منگل , 23 اکتوبر 2018

آگ اور قہر کی بارش سے مذاکرات کے ٹیبل تک

اب سوال یہ ہے کہ اتنا سب ہونے کے بعد اگر دونوں ملک ایک مذاکرات کے ٹیبل پر آئے ہیں تو دونوں ہی کے ذہن میں دنیا کے موجودہ منظر نامہ کو لیکر کچھ نہ کچھ چل رہا ہے وہ کیا ہے اس کو آنے والاوقت بتائے گا کہ کس کے ذہن میں کیا تھا ۔البتہ فی الحال آگ و قہر کی بارش سے نازل ہونے والے اس مذاکرات کے ٹیبل کی تصویر شاید ان دو باتوں سے واضح ہو سکے۔

کہتے ہیں ارسطو کی علمی محفل سجی تھی ، علمی گھتیاں سلجھائی جا رہی تھیں ، بڑے بڑے دانا اور دانشور وہاں موجود تھے کہ ایک جاہل ونادان وہاں آ دھمکا ، اور ارسطو کی محفلِ درس کے ایک ہونہار و دانا شاگرد سے الجھ گیا، اور اسے خوب کھری کھوٹی سنائی، جب ارسطو کے دانا شاگرد نے یہ دیکھا تو وہ بھی آپے سے باہر ہو گیا ، اس نے بھی اینٹ کا جواب پتھر سے دیا اور خطرناک سے خطرناک دھمکیاںاس کو دے ڈالیں اور موٹی موٹی گالیوں کو علمی رنگ و لعاب چڑھا کر جاہل و نادان کے نثار کر دیا، بیچ بچاؤ ہوا اور لوگوں نے ایک دوسرے کو کسی طرح علیحدہ کیا ، جب جاہل و نادان وہاں سے چلا گیا تو بجائے لاحول پڑھنے اور اپنے شاگرد کی حمایت میں کچھ کہنے کے ارسطو الٹا اس پر ہی بھڑک اٹھا اور اپنےشاگرد کی بہت سر زنش کی۔

شاگرد نے سر جھکا کر استاد سے بصد احترام ہاتھ جوڑ کر کہا کہ استاد :آپ نے تو دیکھا کہ ہم علمی مسائل میں گفتگو کر رہے تھے اور یہ جاہل خود یہاں آ دھمکا اور آپ نے خود دیکھا کہ بغیر میرے کچھ بولے ہوئے اس نے مجھے کیا کیا نہیں کہا، میں نے تو محض دفاعی کارروائی کی اگر میں اس کا جواب نہ دیتا تو ممکن ہے وہ یہاں موجود لوگوں کو بھی کچھ سنا دیتا اور ممکن ہے آپکی شان میں ہی گستاخی کر بیٹھتا اور آپ مجھے ہی سنا رہے ہیں، وہ تو جاہل تھا جہالت کی بنا پر کچھ بھی کہہ رہا تھا ،میں نے مجبوراً اسکا جواب دیا اور آپ بجائے اپنے شاگرد کا حوصلہ بڑھانے کے، بجائے میری حوصلہ افزائی کرنے کے میری ہی کلاس لے رہے ہیں جبکہ آپ نے خود دیکھا کہ گالیاں دینے کا آغاز اس نے کیا تھا ،میں تو اسکو جانتا بھی نہیں تھا ، وہ جاہل انسان تھا اور اپنی جہالت کا شکار ہو کر مجھے طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہا تھا ، آپ کو تو پتہ ہے کہ میں آپکا شاگرد ہوں اور ایک پڑھا لکھا انسان ہوں کیا کوئی عالم دانا اپنی توہین پر خاموش رہ سکتا ہے؟ جبکہ مجھے آپ پر تعجب ہے یہ آپکی کیسی علم دوستی ہے کہ ایک عالم کے مقابل آنے والے جاہل کو تو کچھ نہیں کہہ رہے مجھے ہی سنا رہے ہیں ارسطو نے جواب دیا :اسی لئے میں تمہاری سرزنش کر رہا ہوں کہ تم ایک پڑھے لکھے عالم ہو اور تم جانتے ہو کب کس سے کس طرح بات کرنا چاہیے، تم عالم و دانا ہو اور عالم و دانا نادان و جاہل کو سمجھ سکتا ہے اس لئے کہ اس نے ایک زمانہ ایسا گزارا ہے جب وہ خود جاہل و نادان تھا تو وہ جانتا ہے کہ جہالت و نادانی انسان کے اندر کتنی اکڑ پیدا کرتی ہے اور جہالت و نادانی کی وجہ سے انسان کیا کچھ اول فول بکتا ہے لیکن جو جاہل و نادان ہوتا ہے وہ عالم ودانا کے نفسیات کو نہیں سمجھتا چونکہ وہ دانائی و علم سے دور ہے اس نے ابھی علم کو سونگھ کر بھی نہیں دیکھا لہذا اسے کیا پتہ کہ عالم کیا ہوتا ہے اور اس سے کیسے بات کرنا چاہیے یہ تو تمہارے اوپر ہے کہ اسکے ساتھ جوابی کاروائی نہ کرو اور اسے اپنی جہالت ظاہر کر دینے دو ، کہ عالم جاہل سے نہیں الجھتے …

