پیر , 18 جون 2018

450 ارب اور5.2ارب

(تسنیم خیالی)
اردن کو اس کے اقتصادی بحران میں مدد دینے کیلئے سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے مکہ میں ایک اجلاس کی سربراہی کی جس میںکویت ، اردن اورامارات کو شرکت کی دعوت دی گئی، خیر اجلاس میں ’’سرکھپائی‘‘ اور غور وخوض کے بعد سعودی عرب، کویت اور امارات نے اعلان کیا کہ وہ اردن کو سہارا دینے کیلئے اسے 5.2ارب ڈالر بطور امداد دے رہے ہیں۔

میرے خیال میں اس اعلان کے بعد سعودی حکام کو ڈوب کر مر جانا چاہیے، مگر چونکہ وہ بے حس ہوچکے ہیں اس لیے ایسا نہیں کریں گے اردن سعودی عرب کا پڑوسی ملک ہونے کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ کے اہم ممالک میں شمار ہوتا ہے جس کے تمام خلیجی ریاستوں اور علاقے کے بیشتر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں، اردن ہمیشہ سے خلیجی ریاستوں بالخصوص سعودی عرب کے مالی امداد پر اپنے معاملات چلا رہا ہے اس کے مقابلے میں اردن نے ہمیشہ ہر معاملے میں سعودی عرب کا بھر پور ساتھ دیا اور اس کے اتحادی کے طور پرنمایاں رہا، البتہ موجودہ وقت میں دونوں ممالک کے درمیان مسئلہ فلسطین کے حل پر اختلاف پیدا ہوچکا ہے۔

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان صدی کی ڈیل پر متفق ہیں جبکہ اردنی فرمانروا شاہ عبداللہ دوم اس ڈیل کے شدید مخالف ہیں اس اختلاف کے باعث بن سلمان نے اردن کی امداد بند کردی اور اس صورت کو ایک سال سے بھی زائد عرصہ گزر چکاہے، اب شاہ سلمان کویت اور امارات کے ساتھ ملکر 5.2 ارب کی امداد نہیں بلکہ’’ بھیک ‘‘عبداللہ دوم کو دے رہے ہیں جو چہرے پہ مسکراہٹ لاتے ہوئے اسے قبول کررہے ہیں یہ جانتے ہوئے کہ اتنی سی رقم سے کچھ نہیںہوگا۔

البتہ قابل غور بات تو یہ ہے کہ شاہ سلمان اور اس کے بیٹے کے پاس دنیا کی سب سے بڑی اقتصادی طاقت امریکہ کو دینے کیلئے 450ارب ڈالر تھے، آپ کو یاد ہوگا جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے اپناپہلا غیر ملکی دورہ کیا تھا تو سعودی عرب سے شروعات کی تھی، اور سعودیوں نے امریکیوں کی خوب مہمان نوازی کی اور جاتے جاتے امریکیوں کو کم از کم 450 ارب ڈالر دے دیے حالانکہ امریکہ کو ناکسی اقتصادی بحران کا سامنا ہے اور ناہی کوئی مسئلہ ، اسلام کے ٹھیکیدار اور مسلمانوں کے حامی بنے سعودی حکام اپنے بھائیوں ، پڑوسیوں اور قریبی اتحادیوں کو دینے کےلئے صرف 5.2 ارب ڈالر ہے جبکہ کو سوں دورامریکیوں کےلیے بے تحاشا ارب ڈالر ز موجود ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...