منگل , 21 اگست 2018

اردن صدی کی ڈیل کا حصہ ہے ،اردن کو فلسطین بنانے کا منصوبہ

گذشتہ سال اکتوبر کی سات تاریخ کو قدس میں قائم The jewish muslim dialogue centerمیں ایک کانفرنس منعقد ہوئی اس کانفرنس کا عنوان تھا ۔The jordan option only Road to Peaceاردن کا آپشن بعنوان اردن ہی فلسطین ہے ۔

اس کانفرنس کا مقصد اردن میں فلسطینیوں کی آباد کاری کے آپشن پر غوروخوض کرنا تھا یہاں تک کہ وہ یہ کہہ بھی رہے تھےاور پپلیکیشن بھی میں دکھائی دے رہا تھا کہjordan = palestine ’’اردن یعنی فلسطین ‘‘،وہ اردن کو فلسطینوں کے متبادل وطن کے طور پر پیش کررہے تھے ۔

اس کانفرنس میں یورپی ،امریکی اور اسرائیلی شخصیات نے شرکت کی جبکہ اردن کی جانب اردن کے شاہی خاندان الہاشمی کے مخالف سمجھنے والے ایک فرد مضر زہران نے شرکت کی ۔مضر زہران کو اردن کے حزب اختلاف کا رہنما بھی کہا جاتا ہے جو ملک سے باہر سکونت پذیر ہے ۔

اس کانفرنس میں یہ بات کھلے لفظوں کی گئی کہ کیونکہ اردن میں حاکم شاہی خاندان اسرائیلی پالیسی کی مخالفت کررہا ہے لہذا اس شاہی نظام کو چلتا کرنا چاہیے ۔اس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیلی مبصرین کہتے ہیں کہ کیونکہ اردن کے خفیہ ادارے اور فوج پر امریکی کنٹرول ہے لہذا اردن میں نظام کی تبدیلی کوئی بڑا مسئلہ نہیں ہوگا ۔

الہاشمی شاہی خاندان صرف 82افراد پر مشتمل ایک خاندان ہے اور فلسطینی ہاشمی خاندان سے اسرائیلیوں سے بھی زیادہ سخت نفرت کرتے ہیں جبکہ اردن کے مشرقی حصے میں موجود بدو عرب یا صحرائی قبیلے بھی ہاشمی خاندان کو پسند نہیں کرتے ۔لہذا اردن کے بادشاہ کو کسی بھی قسم کی عوامی کوئی سپورٹ حاصل نہیں ہے اس نظام کو ایک سال کے اندر اندر ہی ختم کیا جاسکتا ہے ۔اسرائیلی تجزیہ کار اور ریسرچ سنٹر سے وابستہ شخصیت مردخائے گیڈرو کا کہنا ہے کہ ’’جس وقت سن 1994میں اسرائیل اور اردن کے سابق بادشاہ کے درمیان امن معاہدہ ہوا تھا کہ جسے اسحق رابین اور ملک حسین نے سائن کیا تھا ۔

اس معاہدے کی رو سے اردن یا مغربی پٹی میں فلسطینی حکومت کا قیام غیر قانونی قراردیا گیا تھا لیکن ملک حسین کے بعد ا سکے بیٹے عبداللہ نے اردن کے سیاسی لہجوں کو تبدیل کردیا اور آج اس کا یہ کہنا ہے کہ مغربی پٹی میں فلسطینی حکومت کا قیام ہونا چاہیے کہ جس کا دارالحکومت قدس ہوگا ۔اور اگر اس قسم کی فلسطینی حکومت کا قیام ہوجاتا ہے تو یہ بین الاقوامی سطح پر اسرائیل کے لئے خطرناک چیز ہوگی‘‘ ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اردن جو کہ اسرائیل سے گیس کا معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور باڈر میں جسے وہ اسلامی شدت پسند کہتا اس کو روکنے میں اسرائیل کے ساتھ تعاون کررہا ہے اور فلسطین کے معاملےمیں درجنوں بار اسرائیلی موقف کا ساتھ دیا ہے لیکن کیونکہ صدی کی سب سے بڑی ڈیل پر اردن دستخط کرتے ہوئے جھجھک محسوس کررہا ہے تو اب اس کی سابقہ تمام صیہونیت پرست اقدامات کو نظر انداز کرکے اس کیخلاف محاذ کھڑاکیا جارہا ہے ۔

واضح رہے کہ صدی کی سب سے بڑی ڈیل پر دستخط کرنےمیں ہاشمی خاندان کے سامنے عوامی ردعمل رکاوٹ ہے نہ کہ اس کی فلسطینوں کے ساتھ ہمدردی ۔آج اردن اپنے کرتوت کے سبب ایک ایسے مخمصے میں پھنس چکا ہے کہ اسے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ کس آپشن پر انگلی رکھے ۔ایک طرف صدی کی ڈیل ہے تو دوسری جانب اس کی اپنی عوام ۔

صدی کی ڈیل پر عدم دستخط کا نتیجہ ہے کہ اس کے اتحادی امریکہ، سعودی عرب اور امارات نے اس کی مالی امداد بند کردی ہے جس کے سبب ملک میں بدترین مہنگائی شروع ہوچکی ہے ،اس پراضافہ عالمی بینک بھی قرضے کے بدلے میں ایسے اقدامات چاہتا ہے جس کا نتیجہ عوام پر مزید معیشتی بوجھ بڑھانا ہے ۔

واضح رہے کہ امریکہ سالانہ اردن کو کروڑوں ڈالر سویلین اور فوجی امداد دیتا ہے جبکہ سعودی عرب اور امارات بھی سالانہ مختلف نوعیت کی امداد دیتے ہیں ۔ماہ رمضان اور گرم موسم کے باوجود گذشتہ دس دن سے اردن کے مختلف شہروں میں شدید مظاہرے جاری ہیں ۔ان مظاہروں سے یہ بات واضح ہے کہ یہ مظاہرےا گرچہ مہنگائی اور اضافی ٹیکسوں کے سبب ہورہے ہیں لیکن اس کا فائدہ اس وقت تخلیقی افراتفری پروجیکٹ چلانے والے اٹھارہے ہیں ۔

ہوسکتا ہے کہ آنے والے چند دنوں میں اردن کے مسائل حل ہوں لیکن اردن کو اس کی قیمت صدی کی ڈیل پر دستخط کی شکل میں دینی ہوگی اور یقیناً اردن کی عوام امارات یا سعودی عرب جیسی عوام نہیں جو صم بکم رہے لہذاجوں ہی بات کھل جائے گی اردن کی سڑکیں مزید غم و غصے سے بھرے عوام سے بھرتی دکھائی دینگی ۔مکہ مکرمہ میں اس وقت اردن کو بحران سے نکالنے کے عنوان سے سعودی عرب کویت اور ابوظبی کے درمیان اجلاس ہورہا ہے ۔

دیکھنا یہ ہے کہ ہاشمی سلطنت اس بحران سے کیسے نکلتی ہے اور کیا وہ سانپ کو مار کر لاٹھی کو بچانے میں کامیاب ہوجاتی ہے یا پھر دونوں میں اسے ناکامی کا سامنا ہوتا ہے ۔بشکریہ فوکس مڈل ایسٹ

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ کی اسلام دشمنی

(اعجاز احمد)  ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاستدان اور Party for freedom کے راہنما گیرٹ ولڈر ...