منگل , 21 اگست 2018

قلت آب کے سنگین مسائل اور بھارتی جارحیت

(رپورٹ: ٹی ایچ بلوچ)
چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے ریمارکس دیے ہیں کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی۔ 90 سے 95 فیصد پانی زراعت میں استعمال ہوتا ہے، 70 سال بعد اب پالیسی بنائی گئی ہے، پانی پالیسی پر سب کا اتفاق نہیں ہے۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ ہم اس وقت کالا باغ ڈیم کی بحث میں نہیں پڑیں گے، 4 بھائی جس پر متفق نہیں تو پھر متبادل کیا ہے، اس متبادل کو تلاش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ پانی کی قلت کیسے ختم ہوگی، معلوم ہے آئندہ وقتوں میں پانی کی کیا اہمیت ہوگی؟۔ ماحولیات کی تبدیلی سے پاکستان میں سیلاب آنا شروع ہوئے، گلیشیر تیزی سے پگھلنا شروع ہوچکے ہیں۔ زیر زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جاچکا ہے، کوئٹہ کا پانی اتنا نیچے جاچکا ہے کہ بحالی میں 2 سو سال لگیں گے۔ 10 سال بعد تو کوئٹہ میں پینے کا پانی نہیں ہوگا، یعنی 10 سال بعد لوگوں کو کوئٹہ سے ہجرت کرنا پڑے گی۔ لوگوں میں پانی کے استعمال اور بچت پر آگاہی دینے کی ضرورت ہے، صنعتی ماحول سے زیر زمین پانی بھی خراب ہو رہا ہے، صنعتوں سے متعلق کوئی مربوط پالیسی نہیں، صنعتیں فضلہ صاف کرنے کے بجائے نالوں میں پھینک رہی ہیں، لاکھوں گیلن گندا پانی سمندرمیں جارہا ہے۔ اس معاملے کا حل یہ ہے کہ صنعتی فضلہ کے لیے ٹریٹمنٹ پلانٹ بنائے جائیں، سندھ طاس معاہدے کو بھی خطرات ہوچکے ہیں، بھارت نے 3 دریاؤں کے پانی پر قبضہ کر لیا ہے، دریائے راوی، ستلج، بیاس کے پانی پر بھارت نے قبضہ کر لیا، جب سیلاب آتا ہے تو بھارت پانی چھوڑ سکتا ہے۔ بھارت کے ڈیمز میں تکنیکی طور پر زیادہ پانی ذخیرہ کیا جاسکتا ہے، ڈیمز بنانے سے متعلق ہم نے کوتاہی کی ہے، تمام حکومتیں ہی اس مجرمانہ غفلت کی ذمہ دار ہیں۔

بھارت تسلسل کے ساتھ پانی بند کرنے کی کوشش کرے گا اور ہمیں پانی کے حوالے سے مزید تنگ کر ے گا۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ ہم نے پانی کی قلت کے خاتمے کا تہیہ کر لیا ہے، اب سپریم کورٹ ڈیمز بنانے سے متعلق آگے بڑھے گی اور کردار ادا کرے گی۔ اس سے قبل سٹیٹ بینک آف پاکستان کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے بحران کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ڈیموں میں صرف 30 دن پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رہ گئی ہے اور کروڑوں شہری زہریلا پانی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ یوں سٹیٹ بینک نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ زرعی ملک ہونے کے ناتے پانی کی بوند بوند پاکستان کیلئے اہم ہے لیکن یہاں تو پانی کی قلت خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔ بڑھتی ہوئی آبادی، شہروں کی طرف نقل مکانی، موسمیاتی تبدیلیوں اور حکومتوں کی کوتاہیوں نے پاکستان کو پانی کی شدید قلت کے شکار 33 ممالک کی طرف دھکیل دیا ہے۔ عالمی معیار کے مطابق کم از کم 120 دن کا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت ہونی چاہئے جبکہ ترقی یافتہ ممالک ایک سے دو سال کیلئے پانی ذخیرہ کر رہے ہیں۔ پاکستان میں دریاؤں کا صرف 10 فیصد پانی ہی ذخیرہ ہو پاتا ہے۔ بھارتی آبی دہشت گردی سے بچ کر ملکی دریاؤں میں آنے والے پانی میں سے بھی 28 ملین ہیکٹر فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں چلا جاتا ہے۔ہمارے دریاؤں میں 144 ملین ہیکٹر فٹ پانی آتا ہے جس میں سے صرف 13.8 ملین ہیکٹر فٹ پانی ذخیرہ ہوتا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ سالوں میں آنے والے سیلابوں کی وجہ سے 38 ارب ڈالر کے نقصانات ہوئے ہیں۔ ہمارے پانی کے ذخائر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں جن کیلئے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث اچانک سیلاب یا خوشک سالی بھی ہو سکتی ہے جس سے نمٹنے کیلئے ڈیمز کا ہونا ناگزیر ہے۔

