پیر , 18 جون 2018

ڈونلڈ ٹرمپ کی سفارتی مہارت کا سخت امتحان

(سید مجاہد علی) 
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گزشتہ روز دنیا کے 7 طاقتور ترین ملکوں جی۔7 کے اجلاس سے عجلت میں روانہ ہوکر سنگاپور پہنچے ہیں جہاں وہ کل صبح شمالی کوریا کے حکمران کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ وہ اس ملاقات کے لئے جی ۔7 کے اہم اجلاس سے جلد روانہ ہوئے اور چلتے ہوئے جی ۔ 7 اجلاس کے مشترکہ اعلامیہ پر اتفاق بھی کرلیا۔ لیکن ائر فورس ۔1 سے انہوں نے ایک ٹویٹ کے ذریعے کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کو جھوٹا اور مکار قرار دیا اور اس کے ساتھ ہی اس مشترکہ اعلامیہ سے منحرف ہونے کا اعلان بھی کیا۔ یوں تو صدر ٹرمپ کی طرف یورپین یونین اور کینیڈا کے خلاف محصول عائد کرنے کی حکمت عملی کی وجہ سے جی ۔7 کا اجلاس زیادہ تر اختلافات کا شکار رہا۔ اسی لئے متعدد مبصر اسے جی ۔7 کی بجائے 6+1 اجلاس قرار دے رہے ہیں جہاں صدر ٹرمپ کو باقی روائیتی حلیف ملکوں کے لیڈروں کے ساتھ سخت اختلاف کا سامنا کرنا پڑا۔ امریکہ کے سوا جی ۔7 ملکوں کے باقی لیڈر تجارتی لین دین اور عالمی معاشی نظام کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی تحفظاتی حکمت عملی پر سخت مؤقف اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس کے سارے دوست امریکہ کی دولت پر عیش کرتے ہیں اور وہ اسے کسی صورت برداشت نہیں کرسکتے۔ کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو جو جی۔ 7 کے حالیہ اجلاس کے میزبان بھی تھے، نے اجلاس کے بعد روائیتی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ کینیڈا امریکہ کی طرف محاصل عائد کرنے کی پالیسی پر خاموش نہیں رہے گا اور اس کی مزاحمت کی جائے گی۔ اس طرز تکلم نے صدر ٹرمپ کو اس قدر برہم کیا کہ وہ اپنے محبوب میڈیم ٹوئٹر کے ذریعے جسٹن ٹروڈو پر برس پڑے۔ ان کے معاونین نے کینیڈا کے وزیر اعظم کے بارے میں ایسی زبان استعمال کی جو بعض ماہرین کے نزدیک صرف جنگ سے پہلے کسی دشمن ملک کے بارے میں برتی جاتی ہے۔

