پیر , 18 جون 2018

کشمیر کا تنازع طاقت سے حل نہیں ہوسکتا، بھارتی آرمی چیف

سری نگر (مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے اعتراف کیا ہے کہ کشمیر کا تنازع طاقت سے حل نہیں ہوسکتا، اسی لیے مقبوضہ وادی میں امن کو ایک موقع دینا چاہیے۔بھارتی روزنامہ اکنامک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کشمیر میں جاری شورش کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتے ہیں۔

اکانمک ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے بپن راوت کا کہنا تھا کہ مذاکرات ضرور ہونے چاہیئں، کیونکہ مسئلہ ایسا ہے کہ مقامی افراد علیحدگی پسندوں کے ساتھ شامل ہورہے ہیں، ہم جتنے کشمیریوں کو مارتے ہیں، اس سے کئی زیادہ ان گروہوں کا حصہ بن جاتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ مقامی لوگوں کو عسکری جدوجہد کرنے والوں کے ساتھ شامل ہونے سے نہیں روکا جاسکتا، اسی لیے ‘امن کو ایک موقع دیکر دیکھا جائے’۔بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نوجوان کو ‘انسانی ڈھال’ کے طور پر اپنی جیپ کے آگے باندھنے والے بھارتی فوج کے میجر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جنرل بپن راوت کا کہنا تھا کہ میں نے اس حوالے سے اپنا سخت بیان دیا تھا کہ اگر بھارتی فوج کے میجر قصور وار پائے گئے تو انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔

کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی رپورٹ کے مطابق بھارتی فورسز کی فائرنگ سے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں 2 افراد شہید ہوگئے۔کے ایم ایس کے مطابق ضلع بندی پور کے علاقے پنار میں بھارتی فورس کے آپریشن میں کشمیریوں کو شہید کیا گیا۔

مذکورہ آپریشن 6 روز سے جاری ہے، جبکہ قبلِ ازیں اسی علاقے میں بھارتی فورس پر حملہ بھی ہوا تھا۔یاد رہے کہ 10 جون کو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں بھارتی فوجیوں کی فائرنگ سے ضلع کپواڑہ میں 6 کشمیری نوجوان جاں بحق ہوگئے تھے۔

خیال رہے کہ 1989 سے متعدد مسلح گروپ بھارتی فوج اور ہمالیہ کے علاقوں میں تعینات پولیس سے لڑتے آئے ہیں اور وہ پاکستان سے انضمام یا کشمیر کی آزادی چاہتے ہیں۔اس لڑائی کے دوران اب تک ہزاروں لوگ مارے جاچکے ہیں، جس میں زیادہ تر عام شہری ہیں۔

یہ بھی دیکھیں

نیو جرسی: آرٹ فیسٹیول کے دوران گولیاں چل گئیں، 22 افراد زخمی

نیو جرسی(مانیٹرنگ ڈیسک) نیو جرسی میں آرٹ فیسٹیول کے دوران گولیاں چلنے سے بیس افراد ...