انڈیا ہمارا ازلی دشمن ہے، اب انڈیا نے پانی کو ہتھیار بنا لیا ہے۔ آج اگر جنگیں تیل پر ہو رہی ہیں تو مستقبل میں جنگوں کی بنیاد پانی ہو گا۔ ایک دوسرے کے آبی وسائل پر قبضہ سنگین صورت حال اختیار کر جائے گا اور یہ آبی ہتھیار ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ تباہی کا باعث ہو گا۔ ساؤتھ امریکہ میں پانامہ کینال، مڈل ایسٹ میں نہر سویزو دجلہ فرات کے دریا اور ترکی، عراق اور شام کے درمیان پانی کے مسائل موجود ہیں، لیکن ہر ملک اپنے حصے کا پانی عالمی اقدار و قوانین کے مطابق حاصل کر رہا ہے کسی بھی ملک کی معیشت تباہ کرنے کیلئے اسے لق و دق صحرامیں تبدیل کرنے والا ہتھیار پانی ہے اور بد قسمتی سے یہ ہتھیار، ہمارے پڑوسی ملک بھارت کی ترجیحات میں پہلے نمبر پر ہے۔ جنرل سن زور لکھتا ہے کہ عسکری برتری یہ ہے کہ جنگ کئے بغیردشمن کی قوت کمزور کر دی جائے۔ اس فارمولے پر بھارت پاکستان کے خلاف پوری طرح عمل پیرا ہے۔ پاکستان کا کسان بھارت کے رحم و کرم پر ہے۔ لاکھوں ایکڑ اراضی ہر سال بنجر ہو جاتی ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کے پانی کا بڑا حصہ بھارت منتقل ہو گیا۔ قیام پاکستان کے وقت ہمارے مغربی حصے میں چھ دریا آئے تھے۔ ستلج ،بیاس، راوی، چناب، جہلم اور سندھ۔ پہلے تین دریاؤں کا ہم نے بھارت سے سودا کر لیا۔ اب بھارت پاکستانی حصے کے دریاؤں پر نقب لگانے کی پالیسیوں پر گامزن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب ہمارے دریاؤں کے چہرے رونقوں، تابانیوں، روانیوں اور جولانیوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ بھارت ہمارے دریاؤں پر بند باندھ کر ڈیم تعمیر کر کے اپنے ریگستانوں کو سیراب کر کے سونا بنا رہا ہے اور یہاں پاکستان میں حالت یہ ہے کہ ہمارے گیارہ ہیڈ ورکس خشک ہونے کو ہیں۔ ہمارے صوبے پانی کیلئے آپس میں دست و گریباں ہیں۔

چین ہماری مانند پانی کے مسئلے سے دوچار تھا، لیکن آج وہ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا ڈیم بنا رہا ہے، لیکن ہمارے ہاں کالا باغ ڈیم جیسے آبی ذخائر کی تعمیر سیاست کی نذر کر کے ملکی مفاد کو نقصان پہنچانے کی تدبیر ہی کی گئی۔ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ 1963ء میں منصہ شہود پر آیا، لیکن یہ کھٹائی میں پڑتا چلا گیا۔ اس سچ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا کہ ڈیموں کی تعمیر سے نظریں چرانا ایتھوپیا کے عوام کی طرح پاکستانی عوام کا مقدر بھوک اور پیاس کے ہاتھوں مر جانا بنانا ہو گا۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ آبی ضروریات کی تکمیل کرنے والے منصوبوں کی تعداد میں اضافہ نہ ہو تو قحط نہ ٹلنے والی تقدیر کا روپ دھار لیا کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں کیوسک پانی جو سونے سے بھی زیادہ قیمتی ہے، سمندر میں گر کر ضائع ہو جاتا ہے، جس سے اربوں کا نقصان ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے زندگی کے بہت سے اہم شعبوں کی طرح وطن عزیز میں تجاہل و تغافل آبی وسائل کے شعبے میں بھی جاری و ساری رہا۔ ساری دنیا اپنے آبی وسائل کی بہتر تنظیم اور استعمال پر اپنی تمام توانائیاں وقف کئے ہوئے ہے لیکن ہم نے اس کے خلاف اپنا پورا زور اور توانائیاں صرف کر دیں۔ بھارت نے بھائرہ ڈیم بنا کر راجستھان کی لاکھوں ایکڑ زمین بھی آباد کر لی ہے اور بہت بڑی نہر سے دفاعی بند کا کام بھی لے رہا ہے۔ دوسری طرف پاکستانی ریگستان تھر اور چولستان کے ایک کروڑ سے زائد انتہائی زرخیز رقبے پر ریت اڑ رہی ہے جو پانی ملتے ہی سونا اگل سکتا ہے۔ مستقبل کے چیلنج اس بات کے متقاضی ہیں کہ پاکستان کے دریاؤں پر جابجا بند باندھے جائیں ۔پورا دریائی پانی حاصل کرنے کے ٹھوس اقدامات سے اجتناب اور غفلت نہ کی جائے۔ اگر مستقبل کی منصوبہ بندی سے آنکھیں چرا لی گئیں تو وطن عزیز کو مستقبل میں بڑے قحط سے بچانا ممکن نہیں ہو گا۔