تاہم امریکی صدر اور ان کے معاونین اس بات پر مصر ہیں کہ صدر ٹرمپ کا رویہ بالکل درست تھا کیوں کہ وہ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ ان سے اہم ترین ملاقات کرنے کے لئے جارہے تھے۔ انہیں اس ملاقات سے بے شمار امیدیں وابستہ ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنی چابکدستی اور ’ڈیل میکر ‘ کی صلاحیت کی بنیاد پر شمالی کوریا کے ساتھ ایسا معاہدہ کرکےلوٹیں گے جو دہائیوں پر پھیلے اختلاف اور تنازعہ کو ختم کردے گا اور دنیا میں امن و امان کا بول بالا ہوگا۔ مغربی دنیا کے سب لیڈر اس ملاقات کی کامیابی کے لئے پر امید ہیں اور فرانس کے وزیر خارجہ نے تو سویڈن کا دورہ کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر صدر ٹرمپ اور کم جونگ ان جزیرہ نما کوریاکو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک کرنے کے کسی معاہدہ پر متفق ہو جاتے ہیں تو ان کا ملک سب سے پہلے اس کا خیر مقدم کرے گا۔ دنیا کے باقی ممالک بھی اس امید اور جذبہ میں فرانسیسی وزیر خارجہ ہمنوا ہوں گے۔ لیکن شمالی کوریا کے ساتھ معاملات طے کرنے کے لئے جس مہارت اور صبر و تحمل کی ضرورت ہے، امریکی صدر میں اس کی کمی دکھائی دیتی ہے۔ جی ۔7 اجلاس کے بعد کینیڈین وزیر اعظم کے خلاف ٹوئٹر حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کے رفقائے کار نے کہا ہے کہ انہیں یہ سخت رد عمل دکھانے کی ضرورت اس لئے پیش آئی ہے کیوں کہ وہ شمالی کوریا کے کم جونگ ان کے ساتھ انتہائی اہم ملاقات کے موقع پر کمزور لیڈر کے طور پر دکھائی نہیں دینا چاہتے تھے۔ تاہم خود کو طاقتور دکھانے کے لئے اپنے ہی ہمسایہ ملک کے لیڈر کے بارے میں بدکلامی یا قریب ترین حلیف ملکوں کے ساتھ تضاد کا کھلم کھلا اظہار کسی لیڈر کی طاقت کی بجائے اس کی کم عقلی اور کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ماہر سیاست دان یا سفارت کار ناکام ہونے کے بعد بھی یہی ظاہر کرتا ہے کہ معاملات اس کے کنٹرول میں ہیں۔ لیکن صدر ٹرمپ یورپ اور کینیڈا کے ساتھ معاملات طے کرتے ہوئے واضح کررہے ہیں کہ وہ متعدد معاملات میں اپنے دیرینہ حلیف ملکوں کے ساتھ تصادم کی راہ پر گامزن ہیں۔ اس طرح فریق مخالف کو یہ یقین ہو جائے گا کہ ہر طرف سے ناکامی کے بعد اب یہ لیڈر ہمارے ساتھ معاملہ طے کرنے پر مجبور ہے اور اس کی اس کمزوری سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانا چاہئے۔ بعض ماہرین کو اندیشہ ہے کہ صدر ٹرمپ اپنی عجلت اور ناتجربہ کاری کے سبب کم جونگ ان کی کم عمری کے باوجود ان سے مات کھا سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ ملاقات کے لئے کسی قسم کی تیاری نہیں کی ہے۔ انہوں نے شمالی کوریا کی تاریخ اور سیاست، کم جونگ ان کی شخصیت یا شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے بارے میں بریفنگز لینے سے بھی گریز کیا ہے۔ امریکی صدر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس گمان میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ سب جانتے ہیں اور انہیں سب کچھ پتہ ہے اور کوئی نئی معلومات حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ وہ جب اس رویہ کے ساتھ شمالی کوریا کے سخت گیر حکمران سے ملیں گے تو ان سے کوئی بھی غلطی سرزد ہو سکتی ہے۔ کم جونگ ان انہیں خوش کرنے کے لئے یہ وعدہ کرسکتے ہیں کہ وہ جوہری ہتھیاروں کی تجربہ گاہیں تباہ کردیں گے لیکن جوہری ہتھیاروں کی اصل مقدار اور میزائل پروگرام محفوظ رکھنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔ اسی لئے شمالی کوریا کے امور کے امریکی ماہرین یہ مطالبہ بھی کررہے ہیں کہ سینیٹ صدر ٹرمپ کو اس بات کا پابند کرے کہ شمالی کوریا کے ساتھ کوئی معاہدہ سینیٹ کی منظوری کے بغیر منظور نہیں کیاجائے گا۔ اب سنگاپور سے یہ خبر آرہی ہے کہ کل صبح ٹرمپ اور کم ان کے درمیان ہونے والی پہلی ملاقات تنہائی میں ہو گی۔ اس موقع پر ٹرمپ کم جونگ ان کے ساتھ ون ٹو ون ملاقات کریں گے اور ڈونوں لیڈروں کے مترجم ہی اس وقت موجود ہوں گے۔ سفارتی مبصرین کو اندیشہ ہے کہ ایسی ملاقات اگرچہ ڈونلڈ ٹرمپ کی پسندیدہ ہو گی کیوں کہ وہ سب معاملات خود طے کرکے اس کا سارا کریڈٹ خود ہی سمیٹنا چاہتے ہیں لیکن اس میں غلطی کا احتمال بھی بہت زیادہ ہے۔ ٹرمپ اپنی صلاحیت اور ہوشیاری کے بارے میں غیر معمولی خوش فہمی کا شکار ہیں اور کسی بھی قیمت پر شمالی کوریا کے ساتھ کوئی ڈیل کرکے خود کو اہم ترین لیڈر ثابت کروانے کے خواہش مند ہیں لیکن اس ملاقات کے لئے نہ تو ٹرمپ تیار ہیں اور نہ ہی شمالی کوریا اور امریکہ کے وفود کے درمیان ملاقاتوں میں کسی معاہدہ کے بنیادی اصول طے ہو سکے ہیں۔

