فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور اس دور میں ...