انڈیا ہمارے پانیوں پر تو ڈیم بنا رہا ہے لیکن ہم کوئی ڈیم بنانا چاہتے ہیں تو اسے روکنے کیلئے بے پناہ سرمایہ خرچ کیا جاتا ہے اور پھر بین الاقوامی سطح پر یہ پروپیگنڈا بھی کیا جاتا ہے کہ پاکستان کو تو پانی کی ضرورت ہی نہیں ہے، کیونکہ وہ ڈیم نہیں بناتا اور ہر سال کثیر مقدار میں پانی سمندر میں پھینک کر ضائع کر دیا جاتا ہے۔ ہمارا ستلج مکمل خشک ہو چکا ہے۔ راوی اور بیاس میں بھی پانی مکمل طور پر بند ہے۔ پاکستان بننے سے پہلے نواب آف بہاولپور نے ستلج ویلی پروجیکٹ کے تحت چولستان میں کچھ نہریں بنائیں، مگر ستلج کے مکمل بند ہونے کی وجہ سے وہ نہریں بھی تباہ ہوگئی ہیں اور بہاولپور، رحیم یار خان، بہاولنگر، پاکپتن، ساہیوال اور لودھراں متاثر ہوئے ہیں، نواب آف بہاولپور نے کہا تھاکہ چولستان اور ریاست کے باقی اضلاع پاکستان کی فوڈ باسکٹ ہوگی، مگر پانی نہ پہنچنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ رقبہ بنجر پڑا ہے۔ ماضی میں بیکانیر ریاست اور بہاولپور کے درمیان بھی پانی کے مسئلہ پر معاہدہ ہوا تھا۔ انڈیا نے ستلج بند کیا تو ساری نہروں کا رخ راجستھان کی طرف موڑ کر اسے سرسبز وشاداب بنا دیا گیا جبکہ ہمارا چولستان ٹوٹل بنجر ہوچکا ہے۔ محکمہ صحت کی رپورٹ ہے کہ بہاولنگر میں گردے کی بیماریاں بڑھ رہی ہیں، آرسینک کی مقدار میں اضافہ ہو گیا ہے۔ اسی طرح راوی تو محض گندا نالہ بن کر رہ گیا ہے، جس کا ایک گھونٹ بھی منہ کو نہیں لگایا جاسکتا۔ دریاوں کی بندش سے پانی بہت نیچے چلا گیا ہے جس سے سنکھیا کی آمد شروع ہو گئی اور ملک میں جگر، گردے کے امراض، یرقان اور کینسر تیزی سے پھیل رہا ہے۔ انڈیا کی طرف سے پیدا کردہ اس صورتحال کو بھارت کی آبی جارحیت نہ کہا جائے، بلکہ یہ تو صریح آبی دہشت گردی ہے، جو ہمیں پینے کے پانی، درختوں، سبزیوں اور آبی حیات سے محروم کر رہی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اور بین الاقوامی عدالتوں میں مقدمے دائر کئے جائیں اور ہر ممکن طریقہ سے بھارتی آبی دہشت گردی کیخلاف آواز بلند کی جائے تاکہ اپنی آنے والی نسلوں کی زندگیاں محفوظ بنائی جاسکیں۔

یہ بھی دیکھیں

ہالینڈ کی اسلام دشمنی

(اعجاز احمد)  ہالینڈ کے اسلام دشمن سیاستدان اور Party for freedom کے راہنما گیرٹ ولڈر ...