امریکہ نے شمالی کوریا کی طرف سے سربراہی ملاقات کی پیش کش کے بعد سے یہ دعویٰ کرنے میں صلاحیتیں صرف کی ہیں کہ یہ ملاقات صدر ٹرمپ کی سخت گیر پالیسی کا نتیجہ ہے۔ صدر ٹرمپ نے گزشتہ برس اقوام متحدہ میں اپنے پہلے خطاب میں ہی دھمکی دی تھی کہ امریکہ اپنی حفاظت کے لئے شمالی کوریا کو نیست و نابود کردے گا۔ وہ اپنے ٹوئٹر پیغامات میں بھی کم جونگ ان کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ دعوے کرتے رہے ہیں کہ امریکہ کے ایٹمی ہتھیار بہت بڑے اور تباہ کن ہیں۔ شمالی کوریا کے ہتھیار ان کا پاسنگ بھی نہیں ہیں۔ اس قسم کی بچگانہ گفتگو کرنے والے لیڈر کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کم جونگ ان اس بات کے لئے پوری طرح تیار ہوں گے کہ ایسے متلون مزاج شخص کے ساتھ کیسے بات کرنی ہے۔ یوں تو ٹرمپ جمعرات کو 72 سال کے ہوجائیں گے جبکہ کم جونگ ان ابھی صرف 35 برس کے ہیں۔ لیکن سفارتی مہارت کاری میں ان کے پاس تین نسلوں کا تجربہ ہے۔ وہ اپنے دادا اور باپ کے اس ورثہ کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کہ شمالی کوریا کی کس طرح حفاظت کرنی ہے۔ 1989 میں سویٹ یونین کے خاتمہ کے بعد شمالی کوریا اپنے سرپرست اور حفاظت کی ضمانت بننے والے ملک سے محروم ہو گیا تھا لیکن شمالی کوریا کی قیادت اس کے باوجود اپنا وجود قائم رکھنے اور جوہری اور میزائل پروگرام کو جاری رکھنے میں کامیاب ہوئی تھی۔ صدر ٹرمپ سے ملاقات کا اعلان کرنے سے پہلے کم جونگ ان مکمل جوہری صلاحیت حاصل کرچکے ہیں اور مذاکرات کی میز پر ان کی پوزیشن مضبوط ہے۔

اس ملاقات کے حوالے سے سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ کی طرف سے واضح کیا جا چکا ہے کہ وہ شمالی کوریا سے کیا چاہتا ہے۔ اس کا مطالبہ ہے کہ شمالی کوریا اپنا جوہری پروگرام بند کردے اور تمام ایٹمی ہتھیار تلف کر دے۔ صدر ٹرمپ اس قسم کے دعوے بھی کرتے رہے ہیں کہ وہ ایک ہی ملاقات میں یہ مقصد حاصل کرسکتے ہیں تاہم بعد میں وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہوئے تھے کہ حتمی معاہدہ کے لئے ایک سے زیادہ ملاقاتوں کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ ملاقات شروع ہونے کے ایک منٹ کے اندر جان لیں گے کہ کم سے معاہدہ ہو سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے برعکس شمالی کوریا کی طرف سے ابھی واضح نہیں کیا گیا کہ وہ اس ملاقات سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جزیرہ نما کوریا کو ایٹم فری بنانے کی مبہم خواہش کے علاوہ شمالی کورین لیڈر کی طرف سے کوئی وعدہ سامنے نہیں آیا ہے۔ امریکہ معاہدہ کے بدلے مالی امداد اور معاشی و سفارتی پابندیاں اٹھانے کی بات کرتا ہے لیکن شمالی کوریا واضح کرچکا ہے کہ وہ امریکہ کی امداد کا محتاج نہیں ہے۔ اس کے علاوہ 70 برس تک امریکہ اور مغرب کی ذبردست مخالفت کے باوجود کم خاندان نے شمالی کوریا کو نہ صرف خود مختار ملک کے طور پر قائم رکھا ہے بلکہ اس خاندان کی تیسری نسل اس ملک پر حکمرانی کررہی ہے۔ اس لئے شمالی کوریا سے معاشی مراعات کا لالچ دے کر مراعات حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔ اس کے برعکس شمالی کوریا نے ابھی تک اپنے پتے ظاہر نہیں کئے ہیں اور کم جونگ ان اگر ملاقات میں شمالی کوریا کے کچھ ایسے مطالبات سامنے لاتے ہیں جن پر ٹرمپ کے لئے کوئی وعدہ کرنا ممکن نہ ہو تو انہیں شدید سفارتی اور سیاسی مشکل کا سامنا ہو گا۔

سنگاپور میں ہونے والی ملاقات کے حوالے سے یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے کہ شمالی کوریا دنیا کی بدترین آمریت ہے اور اس کا انسانی حقوق کے حوالے سے ریکارڈ انتہائی خراب ہے لیکن مہذب دنیا کی قیادت کا دعوے دار ملک اب جوہری معاہدہ کی خواہش و کوشش میں ایک ایسے لیڈر کو عزت و احترام دینے کے علاوہ انہیں تسلیم کرے گا جن سے انسانی حقوق کے حوالے سے سوال پوچھنے کی ضرورت ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ٹرمپ نے یہ اہم پہلو نظر انداز کیا تو یہ امریکہ کی بہت بڑی ناکامی ہو گی۔ صدر ٹرمپ نے حال ہی میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدہ کو ناقص قرار دیتے ہوئے ختم کیا ہے حالانکہ اس معاہدہ کے تحت ایران کو ایٹمی ہتھیار تیار کرنے سے روک لیا گیا تھا۔ لیکن اگر وہ انسانی حقوق اور دوسری نزاکتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کم جونگ ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتے ہیں تو دنیا کے لئے اسے قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔بشکریہ ہم سب نیوز

یہ بھی دیکھیں

فتنوں کے دور میں اتحاد کی درست نہج

(ڈاکٹر شفقت شیرازی) ہم فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور اس دور میں ...