مندرجہ بالاداستان شاید ٹرامپ و کم جونگ نے ایک ساتھ ایک ہی وقت میں پڑھ لی ہوگی شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ارسطو کی نصیحت پر عمل کرتے ہوئے دنیا کے سامنے اپنے آپکو دانا و عالم کے طور پر پیش کرنے کی ایک اچھی کوشش کی، جہاں ایک طرف شمالی کوریائی فوج کے سربراہ گوام پر حملے کی تیاریاں مکمل ہونے کے بعد اس پر عمل درآمد کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے تھے اور بحر الکاہل کی موجیں ایٹمی حملے کی منتظر تھیں، تو دوسری طرف راکٹ مین کو خاموش کرنے کے لئے آگ اور قہر کی بارش کے نزول کی بات کی جا رہی تھی، کوئی کسی کو دیوانہ کہہ رہا تو کوئی کسی کو احمق و نادان ایسے میں آگ و قہر کی بارش کی جگہ مذاکرات و صلح کے ٹیبل کا نازل ہونا یقیناً ایک خوش آئند بات ہے ۔کم از کم اتنا تو کہا جاسکتا ہے کہ ایٹمی توانائی سے لیس دو طاقتوں نے ارسطو کی نصیحت پر یکجا و بہ یک وقت عمل کیا اب یہ تو وقت طے کرے گا ان دونوں میں کس ملک کا سربراہ جاہل و دیوانہ تھا اور کس کا عقلمند و دانا ۔لیکن آگ و قہر کی بارش سے مذاکرات و صلح کی بوندیں ٹپکی ہیں یہ اپنے آپ میں ایک اچھی بات ہے بشرطیکہ دوبارہ کچھ ایسا نہ ہو کہ مذاکرات کے ٹیبل سے کوئی آتش فشاں پھٹ پڑے ۔

فی الحال شمالی کوریا کے سربراہ کی امریکن صدر سے مذاکرات کی جو خبریں آ رہی ہیں ان میں تو امریکی صدر کم جونگ کی قابلیت کا کلمہ پڑھتے نظر آ رہے ہیں اور کسی صحافی کا یہ جواب ساری دنیا میں لوگ دانتوں تلے انگلی دبا کے سن رہے ہیں کہ : کم جونگ ان ’بہت قابل ہیں۔ وہ بہت کم عمری میں اقتدار میں آئے اور مشکل وقت میں ملک کو سنبھالا۔‘ٹرمپ نے ان غیر معمولی الفاظ کا استعمال ایک ایسے شخص کے لیے کیا جنھیں چند ماہ قبل وہ ’راکٹ مین‘ اور ایک ایسی ریاست کا حکمران، کہہ چکے تھے جسے دنیا برا سجھتی ہے ۔ ادھر بالمقابل شمالی کوریا کے سربراہ نے احتیاط کا دامن نہ چھوڑتے ہوئے اتنا ہی کہنے پر اکتفا کی ہے :’ہم نے ماضی کو پیچھے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے اور دنیا کو اہم تبدیلیاں نظر آئیں گی۔

تبدیلیوں کے آغاز کا ہم انتظار کریں گے اور ہم ہی نہیں ہر ایک انسان کو انتظار کرنا ہوگا کہ شاید تاریخ کی مہنگی ترین مختصر ملاقات سے کچھ حاصل ہوسکے اور سچ ہے جب کسی ایک مذاکرات پر ہونے والاخرچ بہت زیادہ ہو تو انسان کو اس کے نتیجہ کے سلسلہ سے حساس تو ہونا ہی چاہیے ،جیسا کہ بتایا جا رہا ہے ڈونلڈ ٹرمپ اور کم جونگ ان کے درمیان ہونے والے مذاکرات پرتقریباً دو کروڑ ڈالر کا خرچ آیا ہے۔ اب اس دو کروڑ ڈالر کے خرچ سے کچھ تو نتیجہ نکلنا ہی چاہیے ۔ فی الحال میڈیا کے ذریعہ جو خبریں آ رہی ہیں اس میں تو ایسا لگتا ہے کہ دو کروڑ ڈالر کے خرچ سے میڈیا کو تو خوب خوب مزہ آیا ہے کہ اعلیٰ حکام کے مطابق زیادہ تراخراجات سیکیورٹی اور تین ہزار سے زائد صحافیوں کی میزبانی پرآئے ہیں ان مذاکرات کے دوررس نتائج جو بھی ہوں لیکن عملی طور پر ایسے اشارے نہیں مل سکے ہیں جن سے اندازہ ہو سکے کہ ماضی میں مذاکرات کے بعد ان پر خط بطلان کھینچنے والی دونوں ہی حکومتیں کیا ان مذاکرات پر خرچ ہونے والی رقم کے بدلے دنیا کو امن کی کوئی نوید دیں گی ۔ امریکہ نے کس قدر اپنے معاہدوں اور مذاکرات کا پاس و لحاظ رکھا ہے یہ تو سب جانتے ہی ہیں اسکی ایک تازہ مثال ایران کے ساتھ ہونے والا جوہری معاہدہ ہے جس سے باہر ہو کر امریکہ نے واضح کر دیا ہے کہ اس پر کس قدر یقین کیا جاسکتا ہے لیکن کیا شمالی کوریا اس سے قبل اپنے معاہدوں پر ثابت قدم رہا ہے یا پھر اس نے اپنے مفادات کے تحفظ کی خاطر وہی کیا ہے جو بڑے بڑے ماہر میدان سیاست کے کھلاڑی کرتے ہیں اس پر ذرا نظر ڈالتے ہیں :

