پیر , 18 جون 2018

بھارت کی چالبازیاں

(مرتضیٰ شبلی)
لگ بھگ تین ہفتے قبل بھارت کی انٹیلی جنس ایجنسی را کے سابق چیف امرجیت سنگھ دُلت اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل اسد دررانی کی مشترکہ کتاب منظر عام پر آئی جسے معروف بھارتی صحافی آدتیہ سنہا نے دونوں کیساتھ کئی مشترکہ ملاقاتوں کے بعد ترتیب دیا- مصنفین کے مطابق کتاب ’اسپائی کرونیکلز‘ کا مقصد بھارت اور پاکستان کے درمیان بہتر حالات کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے مسائل کو دائمی طور پر حل کیا جاسکے- اگر یہ حقیقت ہے توجنرل درانی کو نئی دہلی میں ہونے والی کتاب کی تقریب رونمائی میں شرکت کیلئے بھارت کا ویزا کیوںنہیں مل سکا- اس پر مستزاد یہ کہ دررانی صاحب کو پاکستان میں بھی بے انتہا تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور کئی حلقوں کی جانب سے ان پر پاکستان کو نقصان پہنچانے کا الزام بھی لگایا جارہا ہے-دو سو پچپن صفحات پر مشتمل اس کتاب میں زیادہ تر باتیں جنرل دررانی سے منسوب ہیں جسمیں وہ ماضی اور حال کے حالات و واقعات پر کھل کر رائے زنی کرتے نظر آتے ہیں- آپ ممبئی دہشت گردی سے لے کر کارگل کی جنگ اور جموں و کشمیر میں جاری آزادی پسند تحریک کے بارے میں کئی طرح کے دعوے کرتے ہیں- مثلا آپ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشمیر کی سیاسی جدوجہد کی نمائندہ مانی جانے والی جماعت حریت کانفرنس کو پاکستانی اداروں نے بنایااور 1990ء میں جب کشمیر میں عسکری جدوجہد شروع ہو گئی تو عوامی سطح پر اس کی بےپناہ پذیرائی دیکھ کر وہ بہت حیران و پریشان ہوگئے کیونکہ حالات کو قابو سے باہر ہوتے دیکھ کر وہ فکرمند ہوگئے کہ کہیں یہ پاک بھارت جنگ کی جانب نہ بڑھ جائیں- اسی طرح جنرل درانی ممبئی دہشت گردی حملوں میں بھارتی بیانیے کی تائید کرتے نظر آتے ہیں حالانکہ یہ حملے اسقدر پیچیدہ تھے کہ انکے بارے میں کسی مفصل اور بڑی تحقیقاتی سرگرمی کے بغیر کوئی بھی حتمی رائے قائم کرنا سادگی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوگا- امرجیت سنگھ دُلت بہت نپی تلی اور محتاط انداز میں گفتگو کرتے ہیں-

انہوں نے پوری کتاب میں اسقدر احتیاط برتی ہے کہ وہ کوئی ایسی بات نہ کہہ دیں جس سے انہیں یا انکے ملک کو کسی بھی قسم کی خفگی اٹھانا پڑے- آپ لگ بھگ ہر ایک بات پر نہ صرف ڈپلومیسی سے کام لیتے ہیں بلکہ کئی جگہوں پر الفاظ کو گول کردیتے ہیں تاکہ کوئی غلط بات نہ ہو- کئی جگہوں پر اگر انہیں مجبوراً بات کرنا بھی پڑتی ہے تو وہ غلط بیانی کا سہارا لیکر صورتحال کو سنبھال لیتے ہیں- مثلا آپ درانی صاحب سے آزادی پسند عسکریت پسندوں کے بارے میں بات کروالیتے ہیں مگر خود بھارتی حکومت کی کاؤنٹر انسرجنسی کی کوششوں پر خاموش رہتے ہیں- اسی طرح نوّے کی دہائی کے اوائل میں بھارت کی جانب سے بنائی گئی دہشت گرد تنظیم الفاران کے بارے میں بات کرنے سے احتراز کرتے ہیں- یاد رہے کہ الفاران نے چھ مغربی سیاحوں کو اغوا کرلیا تھا جن میں سے پانچ ابھی تک لاپتہ ہیں جبکہ ایک سیاح کی سربریدہ لاش اغوا کے چند دن بعد جنوبی کشمیر کے جنگلوں سے ملی تھی- اس واقعہ کے بعد سے ہی بین الاقوامی سطح پر کشمیریوں کی جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کیا جانے لگا- یورپی صحافیوں کی تحقیقاتی جوڑی ایڈرین لیوی اور کیتھی اسکاٹ نے اپنی مشہور کتاب ’’دی میڈؤ‘‘ میں اس اغوا کا تفصیلی احاطہ کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری بھارتی انٹیلی جنس اداروں پر عائد کی ہے- تحقیقات کے دوران انہیں کئی سینئر پولیس اہلکاروں کی مدد بھی حاصل رہی-

