پیر , 18 جون 2018

افغانستان میں 77000 سے زائد دہشتگرد موجود ہیں؛افغان آرمی کمانڈر

کابل (مانیٹرنگ ڈیسک)افغانستان فوجی تربیتی یونٹ کے کمانڈر نے کہا ہے کہ ملک میں سرگرم دہشتگردوں کی تعداد 77500 ہے۔ افغانستان فوجی تربیتی یونٹ کے کمانڈر ’’لعل جان ظہیر‘‘ نے کہا کہ ملک میں سرگرم دہشتگردوں کی تعداد 77500 ہے جبکہ ان میں سے 3000 دہشتگرد داعش سے منسلک ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغانستان میں دوسرے ممالک سے آئے ہوئے کل دہشتگردوں کی تعدادلگ بھگ5000 تک ہے۔موصوف کمانڈر نے کہا کہ عراق اور شام میں مسلح جتھوں کی پے در پے شکست کے بعد افغانستان کے اندر تکفیری دہشت گردوں کی تعداد میں قابل توجہ اضافہ ہوا ہے۔

یاد رہے گذشتہ کچھ مہینوں میں روس نے سرکاری طور پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کو شکست خوردہ دہشتگرد عناصر کو افغانستان منتقل کرنے کا ملزم ٹھرایا تھاروسی ذرائع نے اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں کچھ ناشناس ہیلی کاپٹر دہشتگردوں کی نقل و حرکت میں مصروف ہیں۔ افغانستان میں اگرچہ داعش کے دہشتگرد امریکہ اور اتحادی ممالک کے مورد حمایت ہیں لیکن طالبان سے وابستہ دہشت گردوں کی تعداد سب سے زیادہ ہےاور یہ مسلح خونخوارگروہ افغانستان کے قبیلہ نظام سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے وہیں سے نئی کھیپ بھرتی کر لیتے ہیں تازہ ترین رپورٹس کے مطابق افغان طالبان نے کوہستان علاقے پر بھی قبضہ کر لیا ہےطالبان کی جانب سے ہونے والے مختلف حملوں میں 32 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 30 سے زائد زخمی ہیں۔

واضح رہے کہ شام میں عرب ممالک کی سہولت کاری سے امریکی صیہونی دہشتگردی کے پلان کی شکست کے بعد ہر ایک کے ذہن میں یہ سوال گردش کر رہا تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں پروڈیوس کئے گئے دہشتگرد ٹولے اب کہاں جائیں گے؟ اکثر تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان دہشتگردوں کا اگلا ہدف پاکستان، افغانستان یا ایران سمیت کوئی بھی اسلامی ملک ہو سکتا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

نیو جرسی: آرٹ فیسٹیول کے دوران گولیاں چل گئیں، 22 افراد زخمی

نیو جرسی(مانیٹرنگ ڈیسک) نیو جرسی میں آرٹ فیسٹیول کے دوران گولیاں چلنے سے بیس افراد ...