پیر , 18 جون 2018

افغان سفیر دل کی بات لبوں پر لے ہی آئے

اسلام آباد میں متعین افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کا کہنا ہے کہ افغانستان پشتون تحفظ موومنٹ یعنی پی ٹی ایم کی حمایت کرتا ہے اور شدت پسندی کیخلاف ایسی ہی آواز اگر پنجاب، سندھ یا پاکستان کے باہر سے بھی اُٹھتی تو کابل اس کے بھی ہم آواز ہوتا کیونکہ افغان عوام شدت پسندی سے تنگ آچکے ہیں۔اسلام آباد میں متعین افغان سفیر نے پشتون تحفظ موومنٹ کے حوالے سے دل کی بات بالآخر زبان پر لاہی دی ہے جس سے پاک فوج کے ترجمان کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ پی ٹی ایم کی ڈور ہلانے والوں میں پڑوسی ملک افغانستان بھی شامل ہے۔ پی ٹی ایم کے حوالے سے افغان سفیر کا استدلال کسی طور قابل قبول اسلئے نہیں کہ پی ٹی ایم شدت پسندی کیخلاف نہیں ملکی اداروں کیخلاف بات کرتی ہے اور ان پر الزامات لگاتی ہے۔ افغان سفیر اگر اسے شدت پسندی سمجھتے ہیں تو پھر اس کا جو سیدھا سادہ مطلب نکلتا ہے اس کا جائزہ لیکر پھر پاکستان کو بھی افغانستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے جس کے تحت چونکہ افغان طالبان بیرونی استعمار اور خارجی عناصر کیخلاف جدوجہد میں مصروف ہیں اسلئے ان کے حوالے سے پاکستان کو اپنی آراء کا ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ افغان سفیر نے اپنے انٹرویو میں حمایت اور مدد میں فرق ہونے کا اظہار تکلفاً ہی کیا ہے وگرنہ جس کی حمایت کی جائے اور جس کے مقصد سے اتفاق ہو اس کی مدد ونصرت اصول کی بات ہے۔ بہرحال چونکہ افغان سفیر کسی مالی مدد سے انکاری ہیں اسلئے ان کی حمایت ہی کا جائزہ لیا جانا چاہئے کہ ان کی حمایت کی حدود کیا ہیں اور کس حد تک ان کے روابط ہیں۔ اس انٹرویو کے بعد کم ازکم یہ ابہام تو دور ہونا چاہئے کہ پی ٹی ایم کو افغانستان کی تائید وحمایت حاصل ہے اور ان کی سرگرمیوں سے افغان حکام کو اتفاق ہے۔

اگر پاکستان میں فوج اور حکومت کیلئے مشکلات پیدا کرنیوالے عناصر کی افغانستان کی حمایت روا ہے تو پھر افغانستان پاکستان پر حقانی نیٹ ورک کے حوالے سے آئے روز جھوٹا الزام لگانے اور واشنگٹن سے چغلی کا وتیرہ کیوں اختیار کر رکھا ہے حالانکہ پاکستان نے کبھی حقانی نیٹ ورک کی تائید وحمایت کا اظہار نہیں کیا بلکہ اس نیٹ ورک کیخلاف سخت کارروائیوں کے نتیجے میں سارا نیٹ ورک ہی افغانستان منتقل ہوچکا ہے۔ افغان سفیر کے اس واضح بیان کے بعد پاکستان کو افغانستان میں ان عناصر کی حمایت کا اعلان کر دینا چاہئے جو افغانستان میں اپنی الگ شناخت، زبان، تہذیب اور ثقافت رکھتے ہوں اور ان کے مطالبات کی تائید وحمایت کی ضرورت ہے۔ تاہم ہم سمجھتے ہیں کہ یہ دونوں ملکوں کے مفاد میں ہرگز نہیں کہ وہ ایک دوسرے کے ممالک میں اس قسم کے عناصر کے حوالے سے کسی ایسے کام میں ملوث ہوں جس سے پڑوسی حکومت مشکلات سے دوچار ہو جائے اور ان قوتوں کو اخلاقی مدد ملے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان سفیر اور پی ٹی ایم کا مشترکہ درد وہ نہیں جس کا وہ اظہار کرتے ہیں بلکہ ان کا مشترکہ درد سرحد پر باڑ لگا کر پاک افغان سرحد کو واضح کرنا ہے۔

اس ضمن میں افغان حکومت جس تاریخی موقف کا اظہار کرتے ہیں اس کی کوئی تاریخی اور زمینی حقیقت نہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کسی طرح بھی نرم سرحد اور آمد ورفت کی کھلی آزادی اب ممکن نہیں، اس ضمن میں پاکستان نے جو اقدامات اُٹھائے ہیں وہ سوچ بچار اور اپنے علاقے، عوام اور اپنی سرزمین کے تحفظ کیلئے ضروری ہیں۔ یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ پاک افغان سرحد پر جوں جوں باڑ اور حفاظتی اقدامات میں اضافہ سامنے آتا رہا اسی نسبت سے پاکستان میں امن وامان کی صورتحال میں بہتری آتی گئی۔ دہشتگردی کے واقعات اب نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی بڑی وجہ سفری دستاویزات کی پابندی کرانا ہے۔ ان کا یہ موقف بالکل لغو ہے کہ ایسا کرنے کا اختیار حکومت کے پاس نہیں بلکہ عوام کے پاس ہے۔

اگر بالفرض محال ان کے موقف کو درست بھی تسلیم کیا جائے تو پاکستانی سرحدی علاقوں سمیت کسی بھی پاکستانی کو پسماندہ افغانستان میں کوئی دلچپسی نہیں اور نہ ہو سکتی ہے، البتہ اب بھی لاکھوں افغان مہاجر ین پاکستان میں بستے ہیں اور افغانستان واپس جانے پر تیار نہیں۔ کابل اور دہلی کے درمیان اگر قربت دو ممالک کے درمیان باہم تعلقات کی حد تک ہوں تو اس پر کسی کو معترض نہیں ہونا چاہئے لیکن باہم گٹھ جوڑ اور سازش سے کسی دوسرے ملک میں اپنے حامی پیدا کرنے کی کسی کو اجازت نہیں مل سکتی۔ بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو کے مندرجات کے حوالے سے دفتر خارجہ کو افغان سفیر کو بلاکر وضاحت طلب کرنی چاہئے اور ان کو پاکستان میں ایسے عناصر کی حمایت سے باز رہنے کا کہا جائے جس سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات متاثر ہوسکتے ہوں۔ افغان سفیر اگر ان عناصر کا غم کھانے کی بجائے اپنے ہموطنوں کی وطن واپسی اور افغانستان کے مسئلے کے حل کیلئے اپنے سفارتی کردار پر توجہ دیں تو زیادہ بہتر ہوگا۔بشکریہ مشر ق نیوز

یہ بھی دیکھیں

فتنوں کے دور میں اتحاد کی درست نہج

(ڈاکٹر شفقت شیرازی) ہم فتنوں کے دور میں جی رہے ہیں اور اس دور میں ...