منگل , 21 اگست 2018

کیا گیارہ ہزار کافی نہیں؟

(تسنیم خیالی)
مارچ 2015ء کے اواخر میں شروع ہونےوالی یمن جنگ کو دور حاضر کی بدترین جارحیت قرار دیا جائے تو بے جا نہ ہوگا، اس جارحیت میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے انسانی حقوق کی پامالی کے تمام ریکارڈ ز توڑ ڈالے ہیں، 3سالوں سے بھی زائد عرصے سے جاری اس جنگ میں سعودی اتحاد نےبے گناہ اور نہتے شہریوں کو ہی مارا، اور صرف یمن کے انفرسٹریکچر کو تباہ کرنے کے درپے ہے، یمنی وزارت صحت نے حال ہی میں اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ یمن پر جاری جارحیت میں اب تک 11ہزار افراد شہید ہوچکے ہیں جن میں 2230 بچے اور 1698 خواتین ہیں، جبکہ 22ہزار 215 افراد زخمی ہوئے ہیں جن 3248 بچے اور 2645 خواتین شامل ہیں،رپورٹ کے مطابق جنگ کی وجہ سے معذور ہونے والے افراد کی تعداد 2081 ہے۔

یمنی وزیر صحت ’’ڈاکٹر طہٰ المتوکل‘‘ کا مزید کہنا ہے کہ یمن کو درپیش مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ یہ کہ سعودی عرب اور اس کے اتحادی اپنی فضائی کارروائیوں میںہسپتالوں کوبھی نشانہ بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے امدادی وطبی کارروائیوں میں شدید مشکلات پیدا ہورہی ہیں، ان کے مطابق سعودی اتحاد نے اب تک مجموعی طور پر 400 سے زائد چھوٹے بڑے ہسپتالزاور کلینکس تباہ کردیے ہیں، 11 ہزار افراد کا شہید ہونا انتہائی افسوس ناک اور دلخراش حقیقت ہے، خاص طور پر کہ شہید ہونے والے افراد نہتے عام شہری ہیں، 11ہزار افراد مارے گئے مگر سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی یمنی خون کی پیاس اب تک نہیں بجھی ، وہ اس جنگ کو مستقبل قریب میں ختم کرنے کے موڈ میں دکھائی نہیں دے رہے۔

المیہ یہ ہے کہ یمنی عوام کے اس قتل عام کو روکنے کیلئے عالمی تنظیمیں کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہیں، بالخصوص اسلامی تعاون تنظیم ’’او آئی سی‘‘ میں تو یمن کا ذکر ہی نہیں ہوتا، ترکی اس وقت ’’او آئی سی‘‘ کی سربراہی کررہا ہے البتہ ترک صدر رجب طیب اردگان کویہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ سعودی عرب اور امارات کو یمن جنگ ختم کرنے کا کہہ سکے،3سال کی مدت میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں نے 11 ہزار یمنی ماردیے، ارے! اتنے تو اسرائیلیوں نے بھی 3سالوں میں فلسطینی نہیں مارے اس بات سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں مسلمان کی قتل وغارت کےلیے کسی غیر مسلم کی ضرورت نہیں یہاں مسلمان ہی مسلمان کو قتل کررہا ہے، کیا یہ قتل وغارت گری جاری رہے گی؟کیا یمنیوں کی نصرت کیلئے کوئی میدان میں اترےگا؟

یہ بھی دیکھیں

عربی نیٹو، ممکن یا ناممکن؟

(تحریر: بہارہ سلطان پور) مصر کے شہر شرم الشیخ میں منعقدہ عرب لیگ کے 26 ...