دررانی جب اس کتاب کا ذکر کرتے ہوئے الفاران واقعہ پر بات کرتے ہیں تو دُلت بڑی ہوشیاری سے کتاب کو ناقابل اعتبار قرار دے کر جان چھڑاتے ہیں- اسی طرح دُلت صاحب جماعت الدعوۃ کے سربراہ حافظ سعید کے بارے میں باربار باتیں اور جنرل درانی سے انکی ٹرائل اور ممکنہ سزا کے بارے میں استفسار کرتے نظر آتے ہیں مگر مبینہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے بارے میں اسقدر احتیاط سے بات کرتے ہیں کہ عام آدمی کو انکے جاسوس ہونے کا یقین سا ہوجاتا ہے- کلبھوشن کے بارے میں درانی صاحب اس رائے کا اظہار کرتے ہیں کہ اس معاملے کو مس ہینڈل کیا اور یہ کہ بالآخر انہیں رہا کرکے واپس بھارت بھیجا جائے گا-دو افراد کی جانب سے لکھی گئی اس کتاب کو ریٹائرڈ جنرل غلام مصطفیٰ یک طرفہ بیانیہ کہہ رہے ہیں کیونکہ بقول انکے کتاب میں ستر فیصد باتیں جنرل دررانی کی ہیں جبکہ دُلت تیس فیصد کلام کرتے نظر آتے ہیں- جنرل مصطفیٰ کے مطابق را کے سربراہ ایک منجھے ہوئے جاسوس ہیں جو پوری زندگی میدان میں رہے جبکہ دررانی صرف اٹھارہ ماہ تک جاسوس سربراہ رہے اور جنہیں اس فیلڈ کا کوئی خاص تجربہ بھی نہیں تھا- جنرل مصطفیٰ نے مجھے بتایا کہ انہیں اس بات میں کوئی شک نہیں کہ بھارتی جاسوس ادارے نے دررانی کو پھنساکر ان سے ایسی باتیں کہلوائیں جن سے پاکستان کے مفادات اور بنیادی بیانیے کو زک پہنچی ہے- آپ نے درانی کیخلاف فوج کی کورٹ آف انکوائری کو حق بجانب قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں پورا یقین ہے کہ کتاب لکھ کر درانی صاحب نے کئی فوجی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے- اسطرح کے خیالات کئی اور فوجی اور غیر فوجی دانشوروں نے کی حتیٰ ایک ریٹائرڈ فوجی بریگیڈیئر نے اس کتاب کو پاکستان کے خلاف ہائبرڈوار کا حصہ قرار دیا-

امرجیت سنگھ دُلت ان تمام الزامات سے یکسر انکاری ہیں اور انہیں افسوسناک قرار دیتے ہیں- چند روز قبل مجھ سے ایک تفصیلی بات چیت کے دوران را کے سابق سربراہ نے زور دیکر کہا کہ اس کتاب کا مقصد صرف اور صرف پاک بھارت مفاہمت کو بڑھاوا دینا ہے تاکہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ساتھ کھلے ماحول میں گفتگو کرنے پر آمادہ کیا جاسکے- آپ نے جنرل درانی کو ایک دیانتدار اور اسمارٹ جنرل قرار دیکر کہا کہ ان جیسے شخص کو شیشے میں اتارنا کسی بھی طرح سے ممکن نہیں ہے- جب میں نے دُلت کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ کتاب میں وہ جنرل درانی کے برعکس بہت کم باتیں کرتے دکھائی دیتے ہیں تو انھوں نے درشت لہجے میں کہا کہ یہ ان کا اسٹائل ہے کہ وہ کم باتوں میں ساری صورتحال بیان کرتے ہیں جبکہ جنرل دررانی اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ وہ حالات و واقعات کے بارے میں تفصیل سے رائے زنی کریں- جب میں نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں فوج اور حکومت کی جانب سے چلائی جانے والی کاؤنٹر انسرجنسی کے بارے میں بات کرنا چاہی تو انہوں نے اس کو پرانی کہانی کہہ کر بات ختم کردی، پاک بھارت امن کے حصول کیلئےمیں نے سی پیک میں موجود امکانات کا ذکر کیا تو اسے در خور اعتناء نہیں سمجھا اور بتایا کہ ابھی اسکا موقع نہیں ہے اور یہ کہ شاید مستقبل میں اسکے بارے میں کوئی بات ہو-

’’اسپائی کرونیکلز‘‘ میں یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ پاکستان اور بھارت دونوں میں کوئی بھی ملک جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا اور یہ کہ زمینی سطح پر کسی بھی طرح سے موجودہ حقیقتوں کو بزور طاقت بدلا یا جھٹلایا نہیں جاسکتا- اس لئے دونوں سابقہ جاسوس سربراہان بات چیت اور پرامن ذرائع سے مسائل کے حل پر زور دیتے ہیں اور یہی عقل و دانش کا بھی تقاضا ہے- بشکریہ جنگ نیوز

یہ بھی دیکھیں

فتنوں کے دور میں اتحاد کی درست نہج

(ڈاکٹر شفقت شیرازی) ہم فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور اس دور میں ...