۱۹۹۲ میں شمالی کوریا نے جوہری ہتھیار تیار نہ کرنے اور ان کا تجربہ نہ کرنے کا معاہدہ کیا تھا
۱۹۹۴ میں اس نے کہا تھا کہ وہ امداد کے عوض پلوٹونیم ہتھیاروں کا پروگرام منجمد کر دے گا
۲۰۰۵ میں اس نے کہا تھا کہ وہ تمام جوہری ہتھیار تلف کر دے گا اور اپنا موجودہ جوہری پروگرام بھی ترک کر دے گا۔

یہ وہ معاہدے ہیں جو اس سے پیشتر ہوئے ہیں لیکن اب انکا کچھ اتا پتہ نہیں ہے اور یہ بات مغربی میڈیا میں گشت کر رہی ہے کہ شمالی کوریا نے ماضی میں جو معاہدے کیے ہیں ان سے وہ بعد میں پھر گیا ہے ۔ نہیں معلوم یہ مغربی میڈیا کی خبریں جھوٹی ہیں یا سچی اسکی صداقت اور اسکے کذب کے لئے تاریخی دستاویز کی ضرورت ہے جو کسی کے پاس ہوں نہ ہوں ٹرمپ کے پاس ضرور محفوظ ہوں گی ،اب سوال یہ ہے کہ اتنا سب ہونے کے بعد اگر دونوں ملک ایک مذاکرات کے ٹیبل پر آئے ہیں تو دونوں ہی کے ذہن میں دنیا کے موجودہ منظر نامہ کو لیکر کچھ نہ کچھ چل رہا ہے وہ کیا ہے اس کو آنے والاوقت بتائے گا کہ کس کے ذہن میں کیا تھا ۔البتہ فی الحال آگ و قہر کی بارش سے نازل ہونے والے اس مذاکرات کے ٹیبل کی تصویر شاید ان دو باتوں سے واضح ہو سکے ۔ایک طرف سی وی آئی ڈی (CVID) کے نام کی گونج ہے جس کے بموجب شمالی کوریا کا خود کو مکمل، قابل تصدیق اور ناقابل تنسیخ انداز میں غیر جوہری بنانا یا ’ڈی نیوکلیئرائز‘ کرنا ہے۔ جسکو لیکر امریکی صدر کا یہ جملہ بہت کچھ کہہ رہا ہے ’’انہیں (شمالی کوریا کو) خود کو غیر جوہری بنانا ہی ہو گا۔ اگر وہ ایسا نہیں کرتے، تو یہ بات ناقابل قبول ہو گی۔‘‘ اسی کے مقابل یہ بھی قابل غور ہے کہ اس ملاقات کے موقع پر ایک صحافی نے جب کم جونگ ان سے سوال کیا کہ کیا آپ جوہری ہتھیار تلف کریں گے؟ اس سوال پر شمالی کوریا کے سربراہ نے کوئی جواب نہیں دیا ۔کم جونگ کا اسی مسئلہ پر خاموش رہنا جس پر ٹرمپ کی تاکید ہے اپنے آپ میں یہ بتارہا ہے کہ ارسطو کی محفل میں دانا کون ہے اور نادان کون؟ اب یہ وقت بتائے گا کہ آگ و قہر کی بارش سے نازل ہونے والے مذاکرات کی شبنم کتنی دیر تک سنگا پور کے جزیرہ سینٹوسا کے کیپیلا ہوٹل میں محفوظ رہتی ہے۔بشکریہ ابنا نیوز

یہ بھی دیکھیں

فلسطینی اتھارٹی کے کلیدی عہدے من پسند افراد کے لیے کیوں؟

فلسطینی اخبارات میں آئے روز خبریں شائع ہوتی رہتی ہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کے فلاں ...