پیر , 18 جون 2018

امارات کی ’’ملاوٹ‘‘ والی فوج

(تسنیم خیالی)
اماراتیوں کا شمار دنیا کے ڈرپوک اور بزدل ترین لوگوں میں کیا جائے تو بے جا نہیں اس حقیقت کا اندازہ آپ یمن میں موجود اماراتی افواج کی صورت حال کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں، اماراتی افواج انصار اللہ کے جوانوں کے آگے انتہائی کمزور اور خوفزدہ ہے اور اکثر وہ اپنا جنگی سازوسامان یمنیوں کے آگے چھوڑ کر میدان جنگ سے فرار ہوجاتے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے اماراتی حکام نے اپنی افواج کو بہتر بنانے کیلئے اس میں ’’ملاوٹ‘‘ شروع کردی ہے۔

اس حوالے سے انٹیلی جنس معاملات پر گہری نظر رکھنے والے ’’انٹیلی جنس آن لائن ‘‘ نامی فرانسیسی رسالے نے انکشاف کیا ہے امارات نے اپنی افواج کی کارکردگی بہتر کرنے کیلئے امریکی فوجیوں کی خدمات حاصل کرلیں ہیں، رسالے کے مطابق’’ المعرفۃ الدولیہ‘‘ نامی اماراتی ادارے نے اس مقصد کیلئے امریکی وزارت دفاع پنٹاگن کے سابقہ ریٹائرڈ فوجی آفیسرز کی خدمات حاصل کی ہیں، مثال کے طور پر ریٹائرڈ امریکی جرنیل ’’جیمز چیمبرز‘‘اماراتی ادارے کا حصہ بن چکے ہیں جو اماراتی افواج کی کارگردگی بہتر بنانے کیلئے کام کررہے ہیں، چیمبرز کے علاوہ اماراتی ادارے نے ایسے ریٹائرڈ امریکی فوجیوں کی خدمات حاصل کیں ہیں جو عراق اور افغانستان میںجنگ لڑچکے ہیں جن میں کرنل لوماریش، رسالے کا یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ عراق میں امریکی زمینی افواج کے سابق نائب کمانڈر ’’ویلم ویسبڑ‘‘ بھی اماراتی افواج سے منسلک ہوگئے ہیں ، علاوہ ازین اماراتی امریکی ریٹائرڈ میجر جنرل مارک بینڈیکٹ کی بھی خدمات حاصل کرنے کی کوشش میں ہے۔

اماراتی افواج اس قابل ہے ہی نہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی کوئی جنگ اپنے بل بوتے پر لڑ سکے اسے ہمیشہ بیرونی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے، ایسا صرف فوج کے شعبے میں نہیں، امارات میں زندگی کے ہرشعبے میں اماراتی نالائق اور نکمے ہوتے ہیں کسی شعبے میں بھی وہ کامیاب نہیں ، یہی حال تقریباً جزیرہ نما عرب کی سبھی ریاستوں کا ہے، خلیجیوں کے پاس بے تحاشہ دولت موجود ہے، جدید ترین وسائل موجود ہیں البتہ عقل اور حوصلے کی شدید کمی ہے اب آپ خود ہی اندازہ لگائیں کہ اماراتی یا پھر سعودی افواج یمن کی سرزمین پر کسی قسم کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور یمنیوں نے انکا کیا حال کیا ہوگا؟

یہ بھی دیکھیں

عید اور جون کا مہینہ

(شین شوکت) جون کے وسط میں سورج کی عمودی کرنیں کرہ ارض کے خط استواء ...